صحابہ کرام ؓ کا ایمان

کمائی اور علم کو جمع کرنا

حضرت ثابت بُنانی کہتے ہیں: حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ انصار کے ستّر آدمی ایسے تھے جو رات ہوتے ہی اپنے ایک معلم کے پاس مدینہ میں چلے جاتے، اور رات بھر اس سے قرآن پڑھتے رہتے، اور صبح کو ان میں سے جو طاقت ور اور صحت مند ہوتے وہ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کرلاتے اور پینے کا میٹھا پانی بھر لاتے، اور جن کے پاس مال کی گنجایش ہوتی وہ بکری ذبح کرکے اس کا گوشت بناتے اور گوشت کے ٹکڑے حضورﷺ کے حجروں پر ٹانک دیتے۔ جب حضرت خبیبؓکو (مکہ میں) شہید کردیاگیا تو ان ستّر آدمیوں کو حضور ﷺ نے بھیجا۔ ان میں میرے ماموں حضرت حرام بن مِلحان ؓ بھی تھے۔ یہ قبیلہ بنوسُلَیم کے ایک قبیلے کے پاس آئے۔ حضرت حرام ؓ نے اس جماعت کے امیر سے کہا: کیا میں جاکر ان لوگوں کو یہ نہ بتادوں کہ ہم ان سے لڑنے کے ارادے سے نہیں آئے، اس طرح وہ ہمیں چھوڑ دیں گے؟ جماعت والوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ چناںچہ حضرت حرام ؓ نے جاکر ان لوگوں کو یہ بات کہی۔ اس پر ایک آدمی نے انھیں ایسا نیزہ مارا جو پار نکل گیا۔ جب حضرت حرامؓ نے دیکھا کہ نیزہ پیٹ میں پہنچ گیا ہے تو انھوں نے کہا: اللّٰہ أکبر! ربِّ کعبہ کی قسم! میں تو کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد وہ قبیلہ والے ان تمام حضرات پر ٹوٹ پڑے اورسب کو قتل کردیا اور ایک بھی باقی نہ رہا جو واپس جاکر حضورﷺ کو خبر کرسکے۔ اس جماعت کی شہادت پر میں نے حضورﷺ کو جتنا غمگین دیکھا اتنا کسی جماعت پر نہیں دیکھا۔ چناںچہ میں نے دیکھا کہ حضورﷺ جب بھی فجر کی نماز پڑھتے تو ہاتھ اٹھاکر اس قبیلے کے لیے بددعا کرتے۔1 حضرت انسؓفرماتے ہیں کہ چند لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آکر کہا: ہمارے ساتھ چند آدمی بھیج دیں جو ہمیں قرآن و سنت سکھائیں۔ چناںچہ حضورﷺ نے ان کے ساتھ انصار کے ستّر آدمی بھیج دیے جن کو (حافظِ قرآن ہونے کی وجہ سے) قُرّا کہا جاتا تھا۔ ان میں میرے ماموں حضرت حرامؓ بھی تھے۔ یہ لوگ قرآن پڑھتے تھے، اور رات کو ایک دوسرے سے سنتے سناتے تھے اور علم حاصل کرتے تھے، اور دن میں پانی لاکر مسجد میں رکھ دیتے اور جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتے اور انھیں بیچ کر اہلِ صُفّہ اور فُقَرائے صحابہ کے لیے کھانا خرید کر لاتے۔ حضورﷺ نے ان حضرات کو ان لوگوںکے پاس بھیج دیا۔ وہ لوگ ان کے آڑے آئے اور انھیں اس جگہ پہنچنے سے پہلے ہی قتل کردیا۔ تو ان لوگوں نے کہا: اے اﷲ! ہماری طرف سے ہمارے نبی کو یہ پیغام پہنچادے کہ ہم تیرے پاس پہنچ گئے ہیں، اور ہم تجھ سے راضی ہیں اور تو ہم سے راضی ہے۔ اور پیچھے سے آکر میرے ماموں حضرت حرا م کو ایک آدمی نے ایسا نیزہ مارا جو پار نکل گیا۔ حضرت حرامؓ نے کہا: ربِّ کعبہ کی قسم! میں تو کامیاب ہوگیا۔ حضورﷺ نے اپنے بھائیوں سے فرمایا: تمہارے بھائی شہید کردیے گئے ہیں اور انھوں نے یہ دعا مانگی ہے کہ اے اﷲ! ہماری طرف سے ہمارے نبی کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم تیرے پاس پہنچ گئے ہیں، اور ہم تجھ سے راضی ہیں اور تو ہم سے راضی ہے۔