صحابہ کرام ؓ کا ایمان
سنت کا اِتباع اور سلفِ صالحین کی اِقتدا اور دین میں اپنی طرف سے ایجاد کردہ کام پر انکار
حضرت اُبی بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ تم لوگ (اﷲوالے) صحیح راستہ اور سنت کو لازم پکڑلو، کیوںکہ روئے زمین پر جو بندہ بھی صحیح راستہ پر اور سنت پر ہوگا، پھر وہ اﷲکا ذکرکرے گا اور اس کے ڈر سے اس کی آنکھوں میںآنسو آجائیں گے، تو اسے اﷲتعالیٰ ہر گز عذاب نہیں دیں گے۔ اور روئے زمین پر جو بندہ بھی صحیح راستہ اور سنت پر ہوگا، پھر وہ اپنے دل میں اﷲکو یاد کرے گا اور اﷲ کے ڈر سے اس کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے، تو اس کی مثال اس درخت جیسی ہوجائے گی جس کے پتے سوکھ گئے ہوں اور تیز ہوا چلنے سے اس کے پتے بہت زیادہ گرنے لگیں، تو ایسے ہی اس کے گناہوں کو اﷲتعالیٰ بہت زیادہ گرانے لگ جائیں گے۔ اور اﷲ کے راستے اور سنت پر درمیانی رفتار سے چلنا اس سے بہتر ہے کہ انسان اﷲکے راستہ کے خلاف اور سنت کے خلاف بہت زیادہ محنت کرے۔ اس لیے تم دیکھ لو چاہے تم زیادہ محنت کرو چاہے درمیانی رفتار سے چلو، لیکن تمہارا ہر عمل اَنبیا ؑ کے طریقے اور سنت کے مطابق ہوناچاہیے۔2
حضرت سعید بن مسیّبکہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ جب مدینہ تشریف لائے تو بیان کے لیے کھڑے ہوئے اور اﷲکی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! تمہارے لیے سنتیں جاری ہوچکی ہیں اور فرائض مقرر ہوچکے ہیں، اور تمھیں ایک صاف اور واضح راستہ دے دیا گیا ہے۔ اب تم لوگ ہی اس راستہ سے دائیں بائیں ہٹ کر لوگوں کو گمراہ کردو تو یہ الگ بات ہے۔3
حضرت عبد اﷲ بن مسعودؓ جمعرات کے دن کھڑے ہوکر فرماتے: اصل چیزیںدو ہیں: ایک زندگی گزارنے کا طریقہ اور دوسراکلام۔ سب سے افضل اور سب سے زیادہ سچا کلام اﷲتعالیٰ کا ہے، اور سب سے عمدہ طریقہ حضرت محمد ﷺ کا ہے، اور تمام کاموں میں سب سے برے کام وہ ہیں جو نئے ایجاد کیے جائیں، اور ہر نیا کام (جو قرآن و حدیث سے نہ نکالا گیا ہو وہ) بدعت ہے۔ غور سے سنو! ایسا نہ ہو کہ مدت لمبی ہوجائے اور اس سے تمہارے دل سخت ہوجائیں اور لمبی اُمیدیں تمھیں (آخرت سے)غافل کردیں، کیوںکہ جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہے اور جو آنے والی نہیں ہے وہ دور ہے۔1
حضرت ابنِ مسعودؓنے فرمایا: سنت پر میانہ روی سے چلنا بدعت پر زیادہ محنت کرنے سے اچھا ہے۔2
حضرت عمران بن حصینؓ نے فرمایا: قرآن بھی نازل ہوا اور حضورﷺ نے بھی سنتیں مقرر فرمائیں، پھر حضرت عمرانؓ نے فرمایا: تم لوگ ہمارا اتباع کرو(کیوںکہ ہم نے قرآن و سنت کو پورا اختیار کیا ہوا ہے)، اگر ایسا نہیں کرو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔3
حضرت عمران بن حصینؓ نے ایک آدمی سے کہا: تم احمق ہو، کیا تمھیں اﷲ کی کتاب میں یہ صاف طور سے لکھا ہوا ملتا ہے کہ ظہر کی نماز میں چار رکعتیں ہیں اور اس میں قراء ت اونچی آواز سے نہ کرو؟ پھر حضرت عمرانؓنے باقی نمازوں اور زکوٰۃ وغیرہ کا نام لیا (کہ کیا ان کے تفصیلی اَحکام قرآن میں ہیں؟) کیا تمھیں ان اعمال کی تفصیل اﷲ کی کتاب میں ملتی ہے؟ اﷲکی کتاب میں یہ تمام چیزیں اِجمالاً ذکر ہوئی ہیں اور سنتِ رسول ﷺ نے ان سب کو کھول کر تفصیل سے بیان کیا ہے۔4
