صحابہ کرام ؓ کا ذکر

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کے اَذکار

حضرت ابوسعید خُدری ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: باقیاتِ صالحات کثرت سے پڑھاکرو۔ صحابہ ؓ نے پوچھا: باقیاتِ صالحات کیا چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہنا۔5 حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنی حفاظت کا سامان لے لو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا کوئی دشمن آگیاہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، آگ سے حفاظت کا سامان لے لو اور سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ کہا کرو، کیوںکہ یہ کلمات تم سے آگے جاکر آخرت میں کام آئیں گے اور تمہارے اچھے انجام کا سبب بنیںگے اور یہی وہ اعمالِ صالحہ ہیں جن کا ثواب باقی رہتاہے۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ یہ نجات دینے والے کلمات ہیں۔ اور’’اَوسط‘‘ میں طبرانی کی روایت میں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کا اضافہ بھی ہے۔1 حضرت عمران بن حُصَین ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ روزانہ اُحد پہاڑ کے برابر عمل کرلیاکرو؟ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کون روزانہ اُحد پہاڑکے برابر عمل کرسکتاہے؟ آپ نے فرمایا: تم سب کرسکتے ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیسے؟ آپ نے فرمایا: سُبْحَانَ اللّٰہِ کہنا اُحد سے بڑاہے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہنا اُحد سے بڑاہے اور لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ کہنا اُحد سے بڑاہے اور اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہنا اُحد سے بڑاہے۔2 حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں:میں پودا لگا رہاتھا کہ اتنے میں حضورﷺ میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے ابوہریرہ! کیا لگارہے ہو؟ میں نے عرض کیا: پودا لگا رہا ہوں۔ فرمایا: کیا میں تمھیں اس سے بہتر پودا نہ بتادوں؟ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ ان میں سے ہر کلمہ کے بدلے جنت میں ایک درخت لگ جائے گا۔ 1 حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: جب تم جنت کے باغوں پر گزرو تو خوب چَرو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جنت کے باغ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: مسجدیں۔ میں نے عرض کیا: ان میں چَرنے کی کیا صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُکہنا۔2 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ نے ایک ٹہنی پکڑ کر اسے ہلایا تاکہ اس کے پتے گریں لیکن کوئی پتّہ نہ گرا۔ آپ نے اسے پھر ہلایا تو پھربھی کوئی پتّہ نہ گرا۔ آپ نے تیسری مرتبہ ہلایا تو پھر پتّے گرنے لگے، اس پر حضورﷺ نے فرمایا:سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ کہنے سے گناہ ایسے گرجاتے ہیں جیسے درخت سے پتّے۔3 حضرت سعد بن اَبی وقاص ؓ فرماتے ہیں: ایک دیہاتی نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ آپ مجھے ایسا کلام بتادیں جسے میں پڑھتا رہوں۔ آپ نے فرمایا: تم یہ پڑھاکرو: لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، اللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحِکِیْمِ۔ اس نے کہا: یہ تمام کلمات تو میرے ربّ کی تعریف کے ہوگئے میرے لیے کیاہے؟ آپ نے فرمایا: تم یہ دعا مانگاکرو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَارْحَمْنِيْ وَاھْدِنِيْ وَارْزُقْنِيْ۔ اے اللہ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحمت فرما، مجھے ہدایت عطافرما اور مجھے رزق نصیب فرما۔ حضرت ابومالک اَشجعی کی روایت میں ’’وَعَافِنِيْ‘‘ (مجھے عافیت نصیب فرما ) بھی ہے۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ اس دعامیں تمہاری دنیا اور آخرت دونوں آگئیں۔1 حضرت ابنِ اَبی اَوفیٰ ؓ فرماتے ہیں: ایک دیہاتی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے قرآن سیکھنے کی بہت کوشش کی لیکن سیکھ نہ سکا۔ اب آپ مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیں جو قرآن کی جگہ بھی ہوجائے۔ آپ نے فرمایا: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ پڑھاکرو۔ اس نے انگلیوں پر گنتے ہوئے یہ کلمات کہے اور پھر عرض کیا: یارسول اللہ! یہ سارے کلمات تو میرے ربّ کی تعریف کے ہوگئے خود میرے لیے کیا ہوا؟ آپ نے فرمایا: تم یہ دعامانگاکرو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَارْحَمْنِيْ وَعَافِنِيْ وَارْزُقْنِيْ وَاھْدِنِيْ۔یہ سن کر وہ دیہاتی چل دیا۔ آپ نے فرمایا: یہ دیہاتی دونوں ہاتھوں کو خیر سے بھر کر جا رہا ہے۔ ’’بیہقی‘‘ کی روایت میں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ بھی ہے۔ 2 حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: کیا میں تجھے وہ کلام نہ بتائوں جو اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ میں نے عرض کیا: مجھے وہ کلام ضرور بتائیں جو اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے۔ فرمایا: اللہ کو سب سے زیادہ پسند کلام سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ ہے۔ 3 ترمذی کی روایت میں سُبْحَانَ رَبِيْ وَبِحَمْدِہٖہے۔ مسلم کی ایک روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ سے پوچھا گیا: کون سا کلام سب سے اَفضل ہے؟ فرمایا: وہ کلام جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے لیے یا اپنے بندوں کے لیے چنا اور وہ ہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ۔ حضرت ابوطلحہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: جو آدمی لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے گا وہ جنت میں ضرور داخل ہوگا۔ یا فرمایا:جنت اس کے لیے واجب ہوجائے گی۔ اور جو آدمی سو مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ کہے گا اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا: پھر تو ہم میں سے کوئی بھی ہلاک نہ ہوگا۔ آپ نے فرمایا: ہاں، لیکن بات یہ ہے کہ آدمی اتنی نیکیاں لے کر آئے گا کہ کسی پہاڑ پر رکھ دی جائیں تو وہ پہاڑ دب جائے، لیکن پھر نعمتیں آئیں گی اور ان کے بدلہ میں وہ نیکیاں سب ختم ہوجائیںگی۔ اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ ہی اپنی رحمت اور فضل سے دست گیری فرمائیں گے۔1 حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ حضورﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ روزانہ ایک ہزار نیکیاں کمانے سے عاجز ہو؟ پاس بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک صاحب نے پوچھا کہ ہم کس طرح ایک ہزار نیکیاں کماسکتے ہیں؟ فرمایا: آدمی سودفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہے تو اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی یا اس کی ہزار خطائیں گرادی جائیں گی۔ ’’ترغیب‘‘ میں ہے کہ مسلم کی روایت میں تو ’’أَوْ‘‘ ہے جس کا ترجمہ ’’یا‘‘ لکھاگیاہے، لیکن ترمذی اور نسائی کی روایت میں واؤ ہے جس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ اور اس کی ہزار خطائیں گرادی جائیں گی۔ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ۔2 حضرت قیس بن سعد بن عُبادہ ؓ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں خدمت کرنے کے لیے پیش کیا۔ ایک دن حضورﷺ میرے پاس تشریف لائے میں دورکعت نماز پڑھ کر بیٹھاہواتھا، آپ نے مجھے پائوں مبارک مار کر فرمایا: کیا میں تمھیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتادوں؟ میں نے کہا: ضرور بتائیں۔ فرمایا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہ ِ۔ برائیوں سے بچنے کی طاقت اور نیکیاں کرنے کی قوت صرف اللہ ہی سے ملتی ہے۔ 3 حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے پیچھے چل رہاتھا کہ اتنے میں آپ نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! کیا میں تمھیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ بتائوں؟ میں نے کہا: ضرور بتائیں۔ فرمایا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔1 حضرت عبد اللہ بن سعد بن اَبی وقاصؓ فرماتے ہیں: مجھ سے حضرت ابو اَیوب انصاری ؓ نے فرمایا: کیا میں تمھیں ایسا کلمہ نہ سکھادوں جو مجھے حضورﷺ نے سکھایاتھا؟ میں نے کہا: اے چچا جان! ضرور سکھائیں۔ فرمایا: جب حضورﷺ میرے مہمان بنے تھے تو ایک دن آپ نے فرمایا: کیا میں تمھیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتادوں؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! ضرور بتادیں۔ فرمایا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کثرت سے پڑھاکرو۔2 حضرت ابو اَیوب انصاری ؓ فرماتے ہیں: معراج کی رات میں حضورﷺ کا حضرت ابراہیم ؑ پر گزر ہوا تو انھوں نے پوچھا: اے جبرئیل! یہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ حضرت جبرئیل ؑنے کہا: یہ حضرت محمد ﷺ ہیں۔ توحضرت ابراہیم ؑنے حضورﷺ سے فرمایا: اے محمد! اپنی اُمّت سے کہنا کہ وہ جنت کے پودے کثرت سے لگائیں، کیوںکہ جنت کی مٹی بہت عمدہ ہے اور وہاں بہت کشادہ زمین ہے۔ حضورﷺ نے پوچھا: جنت کے پودے کیا ہیں؟ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ طبرانی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے مجھے سلام کیا اور مجھے خوش آمدید کہا اور فرمایا: اپنی اُمت سے کہنا۔3 حضرت ابنِ عباس ؓ نے فرمایا: جس نے بِسْمِ اللّٰہِ کہا اس نے اللہ کا ذکر کیا، اور جس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِکہا اس نے اللہ کا شکر ادا کیا،ا ور جس نے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا اس نے اللہ کی عظمت بیان کی، اور جس نے لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ کہا اس نے اللہ کی توحید بیان کی، اور جس نے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہا اس نے فرماں برداری کا اظہار کیا اور اس نے خود کو اللہ کے سپرد کردیا اور اسے جنت میں اس کی وجہ سے رونق اور خزانہ ملے گا۔1 حضرت مُطَرِّف کہتے ہیں: مجھ سے حضرت عمران ؓ نے فرمایا: آج میں تمھیں ایک بات بتاتا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ تمھیں بعد میں نفع دیں گے۔ اور وہ یہ ہے کہ تم یہ بات جان لو کہ قیامت کے دن اللہ کے سب سے بہترین بندے وہ ہوں گے جو (دنیا میں) اللہ کی خوب حمد وثنا کرنے والے ہوں گے۔2 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: سُبْحَانَ اللّٰہِ اور لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ تو ہمیں پتا چل گیا، لیکن اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کیا ہے؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا: یہ ایسا کلمہ ہے جسے اللہ نے اپنے لیے پسند فرمایا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اسے کہا جائے۔3 حضرت ابو ظَبْیان کہتے ہیں: حضرت ابنِ کَوَّاء نے حضرت علی ؓ سے سُبْحَانَ اللّٰہِ کے بارے میں پوچھا تو حضرت علی نے فرمایا: یہ ایسا کلمہ ہے جسے اللہ نے اپنے لیے پسند فرمایاہے اور اس میں ہر بری صفت سے اللہ کی پاکی بیان کرناہے۔4 ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے دو آدمیوں کو مارنے کا حکم دیا تو ان میں سے ایک بِسْمِ اللّٰہِ اور دوسرا سُبْحَانَ اللّٰہِ کہنے لگا۔ حضرت عمر ؓ نے مارنے والے سے کہا: تیرا بھلاہو! سُبْحَانَ اللّٰہِ کہنے والے کی پٹائی ذرا ہلکی کرنا،کیوںکہ اللہ تعالیٰ کا ہر عیب سے پاک ہونا صرف مؤمن ہی کے دل میں پختہ ہوتاہے۔ 5 حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے: جب بھی میں تمھیں کوئی بات بتاتاہوں تو اس کے ساتھ ہی اللہ کی کتاب میں سے وہ آیت ضرور لاتا ہوں جس سے میری اُس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ مسلمان بندہ جب سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ وَتَبَارَکَ اللّٰہُ کہتا ہے تو ایک فرشتہ ان کلمات کو لے کر اپنے پرکے نیچے رکھ لیتاہے، پھر انھیں لے کر اوپر چڑھتاہے تو وہ فرشتوں کی جس جماعت پر بھی گزرتاہے وہ ان کلمات کے کہنے والے کے لیے اِستغفار کرتے ہیں۔ آخر وہ ان کلمات کولے کر اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی تک پہنچ جاتاہے۔ پھر حضرت عبداللہ ؓ نے یہ آیت پڑھی: {اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ}1 اچھا کلام اسی تک پہنچتاہے اور اچھا کام اس کو پہنچاتاہے۔ 2