صحابہ کرام ؓ کا ذکر
دن اور رات میں، سفر اور حضر میں قرآن کی سورتیں پڑھنا
حضرت عُقبہ بن عامر جُہَنیؓ فرماتے ہیں: میری حضورﷺ سے ملاقات ہوئی تو حضورﷺ نے مجھے فرمایا: اے عُقبہ بن عامر! جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے تعلق جوڑو، جو تمھیں محروم رکھے (اور تمھیں نہ دے) تم اسے دو، اور جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کردو۔ اس کے بعد میری حضورﷺ سے پھر ملاقات ہوئی تو مجھ سے فرمایا: اے عُقبہ بن عامر! کیا میں تمھیں چند ایسی سورتیں نہ سکھا دوں کہ ان جیسی سورتیں اللہ نے تورات،زبور،انجیل اور قرآن کسی میں بھی نازل نہیں فرمائیں، اور میں ہررات انھیں ضرور پڑھتاہوں: {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ}، {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} اور {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ}۔ جب سے حضور ﷺ نے مجھے ان سورتوں کے پڑھنے کا حکم دیاہے اس وقت سے میں ہر رات ان کو ضرور پڑھتاہوں اور جب حضورﷺ نے مجھے ان کے پڑھنے کا حکم دیاہے تو مجھ پر واجب ہوگیاہے کہ انھیں نہ چھوڑوں۔3
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ جب رات کو اپنے بستر پر تشریف لاتے تو {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ}اور{قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ } پڑھ کر دونوں ہاتھوں کو ملاکر اپنے اوپر دم کرتے، اور جہاں تک ہوسکتا دونوں ہاتھ سارے جسم پر پھیر تے، اپنے سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے اس کی اِبتدافرماتے، اور اس طرح تین مرتبہ فرماتے۔4
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ جب بستر پر تشریف لاتے تو {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ}، اور مُعَوَّذَتین {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَق} اور {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ} پڑھ کر دونوں ہاتھوں پر دم کرتے اور انھیں چہرے، بازو، سینے اور جسم پر جہاں تک ہاتھ پہنچتے، پھیرتے۔ جب حضور ﷺ کی بیماری بڑھ گئی تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے ساتھ اس طرح کروں۔1
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب تک {الٓمّٓ تَنْزِیْلُ} اور{ تَبٰرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ} دونوں سورتیں پڑھ نہ لیتے نہ سوتے۔ حضرت طاوس کہتے ہیں: یہ دونوں سورتیں قرآن کی ہر سورت پر ستّر نیکیاں زیادہ فضیلت رکھتی ہیں۔2
حضرت عِرباض بن ساریہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ جب بستر پر لیٹتے تو سونے سے پہلے مسبَّحات پڑھتے( یعنی وہ سورتیں پڑھتے جن کے شروع میںسَبَّحَ یا یُسَبِّحُ آتاہے)۔ا ور حضور ﷺ نے فرمایا: ان سورتوں میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے۔3
حضرت عائشہؓفرماتی ہیں کہ جب تک حضورﷺ سورۂ زمر اور سورۂ بنی اِسرائیل پڑھ نہ لیتے سویانہ کرتے۔4
حضرت فَروَہ بن نوفل ؓ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں جسے میں لیٹتے وقت پڑھ لیاکروں۔ آپ نے فرمایا: { قُلْ یٰٓاََیُّھَا الْکـٰـفِرُوْنَ} پڑھاکرو ،کیوںکہ اس سورت میں شرک سے بیزاری ہے۔5