حضرت ابنِ مسعودؓنے فرمایا:تم میں سے جو کسی کی اِقتدا کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے صحابہ کی اِقتدا کرے، کیوںکہ وہ اس اُمّت میں سب سے زیادہ نیک دل، سب سے زیادہ گہرے علم والے، سب سے کم تکلف والے، سب سے زیادہ سیدھے طور طریقے والے اور سب سے زیادہ اچھی حالت والے تھے۔ ان لوگوں کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کی صحبت کے لیے اور اپنے دین کو قائم کرنے کے لیے چنا تھا۔ لہٰذا تم ان کے فضائل و درجات کا اعتراف کرو اور ان کے نقشِ قدم پر چلو، کیوںکہ وہ سیدھی راہ پر تھے۔1
حضرت حذیفہؓ فرمایا کرتے تھے: اے جماعتِ عُلما! اﷲسے ڈرو اور اپنے سے پہلے لوگوں کے راستہ کو پکڑے رکھو، میری زندگی کی قسم! اگر تم اس راستہ پر چلو گے تو تم دوسروں سے بہت آگے نکل جاؤ گے۔ اور اگر تم اسے چھوڑ کردائیں بائیں چلے جاؤگے تو تم بہت زیادہ بھٹک جاؤگے۔2
حضرت مصعب بن سعدکہتے ہیں: میرے والد جب مسجد میں نماز پڑھتے تو مختصر پڑھتے البتہ رکوع اور سجدہ پورا کرتے۔ اور گھر میں جب نماز پڑھتے تو نماز، رکوع اور سجدہ سب کچھ لمبا کرتے۔ میں نے کہا: اباجان! جب آپ مسجد میں نماز پڑھتے ہیں تو مختصر پڑھتے ہیں اور جب گھر میں نماز پڑھتے ہیں تو لمبی پڑھتے ہیں؟ انھوں نے کہا:اے میرے بیٹے!ہم امام ہیں، لوگ ہمارے پیچھے چلتے ہیں ہماری اِقتدا کرتے ہیں۔3
حضرت عبدا ﷲبن مسعودؓ نے فرمایا: تم اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے چلو، اپنی طرف سے نئے نئے طریقے مت چلاؤ، (تمھیں عقل لڑانے کی ضرورت نہیں ہے) اﷲ کے رسول اور صحابہ تمھیں سب کچھ کرکے دے گئے ہیں۔4
حضرت عبداﷲبن مسعودؓنے فرمایا: حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ سے محبت کرنا اور ان کی فضیلت کا اِعتراف کرنا دونوں سنت میں سے ہیں۔1
حضرت علیؓ نے فرمایا: اپنے زمانہ کے لوگوں کے نقشِ قدم پر چلنے سے بچو، کیوںکہ ایک آدمی جنت والوں کے عمل کرتا ہے، پھر اﷲکے علم کے مطابق وہ پلٹا کھا جاتا ہے اور دوزخ والوں کے عمل کرنے لگ جاتا ہے اور وہ دوزخی بن کرمرتا ہے۔ اور ایک آدمی دوزخ والوں کے عمل کررہا ہوتاہے، پھر وہ اﷲ کے علم کے مطابق پلٹا کھاجاتا ہے اور جنت والوں کے عمل کرنے لگ جاتا ہے اور جنتی بن کر مرتا ہے۔ اگر تم نے ضرور ہی کسی کے پیچھے چلنا ہے تو پھر تم ان لوگوں کے پیچھے چلو جن کا خاتمہ ایمان و اعمالِ صالحہ پر ہوچکا ہے اور وہ دنیا سے جاچکے ہیں۔ جو ابھی زندہ ہیں ان کے پیچھے مت چلو (کیوںکہ کسی زندہ انسان کے بارے میں اطمینان نہیں کیاجاسکتا نہ معلوم کب گمراہ ہوجائے)۔2
