صحابہ کرام ؓ کا ایمان
آدمی کا اپنے گھر والوں کو سکھانا
حضرت علیؓ نے اﷲ تعالیٰ کے فرمان { قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا}1
تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی) آگ سے بچاؤ۔
کے بارے میں فرمایا: اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خیر والے اعمال سکھاؤ۔2
ایک روایت میں یہ ہے کہ انھیں تعلیم دو اور ادب سکھاؤ۔3
حضرت مالک بن حُوَیرثؓ فرماتے ہیں کہ ہم چند ہم عمر نوجوان حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم آپ کے ہاں بیس دن ٹھہرے۔ پھر آپ کو اندازہ ہوا کہ ہمارے دلوں میں گھر جانے کا شوق پیدا ہوگیا ہے تو آپ نے ہم سے پوچھا کہ گھر کن کن کو چھوڑ آئے ہو؟ آپ ﷺ بہت شفیق، نرم اور رحم دل تھے، اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے گھر واپس چلے جاؤ اور انھیں (جو سیکھا ہے وہ) سکھاؤ اور انھیں (نیک اعمال کا) حکم دو اور جیسے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ویسے نماز پڑھو۔ اور جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے دیا کرے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ تمہاری اِمامت کیا کرے۔4