2 حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں اور میرا ایک انصاری پڑوسی ہم دونوں قبیلہ بنو اُمیّہ بن زید کے محلّہ میں رہتے تھے جو کہ مدینہ کے علاقہ عوالی میں تھا۔ اور ہم دونوں باری باری حضورﷺ کی خدمت میں جاتے تھے، ایک دن وہ جاتا اور ایک دن میں۔ جب میں جاتا تو اس دن کی وحی وغیرہ کی تمام خبریں لاکر میں اس انصاری کو سنادیتا، جب وہ جاتا تو وہ آکر اس دن کی تمام خبریں مجھے سنادیتا۔ چناںچہ میرا انصاری ساتھی اپنی باری والے دن حضور ﷺ کی خدمت میں گیا اور واپس آکر اس نے بہت زور سے میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور زور سے کہا: کیا عمر اندر ہیں؟ میں گھبرا کر اس کے پاس باہر آیا۔ اس نے کہا: بہت بڑی بات پیش آگئی ہے(کہ حضور ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے)۔ میں حضرت حفصہ ؓ کے پاس گیا تو وہ رورہی تھیں۔ میں نے پوچھا: کیا تم سب کو حضور ﷺ نے طلاق دے دی ہے؟ انھوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ پھر میں حضورﷺ کی خدمت میں گیا اور میں نے کھڑے کھڑے عرض کیا: کیا آپ نے اپنی عورتوں کو طلاق دے دی ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے (خوشی سے) کہا: اﷲ اکبر۔1 حضرت براءؓفرماتے ہیں: ہم سب نے حضورﷺ کی ہر حدیث نہیں سنی، کیوںکہ ہماری جائیداد اور دنیاوی مشاغل بھی تھے(جن کو وقت دینا پڑتا تھا)، اور اس زمانے میںلوگ جھوٹ نہیں بولتے تھے، اس لیے جو مجلس میں حاضر ہو کر حضورﷺ سے حدیث سن لیتا وہ غائب کو سنادیتا۔2 حضرت براءؓ فرماتے ہیں:ہم نے ہر حدیث حضورﷺ سے نہیں سنی (کچھ سنی ہیں اور کچھ نہیں سنی ہیں)۔ ہم لوگ اونٹ چرانے میں مشغول رہتے تھے، ہمارے ساتھی حضورﷺ سے حدیث سنتے تھے پھر وہ ہمیں سنادیا کرتے تھے۔3 حضرت ابو انس مالک بن اَبی عامر اَصْبَحی کہتے ہیں: میں حضرت طلحہ بن عبیداﷲؓ کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک آدمی ان کے پاس اندر آیا اور اس نے کہا:اے ابو محمد! اﷲ کی قسم! ہمیں معلوم نہیں کہ یہ یمنی آدمی حضورﷺ کو زیادہ جانتا ہے یا آپ لوگ؟ یہ تو حضورﷺکی طرف سے ایسی باتیں نقل کرتے ہیں جو حضورﷺ نے نہیں فرمائی ہیں۔ وہ آدمی یہ بات حضرت ابوہریرہ ؓ کے بارے میں کہہ رہا تھا۔ حضرت طلحہؓ نے فرمایا: اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ انھوں نے (یعنی حضرت ابو ہریرہؓ نے) حضورﷺ سے وہ حدیثیں سنی ہیں جو ہم نے نہیںسنیں اور انھیں حضورﷺ کے وہ حالات معلوم ہیں جو ہمیں معلوم نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مال دار لوگ تھے، ہمارے گھر اور بال بچے تھے۔ ہم حضور ﷺ کی خدمت میں صبح وشام حاضری دیتے تھے اور پھر واپس چلے جاتے۔ حضرت ابو ہریرہ مسکین آدمی تھے، نہ ان کے پاس مال تھا اور نہ اہل وعیال۔ انھوں نے اپنا ہاتھ نبی کریم ﷺ کے ہاتھ میں دے رکھا تھا۔ جہاں حضورﷺتشریف لے جاتے یہ ساتھ جاتے۔ اس لیے ہمیںاس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ انھیں وہ کچھ معلوم ہے جو ہمیں معلوم نہیں اور انھوں نے وہ کچھ سن رکھا ہے جو ہم نے نہیں سنا۔ اورہم میں سے کوئی بھی ان پر یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ انھوں نے اپنے پاس سے بنا کر وہ باتیں حضورﷺ کی طرف سے بیان کی ہیں جو حضور ﷺ نے نہیں فرمائی ہیں۔1