صحابہ کرام ؓ کا ایمان
ربّانی عُلما اور برے عُلما
حضرت عبداﷲبن مسعود ؓ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:تم علم کے چشمے، ہدایت کے چراغ، اکثر گھروں میں رہنے والے، رات کے چراغ، نئے دل والے اور پرانے کپڑوں والے بنو۔ آسمان میں پہچانے جاؤ گے اور زمین والوں پر پوشیدہ رہو گے۔2
ابو نُعَیم میں حضرت علیؓکی روایت میں پوشیدہ رہنے کے بجائے یہ الفاظ ہیں کہ ان صفات کی وجہ سے زمین پر بھی ذکرِ خیر ہوگا۔
حضرت وہب بن مُنَبِّہکہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عباس ؓ کو خبر ملی کہ باب بنی سہم کے پاس کچھ لوگ تقدیر کے بارے میں جھگڑرہے ہیں۔ وہ اٹھ کر ان کی طرف چلے اور اپنی چھڑی حضرت عکرمہ کو دی اور اپنا ایک ہاتھ اس چھڑی پر رکھا اور دوسرا ہاتھ حضرت طاؤس پر رکھا۔ جب ان کے پاس پہنچے تو ان لوگوں نے خوش آمدید کہا اور اپنی مجلس میں ان کے بیٹھنے کے لیے جگہ بنائی، لیکن وہ بیٹھے نہیں بلکہ ان سے فرمایا:تم اپنا نسب نامہ بیان کرو تاکہ میں تمھیں پہچان لوں۔ ان سب نے یا ان میں سے کچھ نے اپنا نسب نامہ بیان کیا تو فرمایا: کیا تمھیں معلوم نہیں کہ اﷲ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو گونگے اور بولنے سے عاجز نہیںہیں بلکہ اﷲکے ڈر سے خاموش رہتے ہیں۔ یہی لوگ فصاحت والے، فضیلت والے اور اﷲ تعالیٰ کی قدرت کے واقعات کو جاننے والے عُلما ہیں۔ جب انھیں اﷲکی عظمت کا دھیان آتا ہے تو ان کی عقلیں اُڑجاتی ہیں، ان کے دل شکستہ ہوجاتے ہیںاور ان کی زبانیں بند ہوجاتی ہیں۔ جب ان کو اس کیفیت سے اِفاقہ ہوتا ہے تو وہ پاکیزہ اعمال کے ذریعے سے اﷲکی طرف تیزی سے چلتے ہیں۔ حالاںکہ وہ عقل مند اور طاقت ور ہوںگے، لیکن پھر بھی وہ اپنے آپ کو کوتاہی کرنے والوں میں شمار کریں گے۔ اور اسی طرح وہ نیک اور خطاؤں سے پاک ہوں گے، لیکن اپنے آپ کو ظالم اور خطاکار لوگوں میں شمار کریں گے۔ اور اﷲکے لیے زیادہ(اعمال اور قربانی) کو زیادہ نہیں سمجھیں گے اور اﷲکے لیے کم پر وہ راضی نہیں ہوں گے اور اعمال میں اﷲکے سامنے نخرے نہیں کریں گے۔ تم انھیں جہاں بھی ملوگے وہ اہتمام اور فکر سے چلنے والے، ڈرنے والے اور کپکپانے والے ہوںگے۔ حضرت وہب فرماتے ہیں: یہ باتیں ارشاد فرماکر حضرت ابنِ عباسؓ وہاں سے اٹھے اور اپنی مجلس میں واپس تشریف لے آئے۔1
حضرت ابنِ مسعودؓ نے فرمایا: اگر علم والے علم کی حفاظت کرتے اور جو علم کے اہل ہیں ان ہی کو علم دیتے تو اپنے زمانے والوںکے سردار ہوجاتے،لیکن انھوں نے دنیا والوں کے سامنے اپنا علم رکھ دیا تاکہ اُن کی دنیا میں سے کچھ حاصل کرلیں، اس وجہ سے علم والے دنیا والوں کی نگاہ میں بے قیمت ہوگئے۔ میں نے تمہارے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو تمام فکروں کو ایک فکر یعنی آخرت کی فکر بنادے گا، اﷲتعالیٰ اس کی تمام فکروں کی کفایت فرمائیں گے۔ اور جسے دنیا وی افکار نے پراگندہ کردیا تو اﷲکو بھی اس بات کی پروا نہیں ہوگی کہ وہ دنیا کی کس وادی میں ہلاک ہوگیا۔2
حضرت سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: ہمیں حضرت ابنِ عباسؓ کی طرف سے ان کا یہ ارشاد پہنچا کہ اگر حاملینِ علم علم کو اس کے حق کے ساتھ لیتے اور اس کے مناسب جو آداب ہیں انھیں اختیار کرتے تو اﷲتعالیٰ، اس کے فرشتے اور نیک لوگ ان سے محبت کرتے، اور لوگوں کے دلوں میں ان کی ہیبت ہوتی، لیکن انھوں نے علم کے ذریعے دنیا حاصل کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے وہ اﷲکے ہاں مبغوض بن گئے اور لوگوں کی نگاہ میں بھی بے حیثیت ہوگئے۔1
حضرت ابنِ مسعودؓ نے فرمایا: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم میں ایک زبردست فتنہ اٹھے گا جس میں کم عمر تو بڑھ جائے گا اور زیادہ عمر والا بوڑھا ہوجائے گا اور نئے طریقے ایجاد کرکے اختیار کرلیے جائیں گے اور اگر کسی دن انھیں بدلنے (اور صحیح اور مسنون طریقہ لانے) کی کوشش کی جائے گی تو لوگ کہنے لگیں گے: یہ تو بالکل اجنبی اور اَوپرا طریقہ ہے۔ اس پر لوگوں نے پوچھا: ایسا فتنہ کب ہوگا؟ حضرت ابنِ مسعودؓ نے فرمایا: جب تمہارے امین لوگ کم ہوجائیں گے اور تمہارے اُمرا و حکّام زیادہ ہوجائیں گے اور تمہارے دین کی سمجھ رکھنے والے کم ہوجائیں گے اور تمہارے قرآن پڑھنے والے زیادہ ہوجائیں گے اور دین کے غیر یعنی دنیا کے لیے دینی علم حاصل کیا جائے گا اور آخرت والے عمل سے دنیا طلب کی جائے گی۔2
