صحابہ کرام ؓ کا ذکر
آہستہ آواز سے ذکر کرنا اور بلند آواز سے ذکر کرنا
حضرت عائشہؓفرماتی ہیں: حضورﷺ بتاتے تھے کہ جس نماز کے لیے مِسواک کی جاتی ہے، اُسے اُس نماز پر ستّر گنا فضیلت حاصل ہے جس کے لیے مسواک نہ کی جائے۔اور آپ نے یہ بھی فرمایا: ذکر خفی جسے کوئی نہ سنے اُسے (بلند آواز والے ذکر پر) ستّر گنا فضیلت حاصل ہے۔ اور فرماتے تھے: جب قیامت کا دن آئے گا اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کے حساب کے لیے جمع کریں گے اور لکھنے والے فرشتے اپنے لکھے ہوئے دفتر لے کر آئیں گے، تو اللہ تعالیٰ ان فرشتوں سے فرمائیں گے: کیا اس بندے کا کوئی عمل لکھنے سے رہ گیا ہے؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے ربّ! ہمیں اس کے جس عمل کا پتا چلا وہ ہم نے ضرور لکھا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس بندے سے کہیں گے: تیرا ایک چھپا ہوا عمل میرے پاس ہے جسے تو بھی نہیں جانتا اور میں تجھے اس کا بدلہ دوں گا اور وہ ہے ذکرِ خفی یعنی آہستہ آواز سے ذکر کرنا۔1
حضرت جابرؓ فرماتے ہیں: ہم نے جنت البقیع میں آگ کی روشنی دیکھی تو ہم وہاں گئے، تو دیکھا کہ حضورﷺ قبر میں اُترے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں:مجھے یہ آدمی دو۔ چناںچہ انھوں نے قبر کے پاؤں کی طرف سے وہ جنازہ دیا، میں نے دیکھا تو یہ وہ صحابی تھے جو اونچی آواز سے ذکرکیا کرتے تھے۔2
حضرت ابنِ اسحاق کہتے ہیں: مجھے حضرت محمد بن ابراہیم تَیْمی نے یہ قصہ سنایا کہ حضرت عبداللہ ؓ قبیلہ مُزیْنہ کے آدمی تھے اور وہ ذُوالبِجادَیْن یعنی دو چادر والے کہلاتے تھے۔ وہ یتیم تھے اور اپنے چچا کی تربیت میں تھے اور وہ چچا ان کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتا تھا۔ ان کے چچا کو یہ خبر ملی کہ حضرت عبداللہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ اس نے جو کچھ حضرت عبداللہ کو دے رکھا تھا وہ سب ان سے چھین لیا اور انھیں بالکل ننگا کرکے نکال دیا۔ وہ اپنی والدہ کے پاس آئے تو اس نے اپنی ایک دھاری دار چادر کے دو ٹکڑے کرکے انھیں دیے۔ انھوں نے ایک ٹکڑے کو لُنگی بناکر باندھ لیا اور دوسرے کو اوڑھ لیا۔ پھر وہ حضورﷺ کی خدمت میں آگئے۔ حضورﷺ نے فرمایا: آج سے تم عبداللہ ذُوالبِجادَیْن ہو اور تم میرے دروازے پر پڑجائو۔ چناںچہ وہ حضورﷺ کے دروازے پر پڑ گئے اور وہ اونچی آواز سے ذکر کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا:کیا یہ ریاکار ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، یہ تو آہیں بھر کر رونے والوں میں سے ایک ہے۔
حضرت تیمی فرماتے ہیں: حضرت ابنِ مسعود ؓ بیان کیا کرتے تھے کہ میں غزوۂ تبوک میں ایک دفعہ آدھی رات کو کھڑاہواتو میں نے لشکر کے ایک کونے میں آگ جلتی ہوئی دیکھی۔ میں وہاں گیا تو دیکھا حضورﷺ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ تشریف فرما ہیں اور حضرت عبداللہ ذُوالبِجادَینؓ کا انتقال ہوچکا ہے اور لوگ ان کی قبر کھود چکے ہیں اور حضور ﷺ اُن کی قبر میں اُترے ہوئے ہیں۔ جب ہم انھیں دفن کرچکے تو حضورﷺ نے فرمایا: اے اللہ! میں اس سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا۔ 1
حضرت عُقبَہ بن عامر ؓ فرماتے ہیں: ایک آدمی جنھیں ذُوالبِجادَین کہا جاتا تھا ان کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بے شک یہ آہیں بھر کر رونے والا ہے۔ اور یہ اس وجہ سے فرمایا کہ وہ تلاوتِ قرآن، دعا اور اللہ کا ذکر کثرت سے اونچی آواز سے کیا کرتے تھے۔2