صحابہ کرام ؓ کا ایمان
علمی مجلس کا اِحترام اور اس کی تعظیم
حضرت ابو حازم کہتے ہیں کہ حضرت سہلؓ اپنی قوم کی مجلس میں حضورﷺ کی حدیثیں بیان کررہے تھے کہ کچھ لوگ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوکر باتیں کرنے لگے۔ انھیں غصہ آگیا اور فرمایا: میں انھیں حضورﷺ کی وہ حدیثیں سنارہاہوں جنھیں میری آنکھوں نے دیکھا ہے اور میرے کانوں نے سنا ہے، اور میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہیں(اور حدیث نہیں سن رہے ہیں)۔ غور سے سنو! اﷲ کی قسم! اب میں تمہارے درمیان میں سے چلا جاؤں گا اور کبھی بھی تمہارے پاس واپس نہیں آؤں گا۔ میں نے ان سے پوچھا: آپ کہاں چلے جائیں گے؟ انھوںنے کہا: میں اﷲ کے راستے میں جہاد کرنے چلاجاؤں گا۔ میں نے کہا: اب جہاد کرنا آپ کے بس میں نہیں ہے، کیوںکہ نہ آپ گھوڑے پر بیٹھ سکتے ہیں نہ تلوار چلاسکتے ہیں اور نہ نیزہ مار سکتے ہیں (آپ بہت بوڑھے اور کمزور ہوچکے ہیں)۔ انھوں نے فرمایا: اے ابو حازم! میں جا کر جہاد کی صف میں کھڑا ہوجاؤں گا، کوئی نامعلوم تیر یا پتھر آکر مجھے لگے گا اور اس طرح اﷲ تعالیٰ مجھے شہادت کا درجہ عطافرمادیں گے۔1