اور ایک روایت میں یہ ہے کہ نئے طریقے گھڑے جائیں گے جس پر لوگ چلنے لگیں گے اور جب اس میں کچھ تبدیلی کی جانے لگے گی تو وہ لوگ کہیں گے: ہمارا معروف طریقہ بدلا جارہا ہے۔ اور یہ بھی ہے کہ تمہارے دین کی سمجھ رکھنے والے کم ہوجائیں گے اور تمہارے اُمرا وحکّام خزانے بھرنے لگیں گے۔3
حضرت ابو ذرؓ فرماتے ہیں: یہ بات اچھی طرح جان لوکہ یہ احادیث جن میں اصل یہ ہے کہ ان کے ذریعہ سے اﷲکی رضامندی حاصل کی جائے، اگر انھیں کوئی دنیا کا سامان حاصل کرنے کے لیے سیکھے گا تو وہ کبھی جنت کی خوش بو نہیں پاسکے گا۔4
حضرت عمر ؓ نے حضرت کعب (جو کہ تورات کے بھی بڑے عالم تھے) سے پوچھا: جب عُلما علم کو یادکرلیں گے اور اچھی طرح سمجھ لیں گے، تو پھر کون سی چیز ان کے دلوں سے علم کو لے جائے گی؟ حضرت کعب نے کہا: دو چیزیں: ایک تو دنیا کی لالچ، دوسرے لوگوں کے سامنے اپنی حاجتیں لے جانا۔1
ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے ان فتنوں کا ذکر کیا جو آخری زمانہ میں ہوں گے تو حضرت عمر ؓ نے ان سے پوچھا: اے علی! یہ فتنے کب ہوں گے؟ فرمایا: جب غیر دین یعنی دنیا کے لیے دینی علم حاصل کیا جائے گا، اور عمل کے غیر یعنی عزت اور مال کے لیے علم سیکھا جائے گا، اور آخرت کے عمل سے دنیا طلب کی جائے گی۔2
حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں تمہارے بارے میں دو آدمیوں سے ڈرتا ہوں: ایک تو وہ آدمی جو قرآن کی غلط تفسیر کرے گا، اور دوسراوہ آدمی جو ملک کے بارے میں اپنے بھائی سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا۔3
حضرت حسن کہتے ہیں: بصرہ کا وفد حضرت عمرؓ کے پاس آیا، ان میں اَحنف بن قیس بھی تھے۔ اور سب کو تو حضرت عمرنے جانے دیا، لیکن حضرت اَحنف بن قیس کو روک لیا اور انھیں ایک سال روکے رکھا۔ اس کے بعد فرمایا: تمھیں معلوم ہے میں نے تمھیں کیوں روکا تھا؟میں نے اس وجہ سے روکا تھا کہ ہمیں حضورﷺ نے ہر اس منافق سے ڈرایا جو عالمانہ زبان والا ہو، مجھے ڈر ہوا کہ شاید تم بھی ان میں سے ہو لیکن (میں نے ایک سال رکھ کر دیکھ لیا کہ) ان شاء اﷲ تم ان میں سے نہیں ہو۔4
حضرت ابو عثمان نَہدِی کہتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطّابؓ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ اس منافق سے بچو جو عالم ہو۔ لوگوں نے پوچھا:منافق کیسے عالم ہوسکتا ہے؟ فرمایا: بات تو حق کہے گا لیکن عمل منکرات پر کرے گا۔5
حضرت عمر ؓ نے فرمایا: ہم یہ بات کہا کرتے تھے کہ اس اُمّت کو وہ منافق ہلاک کرے گا جو زبان کا عالم ہوگا۔6
حضرت ابو عثمان نَہدِی کہتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطابؓ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس اُمّت پر سب سے زیادہ ڈر اس منافق سے ہے جو عالم ہو۔ لوگوں نے پوچھا: اے امیرالمؤمنین! منافق کیسے عالم ہو سکتا ہے؟ فرمایا: وہ زبان کا تو عالم ہوگا، لیکن دل اور عمل کا جاہل ہوگا۔1
حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں: ایسی جگہوں سے بچو جہاں کھڑے ہونے سے انسان فتنوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ کسی نے پوچھا: اے ابو عبداﷲ! فتنوں کی یہ جگہیں کون سی ہیں؟ فرمایا: اُمرا اور حکّام کے دروازے۔ آدمی کسی حاکم یا گورنر کے پاس جاتا ہے اور غلط بات میں اس کی تصدیق کرتا ہے اور اس کی تعریف میں ایسی خوبیاں ذکر کرتا ہے جو اس میں نہیں ہیں۔
حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں: جیسے اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ میں اونٹ ہوتے ہیں ایسے سلاطین کے دروازوں پر فتنے ہوتے ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! تم ان سلاطین سے جتنی دنیا حاصل کرلوگے وہ سلاطین تمہارے دین میں اتنی کمی کردیں گے یا اس سے دگنی کمی کردیں گے۔2