صحابہ کرام ؓ کا ایمان

نبی کریم ﷺ کے صحابۂ کرامؓ کا مؤکدہ سنتوں کا اہتمام کرنا

حضرت عمرؓ نے فجر سے پہلے کی سنتوںکے بارے میں فرمایا کہ یہ دو رکعتیں مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہیں۔4 حضرت عبدالرحمن بن عبداﷲ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطّابؓ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ ظہر سے پہلے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا: یہ کون سی نماز ہے؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا: یہ نماز تہجد کی نماز کی طرح شمار ہوتی ہے۔5 حضرت عبداﷲ بن عتبہ کہتے ہیں کہ میں نے ظہر سے پہلے حضرت عمرؓکے ساتھ اُن کے گھر میں چار رکعت نماز پڑھی۔6 حضرت حذیفہ بن اُسید کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ جب زوال کا وقت ہوجاتا تو حضرت علی بن ابی طالبؓ چار رکعت نما ز بہت لمبی پڑھتے۔ میں نے ان سے ان رکعتوں کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ میں نے حضورﷺکو یہ رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ آگے حضرت ابو ایوب ؓ جیسی حدیث ذکر کی ہے۔1 حضرت عبداﷲ بن یزید کہتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن مسعودؓسے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والے ایک آدمی نے مجھے بتایا کہ جب سورج ڈھل جاتا تو حضرت ابنِ مسعود ؓ کھڑے ہوکر چار رکعت نماز پڑھتے اور ان میں (سو سے زیادہ آیتوں والی) مِئِیْن سورتوں میں سے دو سورتیں پڑھتے۔ پھرجب مؤذن اذان دیتے تو پورے کپڑے پہنتے اور نماز کے لیے چلے جاتے۔2 حضرت اَسود، حضرت مُرَّہ اور حضرت مسروق ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اﷲ ؓ نے فرمایا: دن کی نمازوں میں سے صرف ظہر کی نماز سے پہلے کی چار رکعتیں رات کی تہجد کے برابر ہیں۔ اور دن کی تمام نمازوں پر ان چار رکعتوں کو ایسی فضیلت ہے جیسے نماز باجماعت کو اکیلے کی نماز پر۔3 حضرت ابنِ مسعو دؓ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرامؓدن کی نمازوں میں سے صرف ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں کو رات کی تہجد کے برابر سمجھتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ یہ چار رکعت رات کی چار رکعت کے برابر ہیں۔4 حضرت براء ؓظہر سے پہلے چار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔ اور حضرت ابنِ عمرؓ سے بھی یہی روایت ہے۔ 5 جب سورج ڈھل جاتا تو حضرت ابنِ عمرؓ مسجد میں جاکر ظہر سے پہلے بارہ رکعت نماز پڑھتے پھر بیٹھ جاتے۔ حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمرؓ ظہر سے پہلے آٹھ رکعت اور ظہر کے بعد چار رکعت پڑھتے۔ 1 حضرت علیؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے مجھے تین کاموں کا حکم دیا، میں جب تک زندہ رہوںگا انھیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ ان میں سے ایک کام یہ ہے کہ میں عصر سے پہلے چار رکعت پڑا کروں، لہٰذا میں جب تک زندہ رہوں گا یہ رکعتیں ضرور پڑھا کروں گا۔2 حضرت علی ؓ فرماتے ہیں: اﷲ تعالیٰ اس آدمی پر رحم فرمائے جو عصر سے پہلے چار رکعت نماز پڑھے۔3 حضرت ابو فاختہ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے فرمایا: مغرب اور عِشا کے درمیان والی نماز کا نام صلاۃ الغفلۃ ہے۔ پھر حضرت علیؓنے فرمایا: لیکن اب تم اس نماز کے بارے میں غفلت میں پڑچکے ہو (کہ پڑھتے نہیں ہو)۔4 حضرت ابنِ عمر ؓ نے فرمایا: جو مغرب کے بعد چار رکعت نماز پڑھے وہ غزوے کے بعد غزوہ کرنے والے کی طرح شمار ہوگا۔5