صحابہ کرام ؓ کا ایمان

اذکار اور دعائیں سکھانا

حضرت علی بن ابی طالبؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے مجھ سے فرمایا: میں تمھیں پانچ ہزار بکریاں دے دوں یا ایسے پانچ کلمات سکھادوں جن سے تمہارا دین اور دنیا ٹھیک ہوجائیں؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! پانچ ہزار بکریاں تو بہت زیادہ ہیں، لیکن آپ مجھے وہ کلمات ہی سکھادیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ کہو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ، وَوَسِّعْ لِيْ خُلُقِيْ، وَطَیِّبْ لِيْ کَسْبِيْ، وَقَنِّعْنِيْ بِمَا رَزَقْتَنِيْ، وَلَا تُذْھِبْ قَلْبِيْ إِلٰی شَيْئٍ صَرَفْتَہُ عَنِّيْ۔ اے اﷲ! میرے گناہ معاف فرما اور میرے اخلاق وسیع فرما اور میری کمائی کو پاک فرما اور جو روزی تو مجھے عطا فرمائے اس پر مجھے قناعت نصیب فرما اور جو چیز تو مجھ سے ہٹا لے اس کی طلب مجھ میں باقی نہ رہنے دے۔2 حضرت عبد اﷲ بن جعفرؓ اپنی بیٹیوں کو یہ کلمات سکھاتے اور انھیں ان کے پڑھنے کی تاکید کرتے اور فرماتے: میں نے یہ کلمات حضرت علی ؓ سے سیکھے ہیں اور حضرت علی ؓ نے فرمایا تھا کہ جب حضورﷺ کو کوئی پریشانی یا مشکل کام پیش آتا تو آپ یہ کلمات پڑھتے: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ، سُبْحَانَہٗ تَبَارَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بڑا بُرد بار بڑے کرم والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے پاک ہے۔ اﷲ برکت والا ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے اور بڑے عرش کا ربّ ہے، اور تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔ـ1 حضرت عبداﷲ بن جعفرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے مجھ سے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں تمھیں ایسے کلمات سکھاؤں گا جو میں نے حضورﷺ سے سنے ہیں، موت کے وقت جو ان کلمات کو کہے گاوہ جنت میں ضرور داخل ہوگا: لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ۔ تین مرتبہ ا للہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بڑا بُردبار بڑے کرم والا ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ تین مرتبہ تمام تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو تما م جہانوں کا ربّ ہے۔ تَبَارَکَ الَّذِيْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ یُحْیِيْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ۔ وہ ذات با برکت ہے کس کے قبضہ میں تمام بادشاہی ہے۔ وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ 2 حضرت سعد بن جُنادہ ؓ فرماتے ہیں کہ طائف والوں میں سے میں سب سے پہلے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور طائف کے جنوب میں واقع پہاڑی سلسلے کے بالائی حصہ سے صبح صبح چلا اور عصر کے وقت منیٰ میں پہنچا۔ پھر پہاڑ پر چڑھا اور اُتر کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مسلمان ہوا۔ حضورﷺ نے مجھے {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} اور {اِذَا زُلْزِلَتْ} سکھائی، اور یہ کلمات بھی سکھائے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ اور فرمایا: یہی وہ نیک کلمات ہیں جو باقی رہنے والے ہیں۔