حضرت ابو البخَتری کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبداﷲ بن مسعودؓکو بتایا کہ کچھ لوگ مغرب کے بعد سے مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ان میں ایک آدمی ہے جو کہہ رہا ہے: اتنی مرتبہ اللّٰہُ أَکْبَرُ، اتنی مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ اور اتنی مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہو۔ حضرت عبد اﷲ نے پوچھا: پھر کیا وہ لوگ کہہ رہے ہیں؟ اس آدمی نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: آیندہ جب تم انھیں ایسا کرتے ہوئے دیکھو تو مجھے آکر بتانا۔(چناںچہ اس نے آکر بتایا تو) حضرت عبد اﷲ ؓ ان کے پاس گئے اور انھوں نے ٹوپی والا جبہ پہن رکھا تھا اور ان کے پاس جاکر بیٹھ گئے۔ حضرت عبد اﷲ ؓ ذرا تیز مزاج آدمی تھے۔ جب انھوں نے ان لوگوں کو وہ کلمات اس ترتیب سے کہتے ہوئے سنا تو کھڑے ہوکر فرمایا: میں عبداﷲبن مسعود ہوں، اس اﷲ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! تم نے اس بدعت کو لاکر بڑا ظلم کیا ہے اور تم اس طرح تو حضرت محمد ﷺ کے صحابہ سے علم میں آگے نکل گئے ہو (وہ تو اس طرح ذکر نہیں کیا کرتے تھے)۔ حضرت مُعضِد نے کہا: ہم تو کوئی بدعت لاکر ظلم نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہم علم میں حضورﷺ کے صحابہ سے آگے نکل گئے ہیں۔ پھر حضرت عمرو بن عتبہ نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! ہم اﷲسے معافی مانگتے ہیں۔ حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: تم صحیح راستہ پر چلتے رہو بلکہ اسے ہی چمٹے رہو، اﷲکی قسم! اگرتم ایسا کروگے تو تم بہت آگے نکل جاؤ گے، اور راستہ سے ہٹ کر دائیں بائیں ہوجاؤ گے تو بہت زیادہ بھٹک جاؤگے۔1
حضرت ابوا لبختری کہتے ہیں: حضرت عبد اﷲبن مسعودؓکو خبر ملی کہ کچھ لوگ مغرب اور عِشا کے درمیان بیٹھتے ہیں۔ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا اور بعد میں یہ ہے کہ حضرت ابنِ مسعودؓ نے فرمایا: تم نے اس بدعت کو شروع کرکے بڑا ظلم کیا ہے، کیوںکہ اگر یہ بدعت نہیں ہے تو پھر ہمیں حضرت محمد ﷺ کے صحابہ کو (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ) گمراہ قرار دینا پڑے گا۔ اس پر حضرت عمر و بن عتبہ بن فرقد نے کہا: میں اﷲسے معافی مانگتا ہوں اے ابنِ مسعود! اور اس کام سے توبہ کرتا ہوں۔ پھر آپ نے انھیں بکھر جانے کا حکم دیا۔
حضرت ابو البختری کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ مسعودؓ نے کوفہ کی مسجد میں دو حلقے دیکھے تو ان دونوں کے درمیان کھڑے ہوگئے اور فرمایا: کون سا حلقہ پہلے شروع ہوا تھا؟ ایک حلقہ والوں نے کہا: ہمارا۔ تو دوسرے حلقے والوں سے فرمایا: تم لوگ اٹھ کر اسی میں آجاؤ اور یوں دو حلقوں کو ایک کردیا۔2
’’طبرانی‘‘ کی ایک صحیح اور مختصر روایت میں یہ ہے کہ پھر حضرت عبد اﷲبن مسعودؓ کپڑا اوڑھے ہوئے آئے اور فرمایا: جو مجھے جانتا ہے وہ تو مجھے جانتا ہی ہے اور جو نہیں جانتا تو میں تعارف کرادیتا ہوں کہ میں عبداﷲبن مسعود ہوں۔ کیا تم لوگ حضرت محمد ﷺ اور ان کے صحابہ سے بھی زیادہ ہدایت یافتہ ہو یا تم نے گمراہی کی دم پکڑ رکھی ہے؟
