صحابہ کرام ؓ کا ایمان
نبی کریم ﷺ کے صحابۂ کرام ؓکا علمی ولولہ اور شوق
جب حضرت معاذبن جبلؓکی وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا: دیکھو کیا صبحِ صادق ہوگئی ہے؟ ایک آدمی نے آکر بتایا کہ ابھی نہیں ہوئی۔ پھر فرمایا: دیکھو کیا صبحِ صادق ہوگئی ہے؟ پھر کسی نے آکر بتایا کہ ابھی نہیں ہوئی۔ بالآخر ایک آدمی نے آکر بتایا کہ صبحِ صادق ہوگئی ہے، تو فرمایا: میں اس رات سے اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں جس کی صبح دوزخ کی آگ کی طرف لے جائے۔ خوش آمدید ہو موت کو! خوش آمدید ہو اس مہمان کو جو بہت لمبے عرصے کے بعد ملنے آیا ہے، جس سے مجھے بہت محبت ہے! لیکن وہ ایسے وقت آیا ہے جب کہ میرے ہاں فاقہ ہے۔ اے اﷲ! میں زندگی بھر تجھ سے ڈرتا رہا، لیکن آج تیری رحمت کا امیدوار ہوں۔ اے اﷲ! تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھے دنیا سے اور اس میں زیادہ عرصہ تک رہنے سے اس وجہ سے محبت نہیں ہے تاکہ میں نہریں کھودوں اور درخت لگاؤں، بلکہ اس وجہ سے ہے تاکہ میں سخت گرمی کی دوپہر میں پیاس برداشت کروں یعنی گرمیوں میں روزے رکھوں اور مشقت کے مواقع پر مشقت اٹھاؤں اور علم کے حلقوں میں عُلما کی خدمت میں دوزانو بیٹھوں۔ 3
حضرت ابو الدرداء ؓ نے فرمایا: اگر تین کام نہ ہوتے تو میں اسے پسند کرتا کہ دنیا میں اور نہ رہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ وہ تین کام کون سے ہیں؟انھوں نے فرمایا: ایک تو دن اور رات میں اپنے خالق کے سامنے سرزمین پر رکھنا جو میری آخرت کی زندگی میں آگے جمع ہورہا ہے، دوسرے سخت گرمیوں کی دوپہر میں (روزہ رکھ کر) پیاسا رہنا، تیسرے ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا جو عمدہ کلام کو ایسے چنتے ہیں جیسے کہ پھل چنا جاتا ہے۔ آگے اور بھی حدیث ہے۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ کا انتقال ہوا تو میں نے ایک انصاری آدمی سے کہا: آج صحابہ بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں، آؤ اِن سے پوچھ پوچھ کر قرآن و حدیث جمع کرلیں۔ انھوں نے کہا: اے ابنِ عباس!آپ پر بڑا تعجب ہے! کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ حضورﷺ کے اتنے بڑے بڑے صحابہ ؓ کے ہوتے ہوئے بھی لوگوں کو آپ کی ضرورت پڑے گی؟ (انھوں نے میری بات نہ مانی اور اس کے لیے تیار نہ ہوئے تو) میں نے انھیں چھوڑ دیا اور حضورﷺ کے صحابہ سے پوچھنے لگا۔ اور مجھے پتا چلتا کہ فلاں صحابی فلاں حدیث بیان کرتے ہیں تو میں ان کے دروازے پر جاتا۔ وہ دوپہر کو آرام کررہے ہوتے میں ان کے دروازے پر چادر پر ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا اور ہوا کی وجہ سے مٹی مجھ پر پڑتی رہتی۔ وہ صحابی (آرام سے فارغ ہوکر) باہر آتے تو مجھے دیکھتے اور کہتے: اے حضورﷺ کے چچا زاد بھائی! آپ کا کیسے آنا ہوا؟ آپ خود کیوں آئے؟ آپ کسی کو میرے پاس بھیج دیتے، میں آپ کے پاس آجاتا۔ میں کہتا: نہیں، (مجھے آپ سے علم حاصل کرنا ہے اس لیے) میرا حق بنتا ہے کہ میں آپ کی خدمت میںآؤں۔ پھر میں ان سے اس حدیث کے بارے پوچھتا (اس طرح میں نے تفسیر اور احادیث کا بہت بڑا ذخیرہ جمع کرلیا جنھیں حاصل کرنے کے لیے لوگ میرے پاس آنے لگے)۔ اور وہ انصار ی بھی بہت عر صہ تک زندہ رہے، اور انھوں نے دیکھا کہ لوگ میرے اردگرد جمع ہیں اور مجھ سے قرآن و حدیث کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، اس پر انھوں نے کہا: یہ نوجوان واقعی مجھ سے زیادہ سمجھ دار نکلا۔2
حضرت ابنِ عباسؓنے فرمایا: جب دنیا کے مختلف شہر فتح ہوگئے تو لوگ دنیا کی طرف متوجہ ہوگئے اور میں نے اپنی ساری توجہ حضرت عمرؓ(سے قرآن و حدیث لینے) کی طرف لگادی۔ راوی کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے حضرت ابن عباس ؓ کی اکثرحدیثیں حضرت عمر ؓ ہی سے منقول ہیں۔1
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: جس طرح تیرے ساتھی مجھ سے مال غنیمت مانگتے ہیں تم نہیں مانگتے؟ میں نے عرض کیا: میں تو آپ سے یہ مانگتا ہوں کہ جو علم اﷲنے آپ کو عطا فرمایا ہے آپ اس میں سے مجھے بھی سکھائیں۔ اس کے بعد میں نے کمر سے دھاری دار چادر اتار کر اپنے اور حضورﷺ کے درمیان بچھادی اور یہ منظر مجھے ایسا یاد ہے کہ اب بھی مجھ کو اس پر جوئیں چلتی ہوئی نظر آرہی ہیں، پھر آپ نے مجھے حدیث سنائی۔ جب میں نے وہ حدیث پور ی سن لی تو حضورﷺ نے فرمایا: اب اس چادر کو سمیٹ کر اپنے جسم سے باندھ لو۔(میں نے ایسے ہی کیا) اس کے بعد حضورﷺ جو بھی ارشاد فرماتے مجھے اس میں سے ایک حرف بھی نہیں بھولتا تھا۔ 2
حضرت ابو ہریرہؓفرماتے ہیں: لوگ یہ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ حدیثیں بہت زیادہ بیان کرتا ہے، ہم سب نے اﷲ کے پاس جانا ہے (اگر میں غلط حدیث بیان کروں گا تو اﷲمیری پکڑ فرمائیں گے اور جو میرے بارے میں غلط گمان رکھتے ہیں اﷲ ان سے بھی پوچھیں گے) اور لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ دوسرے مہاجرین اور انصار صحابہؓ ابو ہریرہ جتنی حدیثیں بیان نہیں کرتے۔ میرے مہاجر بھائی تو بازاروں میں خرید و فروخت میں مشغول رہتے تھے، اور میرے انصاری بھائیوں کو اپنی زمینوں اور مویشیوں کی مشغولی تھی، اور میں ایک مسکین نادار آدمی تھا اور ہر وقت حضورﷺ کی خدمت میں پیٹ بھر کھانے پر قناعت کرکے حاضر رہتا تھا۔ انصار ومہاجرین جب حضورﷺ کی خدمت سے چلے جاتے تو میں پھر بھی حاضر خدمت رہتا۔ وہ حضور ﷺ سے سن کر اپنے کاموں میں لگ کر بھول جاتے، میں سب کچھ یاد رکھتا۔ ایک دن حضور ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی بھی اپنا کپڑا میرے سامنے پھیلائے گا اور جب میں اپنی بات پوری کرلوں وہ اسے سمیٹ کر اپنے سینے سے لگائے گا وہ کبھی بھی میری کوئی بات نہیں بھولے گا۔ میں نے فوراً اپنی دھاری دار چادر بچھادی، میری کمر پر اس کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہیں تھا۔ پھر جب حضورﷺ نے اپنی وہ بات پوری فرمالی تو میں نے چادر سمیٹ کر اپنے سینے سے لگالی۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! مجھے اس میں سے ایک بات بھی آج تک نہیں بھولی۔ اﷲ کی قسم! اگر اﷲ کی کتاب(قرآن) میں یہ دو آیتیں نہ ہوتیں (جن میں علم کو چھپانے کی ممانعت ہے) تو آپ لوگوں کو کبھی کوئی حدیث بیان نہ کرتا
{اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْھُدٰی} سے لے کر {الرَّحِیْمُ آیت کا نشان} تک۔ 1
جو لوگ اِخفا کرتے ہیں ان مضامین کا جن کو ہم نے نازل کیا ہے، جو کہ (اپنی ذات میں)واضح ہیں اور (دوسرے کو)ہادی ہیں، بعد اس کے کہ ہم ان کو کتابِ الٰہی (تورات و انجیل) میں عام لوگوں پر ظاہر کرچکے ہوں، ایسے لوگوں پر اﷲ تعالیٰ بھی لعنت فرماتے ہیں اور (دوسرے بہتیرے) لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں، مگر جو لوگ توبہ کرلیں اور اصلاح کردیں اور (ان مضامین کو) ظاہر کردیں تو ایسے لوگوں پر میں متوجہ ہوجاتا ہوں اور میری تو بکثرت عادت ہے توبہ قبول کرلینا اور مہربانی فرمانا۔2
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: لوگ کہتے تھے کہ ابوہریرہ بہت زیادہ حدیثیں بیان کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ میں ہر وقت حضورﷺ کے ساتھ رہتا تھاا ور صرف پیٹ بھر کھانے پر گزارہ کرلیتا تھا۔ ان دنوں نہ خمیری روٹی مجھے ملتی تھی اور نہ پہننے کو ریشم، اور نہ خدمت کرنے والا کوئی مرد میرے پاس تھا اور نہ کوئی عورت۔ اور بعض دفعہ میں بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنا پیٹ کنکریوں کے ساتھ چمٹا دیتا تھا(تاکہ کنکریوں کی ٹھنڈک سے بھوک کی گرمی میں کمی آجائے)۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ قرآن کی آیت مجھے معلوم ہوتی تھی، لیکن میں کسی آدمی سے کہتا کہ یہ آیت مجھے پڑھا دو تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ گھر لے جائے اور مجھے کچھ کھلادے۔ اور مساکین کے حق میں سب سے بہتر حضرت جعفر بن اَبی طالبؓتھے۔ وہ ہمیں گھر لے جاتے اور جو کچھ گھر میں ہوتا، وہ سب کچھ ہمیں کھلا دیتے یہاں تک کہ بعض دفعہ وہ شہد یا گھی کی کُپّی ہی ہمارے پاس باہر لے آتے۔ اس کُپّی میں کچھ ہوتا نہیں تھا، تو ہم اسے پھاڑ کر اس کے اند ر جو ہوتا اُسے چاٹ لیتے۔ 1