صحابہ کرام ؓ کا ایمان

جو بھی علم اور ایمان حاصل کرنا چاہے گا اﷲتعالیٰ اسے ضرور عطافرمائیں گے

حضرت عبدا ﷲ بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت معاذؓکے پاس آیا اور رونے لگا۔ حضرت معاذ ؓ نے فرمایا:کیوں روتے ہو؟ اس آدمی نے کہا:نہ تو میں اس وجہ سے روتا ہوں کہ میرے اور آپ کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے، اور نہ اس وجہ سے روتا ہوں کہ مجھے آپ سے کچھ دنیا ملا کرتی تھی (جو آپ کے انتقال کے بعد مجھے نہیں ملے گی)، بلکہ اس وجہ سے روتا ہوں کہ میں آپ سے علم حاصل کیا کرتا تھا اور اب مجھے ڈر ہے کہ یہ علم حاصل کرنے کا سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ حضرت معاذ ؓ نے فرمایا: مت رو، کیوںکہ جو بھی علم اور ایمان حاصل کرنا چاہے گا اﷲ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرمائے گا، جیسے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو عطا فرمایا تھا حالاںکہ اس وقت علم اور ایمان نہ تھا۔3 حضرت یزید بن عَمِیرہ کہتے ہیں کہ جب حضرت معاذ ؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کے اردگرد بیٹھے ہوئے لوگ رونے لگے۔ حضرت معاذ نے فرمایا: کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم اس علم کی وجہ سے روتے ہیں جس کے حاصل کرنے کا سلسلہ آپ کے انتقال پر ٹوٹ جائے گا۔ حضرت معاذ ؓنے فرمایا: نہیں، علم و ایمان قیامت تک اپنی جگہ رہیں گے جو اِن دونوں کو تلاش کرے گا وہ انھیں قرآن و سنتِ رسولﷺ میں ضرور پالے گا (چوںکہ قرآن مجید معیار ہے، اس لیے) ہر کلام کو قرآن پر پیش کرو اور قرآن کو کسی کلام پر پیش مت کرو۔ حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی ؓ سے علم حاصل کرو۔ اگر یہ حضرات نہ ملیں تو پھر اِن چار سے حاصل کرو: حضرت عُوَیمر (ابوالدرداء)، حضرت ابنِ مسعود، حضرت سلمان اور حضرت ابنِ سلامؓ۔ یہ ابنِ سلام وہی ہیں جو یہودی تھے پھر مسلمان ہوگئے تھے، کیوںکہ میں نے حضورﷺ سے سنا ہے کہ یہ جنت میں بلا حساب جانے والے دس آدمیوں میں سے ہیں۔ اور عالم کی لغزش سے بچو، اور جو بھی حق بات لے کر آئے اسے قبول کرلو اور جو غلط بات لے کر آئے اسے قبول نہ کرو چاہے وہ کوئی بھی ہو۔1 حضرت یزید بن عَمِیرہ کہتے ہیں: جب حضرت معاذ بن جبل ؓ کا مرض الوفات شروع ہوا تو کبھی وہ بے ہوش ہوجاتے تھے کبھی افاقہ ہوجاتا تھا۔ایک دفعہ تو ایسی بے ہوشی طاری ہوئی کہ ہم سمجھے کہ ان کا انتقال ہوگیاہے۔ پھر انھیں افاقہ ہوا تو میں ان کے سامنے بیٹھا ہوا رورہا تھا۔ انھوں نے فرمایا:کیوں رو رہے ہو؟ میں نے کہا: میں نہ تو اس وجہ سے رورہا ہوں کہ مجھے آپ سے کوئی دنیا ملاکرتی تھی جو اَب مجھے نہیں ملاکرے گی اور نہ اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ میرے اور آپ کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے۔ بلکہ اس وجہ سے رورہا ہوں کہ آپ سے علم کی باتیں اور صحیح فیصلے سنا کرتا تھا وہ سب اب جاتا رہے گا۔ حضرت معاذؓ نے فرمایا: مت رو، کیوںکہ علم اور ایمان اپنی جگہ رہیں گے، جو انھیں تلاش کرے گا وہ انھیں ضرور پالے گا۔ لہٰذا علم کو وہاں تلاش کرو جہاں حضرت ابراہیم ؑ نے تلاش کیا تھا، کیوںکہ وہ جانتے نہیں تھے تو انھوں نے اﷲ تعالیٰ سے سوال کیا تھا جیسے کہ قرآن میں ہے: {اِنِّیْ ذَاھِبٌ اِلٰی رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ آیت کا نشان}2 میں اپنے ربّ کی طرف چلا جاتا ہوں وہ مجھ کو (اچھی جگہ) پہنچا ہی دے گا۔ میرے بعد ان چار آدمیوں سے علم حاصل کرنا۔ اگر ان میں سے کسی سے نہ ملے توپھر ممتاز اور عمدہ لوگوں سے علم کے بارے میں پوچھنا۔ وہ چار یہ ہیں: حضرت عبداﷲ بن مسعود، حضرت عبداﷲ بن سلام، حضرت سلمان اور حضر ت عویمر ابو الدرداء ؓ۔ اور حکیم آدمی کی لغزش سے اور منافق کے فیصلے سے بچ کر رہنا۔ میں نے پوچھا: مجھے کس طرح حکیم آدمی کی لغزش کا پتا چل سکتا ہے؟ حضرت معاذؓ نے فرمایا: وہ گمراہی کا کلمہ جسے شیطان کسی آدمی کی زبان پر اس طرح جاری کردیتا ہے جسے وہ بے سوچے سمجھے فوراً بول دیتا ہے۔ اور منافق بھی کبھی حق بات کہہ دیتا ہے۔ لہٰذا علم جہاں سے بھی آئے تم اسے لے لو، کیوںکہ حق بات میں نور ہوتا ہے۔ اور جن باتوں کا حق اور باطل ہونا واضح نہ ہو ان سے بچو۔1 حضرت عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ہم لوگ یمن میں رہا کرتے تھے۔ وہاں حضرت معاذ بن جبلؓ آئے اور فرمایا: اے یمن والو! اسلام لے آؤ سلامتی پالوگے۔ میں اﷲ کے رسول ﷺ کی طرف سے تمہاری طرف قاصد بن کر آیا ہوں۔ حضرت عمرو کہتے ہیں کہ میرے دل میں ان کی محبت ایسی بیٹھی کہ میں ان کے انتقال تک ان سے جدا نہیں ہوا، ان کے ساتھ ہی رہا۔ جب ان کے انتقال کا وقت آیا تو میں رونے لگا۔ حضرت معاذؓ نے فرمایا:کیوں روتے ہو؟ میں نے کہا: اس علم کی وجہ سے روتا ہوں جو آپ کے ساتھ چلا جائے گا۔ حضرت معاذ ؓ نے فرمایا: نہیں، علم اور ایمان قیامت تک دنیا میں رہیں گے۔ آگے اور حدیث ذکر کی۔2