حضرت عمر و بن سَلَمہکہتے ہیں کہ ہم لوگ مغرب اور عِشا کے درمیان حضرت ابنِ مسعودؓ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضرت ابو موسیٰؓآئے اور فرمایا: اے ابو عبدالرحمن! ذرا ہمارے پاس باہر آئیں؟چناںچہ حضرت ابنِ مسعودؓ باہر آئے اور فرمایا: اے ابو موسی! آپ اس وقت کیوں آئے؟حضرت ابو موسیؓ نے فرمایا:اﷲ کی قسم! میں نے ایک ایسا کام دیکھا ہے جو ہے تو خیر لیکن اسے دیکھ کر میں پریشان ہوگیا ہوں۔ ہے تو وہ خیر لیکن اس نے مجھے چونکا دیا ہے۔ کچھ لو گ مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ایک آدمی کہہ رہا ہے: اتنی دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہو، اتنی دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہو۔ چناںچہ حضرت ابنِ مسعود ؓ اسی وقت چل پڑے اور ہم بھی ان کے ساتھ گئے، یہاں تک کہ ان لوگوں کے پاس پہنچ گئے اور فرمایا: تم لوگ کتنی جلدی بدل گئے ہو حالاںکہ حضورﷺ کے صحابہ ابھی زندہ ہیں، اور حضور ﷺ کی بیویاں ابھی جوان ہیں، اور حضورﷺکے کپڑے اور برتن ابھی اپنی اصلی حالت پر ہیں ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تم اپنی برائیاں گنو، میں اس بات کا ضامن ہوں کہ اﷲتعالیٰ تمہاری نیکیاں گننے لگیں گے۔1
حضرت عامر بن عبداﷲبن زبیر کہتے ہیں: میں اپنے والد (حضرت عبد اﷲبن زبیر ؓ) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انھوں نے پوچھا: تم کہاں تھے؟ میں نے کہا: مجھے کچھ لوگ ملے تھے میں نے ان سے بہتر آدمی کبھی نہیں دیکھے۔ وہ لوگ اﷲکا ذکر کررہے تھے، پھر ان میں سے ایک آدمی کانپنے لگا اور تھوڑی دیر میں اﷲکے ڈر سے بے ہوش ہوگیا۔ اس لیے میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔ انھوں نے کہا: اس کے بعد ان کے ساتھ کبھی نہ بیٹھنا۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ان کی اس بات کا میں نے اثر نہیں لیا تو فرمایا: میں نے حضورﷺ کو قرآن پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اور میں نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کو بھی قرآن پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، ان حضرات پر تو ایسی حالت طاری نہیں ہوتی تھی، تو تمہارا کیا خیال ہے یہ لوگ حضرت ابو بکر حضرت عمرؓ سے بھی زیادہ اﷲسے ڈرنے والے ہیں؟ اس پر مجھے بات سمجھ میںآگئی کہ بات یوںہی ہے اور میں نے ان لوگوں کو چھوڑدیا۔2
حضرت ابو صالح سعید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ابنِ عِتر تُجیبی کھڑے ہوکر لوگوں میں قصہ گوئی کررہا تھا، تو اس سے حضورﷺ کے صحابی حضرت صلہ بن حارث غِفَاریؓ نے فرمایا: ہم نے حضورﷺ کے عہد کو چھوڑا نہیں ہے اور کوئی قطع رحمی نہیں کی ہے، تو پھر تم اور تمہارے ساتھی کہاں سے ہمارے درمیان (قصہ گوئی کے لیے) کھڑے ہوگئے ہو(اور اپنی بڑائی کے اظہار کے لیے یہ قصہ گوئی کررہے ہو)۔1
حضرت عمرو بن زُرارہ کہتے ہیں: میں بیان کررہا تھا کہ اتنے میں حضرت عبد اﷲ بن مسعود ؓ آکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: تم نے گمراہی والی بدعت ایجاد کی ہے یا تم حضرت محمد ﷺ اور ان کے صحابہ سے زیادہ ہدایت والے ہوگئے ہو؟ میں نے دیکھا کہ یہ بات سنتے ہی تما م لوگ اٹھ کر اِدھر اُدھر چلے گئے اور میری جگہ پر ایک آدمی بھی نہ رہا۔2