صحابہ کرام ؓ کا ذکر
نبی کریم ﷺ کا ذکر کرنے کا شوق
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: میں ایسی جماعت کے ساتھ بیٹھوں جو فجر کی نماز کے بعد سے لے کر سورج نکلنے تک اﷲ کا ذکر کرتی رہے، یہ مجھے اولادِ اسماعیل ؑ میں سے ایسے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے جن میں سے ہر ایک کا خون بَہا بارہ ہزار ہو۔ اور میں ایسی جماعت کے ساتھ بیٹھوں جو عصر کی نماز کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک اﷲکا ذکر کرتی رہے، یہ مجھے اولادِ اسماعیل میں سے ایسے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے جن میں سے ہر ایک کا خون بَہابارہ ہزار ہو۔4
احمد اور ابو یعلیٰ حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: جو عصر پڑھ کر بیٹھ جائے اور شام ہونے تک خیر کی باتوں کا اِملا کرائے، یہ اس آدمی سے افضل ہے جو اولادِ اسماعیل میں سے آٹھ غلام آزاد کرے۔ اور ابو یعلیٰ کی دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: میں ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھوں جو صبح سے لے کر سورج نکلنے تک اﷲکا ذکر کرتے رہیں، یہ مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج نکلتا ہے۔5
حضرت سَہْل بن سعد ساعدیؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: میں صبح کی نماز میں شریک ہوکر سورج نکلنے تک بیٹھ کر اﷲ کا ذکر کرتا رہوں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں سورج نکلنے تک اﷲکے راستہ میں (مجاہدوں کو) عمدہ گھوڑے دیتا رہوں۔1
حضرت عباس بن عبدالمطّلبؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺنے فرمایا: میں صبح کی نماز سے لے کر سورج نکلنے تک (اللہ کے ذکر کے لیے) بیٹھا رہوں، یہ مجھے اولادِ اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ 2
بزار اور طبرانی کی روایت میں یہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں صبح کی نماز پڑھ کر سورج نکلنے تک اﷲکا ذکر کرتا رہوں، یہ مجھے اﷲکے راستے میں سورج نکلنے تک گھوڑا دوڑانے سے زیادہ محبوب ہے۔3
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُکہنا ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج نکلتا ہے۔4
حضرت ابو اُمامہؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: میں(فجر کے بعد) بیٹھ کر سورج نکلنے تک اﷲکا ذکر کرتا رہوں اور اَللّٰہُ أَکْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَلَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ کہتا رہوں، یہ مجھے اولادِ اسماعیل میں سے دو غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ اور عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک یہ کلمات کہتا رہوں، یہ مجھے اولادِ اسماعیل میںسے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔
اور ایک روایت میں یہ ہے کہ میں سورج نکلنے تک اﷲکا ذکر کرتا رہوں اللّٰہُ أَکْبَرُ وَلَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ کہتا رہوں، یہ مجھے اولادِ اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ اور عصر کی نماز سے لے کر سورج ڈوبنے تک اﷲکا ذکر کرنا مجھے اولادِ اسماعیل میں سے اتنے اور اتنے غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔1