صحابہ کرام ؓ کا ایمان
دورانِ سفر علم حاصل کرنا
حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نو سال مدینہ منورہ میں رہے اور اس عرصہ میں آپ نے کوئی حج نہیں کیا۔ پھر آپ نے لوگو ں میں اعلان کروایا کہ اﷲ کے رسول ﷺ اس سال حج کریں گے، تو بہت سارے لوگ مدینہ منورہ آگئے۔ ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ وہ حضورﷺ کی اِقتدا کرے اور وہی کام کرے جو حضورﷺ کریں۔ جب ذی قعدہ میں پانچ دن باقی رہ گئے توآپ حج کے لیے تشریف لے چلے، ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب آپ ذوالحُلَیفہ پہنچے توحضرت اَسماء بنت عمیسؓ کے ہاں حضرت محمد بن ابی بکر ؓ پیدا ہوئے۔ انھوں نے حضورﷺ کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ میں اب کیا کروں؟ حضورﷺ نے فرمایا: پہلے غسل کرو، پھر کسی کپڑے کی لنگوٹی باندھ لو، پھر اِحرام باندھ لو اور اونچی آواز سے لبیک کہو۔ پھر حضورﷺ وہاں تشریف لے چلے یہاں تک کہ جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر بَیداء نامی اونچے مقام پر پہنچی تو آپ نے ان الفاظ سے لبیک پڑھی:
لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لاَ شَرِیْکَ لَکَ۔
اے اﷲ! حاضر ہوں حاضر ہوں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہوں۔ تمام تعریفیں، تمام نعمتیں اور ساری بادشاہت تیرے لیے ہے، تیر ا کوئی شریک نہیں۔
اور لوگوں نے لبیک پڑھی اور کچھ لوگ ذَا الْمَعَارِجِ جیسے کلمات بڑھا رہے تھے اور نبی کریم ﷺ سن رہے تھے، لیکن آپ نے ان سے کچھ نہ فرمایا۔ پھر میں نے حضورﷺ کے سامنے نگاہ ڈالی تو مجھے حدِ نگاہ تک آدمی ہی آدمی نظر آئے۔ کوئی سوار تھا کوئی پیدل، اور یہی حال آپ کے دائیں بائیں اور پیچھے تھا۔ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ ہمارے درمیان تھے، آپ پر قرآن نازل ہوتا تھا، آپ اس کی تفسیر بھی جانتے تھے اور قرآن پر جیسا عمل آپ کرتے تھے ویسا ہم بھی کرتے تھے۔ آگے اور حدیث بھی ذکر کی ہے۔
آیندہ ’’حضورﷺ کے خطباتِ حج‘‘ کے عنوان کے ذیل میں حضورﷺ کے صحابۂ کرام ؓ کو سفرِ حج میں سکھانے کے واقعات آجائیں گے اور ’’جہاد میں نکل کر سیکھنے سکھانے‘‘ کے باب میں اس باب کے کچھ واقعات گذر چکے ہیں۔
حضرت جابر بن اَزرق غاضری ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ کی خدمت میں سواری پر اپنا سامان لے کر حاضر ہوا۔ میں آپ کے ساتھ ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ ہم منزل پر پہنچ گئے۔ حضور ﷺ نے سواری سے اتر کر چمڑے کے ایک خیمے میں قیام فرمایا اور آپ کے خیمے کے دروازے پر تیس کوڑے بردار آدمی کھڑے ہوگئے۔ ایک آدمی مجھے دھکے دینے لگا، میں نے کہا:اگر تم مجھے دھکے دوگے تو میں بھی تمھیں دھکے دوں گا اور اگر تم مجھے ماروگے تومیں بھی تمھیں ماروں گا۔ اس آدمی نے کہا: اَو سب سے برے آدمی! میں نے کہا:اﷲ کی قسم! تم مجھ سے زیادہ برے ہو۔ اس نے کہا: کیسے؟ میں نے کہا: میں اَطرافِ یمن سے اس لیے آیا ہوں تاکہ نبی کریمﷺ سے حدیثیں سنوں اور واپس جاکر اپنے پیچھے والوں کو وہ ساری حدیثیں سناؤں، اور تم مجھے روکتے ہو۔ اس آدمی نے کہا: تم نے ٹھیک کہا۔ اﷲ کی قسم! واقعی میں تم سے زیادہ برا ہوں۔ پھر حضورﷺ سواری پر سوار ہوئے اور منیٰ میں جمرۂ عقبہ کے پاس سے لوگ آپ کے ساتھ چمٹنے لگے اور ان کی تعداد بڑھتی گئی۔ یہ سب لوگ حضورﷺ سے مختلف باتیں پوچھنا چاہتے تھے لیکن تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی آپ تک پہنچ نہیں سکتا تھا۔ اتنے میں ایک آدمی آیا جس نے اپنے بال کٹوارکھے تھے۔ اس نے عرض کیا: یارسول اﷲ! میرے لیے دعائے رحمت فرمادیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اﷲ بال منڈوانے والوں پر رحمت نازل فرمائے۔ ا س آدمی نے پھر کہا: میرے لیے دعائے رحمت فرمادیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اﷲ بال منڈوانے والوں پر رحمت نازل فرمائے۔ اس آدمی نے پھر کہا: میرے لیے دعائے رحمت فرما دیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اﷲ بال منڈوانے والوں پر رحمت نازل فرمائے۔ یہ دعا آپ نے تین مرتبہ فرمائی، تو وہ آدمی گیا اور جاکر اس نے اپنے بال منڈوا دیے۔ اس کے بعد مجھے جو بھی نظر آیا اس کے بال منڈے ہوئے تھے۔1
اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً ط فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِي الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَآیت کا نشان}2
اور (ہمیشہ کے لیے) مسلمانوں کو یہ (بھی) نہ چاہیے کہ (جہاد کے واسطے) سب کے سب (ہی) نکل کھڑے ہوں۔ سو ایسا کیوں نہ کیاجائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت (جہاد میں) جایا کرے، تاکہ باقی ماندہ لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں اور تاکہ یہ لوگ اپنی (اس) قوم کو جب کہ وہ ان کے پاس واپس آویں ڈراویں تاکہ وہ (ان سے دین کی باتیں سن کر برے کاموں سے) احتیاط رکھیں۔
اس کی تفسیر کے بارے میں علامہ ابنِ جریر فرماتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں عُلَما کے مختلف اقوال ہیں، لیکن ان میں سب سے زیادہ ٹھیک قول ان عُلما کا ہے جو فرماتے ہیں کہ جہاد کے لیے نکلنے والی چھوٹی جماعت سفرِ جہاد میں دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرکے آئیں گے، کیوںکہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ اﷲتعالیٰ دشمنوں اور کفار کے خلاف اپنے دین والوں کی اور اپنے رسولﷺ کے صحابہؓکی مدد فرماتے ہیں، تو اس طرح حقیقتِ اسلام اور اس کے تمام دینوں پر غلبہ پانے کا علم اُن نکلنے والوں کو بھی حاصل ہوجائے گا جن کو پہلے سے یہ علم حاصل نہیں تھا۔ اور جب یہ لوگ اپنی قوم میں جاکر ان کو اﷲ کی اس غیبی مدد کے واقعات سنائیں گے جس کی وجہ سے مسلمان کافر مشرکوں پر غالب آئے اور اﷲ کی نافرمانی کی وجہ سے کافروں پر اﷲ کے عذاب اترنے کے عینی مشاہدہ کے واقعات سنائیں گے، تو باقی ماندہ لوگ ان واقعات کو سن کر برے کاموں سے اور زیادہ احتیاط کرنے لگیں گے، اور ان کاا ﷲ اور رسول ﷺ پر ایمان اور زیادہ بڑھ جائے گا۔1