3 حضرت اُبی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ ہمیں سکھاتے کہ صبح کو ہم یہ دعا پڑھیں: أَصْبَحْنَا عَلٰی فِطْرَۃِ الإِسْلَامِ وَکَلِمَۃِ الإِخْلَاصِ وَسُنَّۃِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍﷺ وَمِلَّۃِ إِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا وَّمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ ہم نے فطرتِ اسلام، کلمۂ اِخلاص، اپنے نبی حضرت محمدﷺ کی سنت اور ابراہیم ؑ کی ملت پر صبح کی سب سے یکسو ہو کر ایک اﷲ کے ہوگئے تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔ اور شام کو بھی یہ دعا پڑھیں (صرف أَصْبَحْنَا کی جگہ أَمْسَیْنَا کہہ لیں)۔1 حضرت سعدؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ ہمیں یہ کلمات اس طرح سکھاتے تھے جس طرح استاد بچوں کو لکھنا سکھاتا ہے: اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوْذُ بِکَ أَنْ أُرَدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔ اے اﷲ! میں بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ مجھے ناکارہ عمر کی طرف پہنچا دیا جائے، اور دنیا کے فتنوں اور عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتاہوں۔2 حضرت حارث بن نوفلؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں مرجانے والے کے لیے یہ دعا سکھائی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِإِخْوَانِنَا وَأَخَوَاتِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِنَا، وَأَلِّفْ بَیْنَ قُلَوْبِنَا۔ اَللّٰھُمَّ ہٰذَا عَبْدُکَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَیْرًا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنَّا، فَاغْفِرْ لَنَا وَلَہٗ۔ اے اﷲ! ہمارے بھائیوں اور بہنوں کی مغفرت فرما، اور ہمارے آپس کے تعلقات کو ٹھیک فرما، اور ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت پیدا فرما۔ اے اﷲ! یہ تیرا بندہ فلاں بن فلاں ہے، ہمیں تو یہی معلوم ہے کہ یہ بہت نیک تھااور آپ اسے ہم سے زیادہ جانتے ہیں، آپ ہماری اور اس کی مغفرت فرمادیں۔ اپنی جماعت میں میں سب سے چھوٹا تھا۔ میں نے عرض کیا: اگر مجھے اس کی کوئی نیکی معلوم نہ ہو تو؟ حضورﷺ نے فرمایا: تو تم وہی کہو جو تمھیں معلوم ہے۔3 حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں کہ جب رمضان شریف آتا تو حضور ﷺ ہمیں دعا کے یہ کلمات سکھاتے تھے: اَللّٰھُمَ سَلِّمْنِيْ لِرَمَضَانَ، وَسَلِّمْ رَمَضَانَ لِيْ، وَسَلِّمْہُ لِيْ مُتَقَبَّلًا۔ اے اﷲ! مجھے رمضان کے لیے صحیح سالم رکھ اور رمضان کو میرے لیے صحیح سالم رکھ (یعنی چاند وقت پر نظر آئے بادل وغیرہ نہ ہوں) اور پھر اسے قبول بھی فرما۔1 حضرت سَلامہ کِندی کہتے ہیں: حضرت علی ؓ لوگوں کو نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنے کے لیے یہ کلمات سکھاتے تھے: اَللّٰھُمَّ دَاحِيَ الْمَدْحُوَّاتِ! وَبَارِئَ الْمَسْمُوْکَاتِ! وَجَبَّارَ الْقُلُوْبِ عَلٰی فِطْرَتِھَا! شَقِیْقِھَا وَسَعِیْدِھَا! اِجْعَلْ شَرَائِفَ صَلَوَاتِکَ، وَنَوَاحِيَ بَرَکَاتِکَ، وَرَأْفَۃَ تَحَنُّنِکَ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ، الْخَاتِمِ لِمَا سَبَقَ، وَالْفَاتِحِ لِمَا أُغْلِقَ، وَالْمُعِیْنِ عَلَی الْحَقِّ بِالْحَقِّ، وَالدَّامِغِ لِجَیْشَاتِ الْأَبَاطِیْلِ، کَمَا حُمِّلَ فَاضْطَلَعَ بِأَمْرِکَ بِطَاعَتِکَ، مُسْتَوْفِزًا فِيْ مَرْضَاتِکَ، غَیْرَ نَکِلٍ عَنْ قَدَمٍ، وَلَا وَھِنٍ فِيْ عَزْمٍ، وَاعِیًا لِوَحْیِکَ، حَافِظًا لِّعَھْدِکَ، مَاضِیًا عَلَی نِفَاذِ أَمْرِکَ، حَتّٰی أَوْریٰ قَبَسًا لِّقَابِسٍ۔ بِہٖ ہُدِیَتِ الْقُلُوْبُ بَعْدَ خَوْضَاتِ الْفِتَنِ وَالْإِثْمِ، وَأَبْھَجَ مُوْضِحَاتِ الْأَعْلَامِ وَمُنِیْرَاتِ الْإِسْلَامِ وَنَائِرَاتِ الْأَحْکَامِ۔ فَھُوَ أَمِیْنُکَ الْمَأْمُوْنُ، وَخَازِنُ عِلْمِکَ الْمَخْزُوْنِ، وَشَھِیْدُکَ یَوْمَ الدِّیْنِ، وَبَعِیْثُکَ نِعْمَۃً، وَرَسُوْلُکَ بِالْحَقِّ رَحْمَۃً۔ اَللّٰھُمَّ افْسَحْ لَہُ مَفْسَحًا فِيْ عَدْنِکَ، وَاجْزِہٖ مُضَاعَفَاتِ الْخَیْرِ مِنْ فَضْلِکَ، مُھَنَّاتٍ غَیْرَ مُکَدَّرَاتٍ، مِنْ فَوْزِ ثَوَابِکَ الْمَعْلُوْلِ، وَجَزِیْلِ عَطَائِکَ الْمَخْزُوْنِ۔ اَللّٰھُمَّ أَعْلِ عَلٰی بِنَائِ النَّاسِ بِنَائَ ہُ، وَأَکْرِمْ مَثْوَاہُ لَدَیْکَ وَنُزُلَہٗ، وَأَتْمِمْ لَہٗ نُوْرَہٗ، وَأَجْزِہٖ مِنِ ابْتِعَائِکَ لَہٗ مَقْبُوْلَ الشَّھَادَۃِ، وَمَرْضِيَّ الْمَقَالَۃِ، ذَا مَنْطِقٍ عَدْلٍ، وَکَلَامٍ فَصْلٍ، وَحُجَّۃٍ وَّبُرْھَانٍ عَظِیْمٍ۔ اے اﷲ!اے بچھی ہوئی زمینوں کے بچھانے والے! بلند آسمانوں کے پیدا کرنے والے! بدبخت اور نیک بخت دلوں کو ان کی فطرت پر پیدا کرنے والے! اپنی معظم رحمتیں، بڑھنے والی برکتیں، اور اپنی خاص مہربانی اور شفقت حضرت محمد ﷺ پر نازل فرما جو کہ تیرے بندے اور رسول ہیں، اور جو نبوتیں پہلے گذر چکی ہیں ان کے لیے مہر ہیں، اور بند سعادتوں کو کھولنے والے ہیں، اور صحیح طریقے سے حق کی مدد کرنے والے ہیں، اور جس طرح انھیں ذمہ داری دی گئی اِس طرح انھوں نے باطل کے لشکروں کو نیست و نابود کردیا، اور تیری اطاعت کے لیے تیرے حکم کو لے کر کھڑے ہوگئے، اور تجھے خوش کرنے کے لیے ہر دم مستعد رہے۔ انھوں نے آگے بڑھنے میں بالکل سستی نہ کی اور نہ عزم و ارادہ میں کچھ کمزوری ظاہر کی۔ تیری وحی کو خوب یاد کیا اور تیرے عہد کی حفاظت کی اور تیرے ہر حکم کو نافذ کیا، یہاں تک کہ روشنی لینے والوں کے لیے نورِ اسلام کا شعلہ روشن کردیا۔ آپ ہی کے ذریعہ دلوں کو فتنوں اور گناہوں میں غوطے کھانے کے بعدہدایت ملی، اور آپ نے کھلی اور واضح نشانیوں کو، اسلام کے روشن دلائل کو اور منور اَحکام کو خوب اچھی طرح واضح کردیا۔ وہ تیرے معصوم اور محفوظ امین ہیں، اور تیرے علمی خزانے کے خزانچی اور محافظ ہیں، اور قیامت کے دن تیرے گواہ ہیں۔ تُو نے انھیں نعمت بناکر بھیجا ہے اور وہ تیرے سچے رسول ہیں جو رحمت بن کر آئے ہیں۔ اے اﷲ! اپنی جنتِ عدن میں ان کو خوب کشادہ جگہ عطا فرما، اور اپنے بار بار دیے جانے والے ثواب میں سے اور اپنی بڑی عطا کے خزانوں میں سے خوب بڑھا کر صاف ستھری جزا انھیں عطا فرما۔ اے اﷲ! ان کی عمارت کو تمام لوگوں کی عمارت سے اونچا فرما، اور اپنے ہاں ان کے ٹھکانے اور مہمانی کو خوب عمدہ فرما، اور اپنے نور کو اِن کے لیے پورا فرما، اور تو اِن کو یہ بدلہ دے کہ جب ان کو قیامت کے دن اٹھائے تو ان کی گواہی قبول ہو اور ان کی بات تیری پسند کے مطابق ہو اور عدل و انصاف والی ہو، اور ان کا کلام صحیح اور غلط میں تمیز کرنے والا ہو، اور وہ مضبوط حجت اور بڑی دلیل والے ہوں۔ 1