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں: آدمی کے پاس اس کی قبر میں عذاب کے فرشتے آئیںگے۔ وہ پائوں کی طرف سے آئیں گے تو پائوں کہیں گے: تمہارے لیے ہماری طرف سے کوئی راستہ نہیں ہے، کیوںکہ یہ سورۂ ملک پڑھاکرتا تھا۔ پھر وہ سینے کی طرف سے آئیں گے تو سینہ کہے گا: تمہارے لیے میری طرف سے کوئی راستہ نہیں ہے، کیوںکہ یہ سورۂ ملک پڑھا کرتا تھا۔ پھر وہ سرکی طرف سے آئیں گے تو سر کہے گا: تمہارے لیے میری طرف سے کوئی راستہ نہیں ہے، کیوںکہ یہ سورۂ ملک پڑھاکرتاتھا۔ یہ سورت مانع ہے، یہ عذابِ قبر کو روکتی ہے۔ اور تورات میں ہے کہ جس نے کسی رات میں اس سورت کو پڑھا اس نے بہت زیادہ ثواب حاصل کیا اور بہت عمدہ کام کیا۔1
’’نسائی‘‘ میں یہ حدیث مختصر ہے اور ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ جو ہر رات { تَبٰرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ} پڑھے گا اللہ تعالیٰ اسے عذاب قبر سے بچائے گا۔ اور ہم لوگ اسے حضورﷺ کے زمانے میں مانعہ کہا کرتے تھے،یعنی عذابِ قبر کو روکنے والی۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یہ ہے کہ یہ ایسی سورت ہے کہ جو اسے ہر رات پڑھے گا وہ بہت زیادہ ثواب کمانے والا اور بہت عمدہ کام کرنے والا ہوگا۔2
حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا: جو شخص سورۂ بقرہ، سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء کسی رات میں پڑھے گا اسے قَانِتِیْن یعنی فرماں برداروں میں لکھ دیاجائے گا۔3
حضرت جُبَیر بن مُطْعِم ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے جُبَیر! کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ جب تم سفر میں جایا کرو تو تمہاری حالت سب سے اچھی اور تمہارا توشہ سب سے زیادہ ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے فرمایا: تم یہ پانچ سورتیں پڑھاکرو: {قُلْ یٰٓـاَیُّہَا الْکـٰـفِرُوْنَ}، {اِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ}، {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ}، {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}اور {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ}۔ ہر سورت کے شروع میں بھی بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھو اور آخر میں بھی بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھو (اس طرح سورتیں پانچ ہوں گی اور بسم اللہ چھ مرتبہ ہوگی)۔ حضرت جُبَیر ؓ فرماتے ہیں: حالاںکہ میں غنی اور مال دار تھا، لیکن جب میں سفر میں جایاکرتاتھا تو میں سب سے زیادہ خستہ حالت والا اور سب سے کم توشہ والا ہوتا تھا، تو جب مجھے حضور ﷺ نے یہ سورتیں سکھائیں اور میں نے انھیں پڑھنا شروع کیا تو میں سب سے اچھی حالت والا اور سب سے زیادہ توشہ والا ہوگیا، اور پورے سفر میں واپسی تک میرا یہی حال رہتاہے۔1
حضرت عبداللہ بن خُبیب ؓ فرماتے ہیں: ایک رات بہت زیادہ بارش ہوئی تھی اور سخت اندھیرا چھایا ہواتھا۔ ہم لوگ حضورﷺ کو تلاش کرنے نکلے تاکہ آپ ہمیں نماز پڑھادیں۔ آخر آپ ہمیں مل گئے۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: کہو۔ میں نے کچھ نہ کہا۔ آپ نے دوبارہ فرمایا: کہو۔ میں نے کچھ نہ کہا۔ آپ نے تیسری مرتبہ فرمایا:کہو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: صبح اور شام تین مرتبہ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} اور مُعَوَّذَ تین پڑھا کرو، ان کا پڑھنا ہر چیز سے کفایت کرے گا۔2
حضرت علی ؓ نے فرمایا: جو صبح کی نماز کے بعد دس مرتبہ{قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} پڑھے گا، وہ سارادن گناہوں سے محفوظ رہے گا چاہے شیطان کتناہی زور لگائے۔3