صحابہ کرام ؓ کا ایمان

حضورﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کن باتوں کو مسجد میں اچھا نہیں سمجھتے تھے

حضرت ابو سعید خدریؓ کے ایک غلام فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں (اپنے آقا) حضرت ابو سعیدؓ کے ساتھ تھا۔ وہ حضورﷺ کے ساتھ جارہے تھے۔ اتنے میں ہم لوگ مسجد میں داخل ہوگئے، تو ہم نے دیکھا کہ مسجد کے بیچ میں ایک آدمی پیٹھ اور ٹانگوںکو کپڑے سے باندھ کر بیٹھاہوا ہے، اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال رکھی ہیں۔ حضور ﷺ نے اسے اشارے سے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ سمجھ نہ سکا، تو حضورﷺ نے حضرت ابو سعید صحابۂ کرام کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہو تو اپنی انگلیاں ہرگز ایک دوسرے میں نہ ڈالے، کیوںکہ یہ شیطانی حرکت ہے۔ اور جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں ہوتا ہے تو وہ مسجد سے باہر جانے تک نماز ہی میں شما ر ہوتا ہے۔1 حضرت ابو بکر صدیقؓ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ خیبر فتح کرچکے تو لوگ لہسن پر ٹوٹ پڑے اور اسے خوب کھانے لگے۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا: جو یہ بودار سبزی کھائے وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔2 حضرت عمربن خطّابؓ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ انھوں نے خطبہ میں فرمایا: اے لوگو! تم یہ دو بودار چیزیں پیاز اور لہسن کھاتے ہو،حالاںکہ میں نے حضورﷺکو دیکھا ہے کہ جب حضور ﷺ کو مسجد میں کسی سے ان دونوں کی بو محسوس ہوتی تو آپ کے فرمانے پر اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا۔ لہٰذا جو انھیں کھانا چاہتا ہے وہ انھیں پکا کر ان کی بو ختم کرلے۔3 حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضورﷺ بیان فرمارہے تھے کہ بیان کے دوران آپ ﷺ نے مسجد کی سامنے والی دیوار پر کھنکار پڑا ہوا دیکھا، تو آپ کو لوگوں پر بڑا غصہ آیا۔ پھر آپ نے اسے کھرچا اور زعفران منگا کر اس جگہ مل دیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے چہرے کے سامنے ہوتے ہیں۔ چناںچہ اس کو اپنے سامنے تھوکنا نہیں چاہیے۔4 حضرت ابو سعیدؓکی روایت میں ہے کہ پھر حضورﷺ غصہ سے لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں سے کوئی یہ بات پسند کرتا ہے کہ کوئی آدمی اس کے سامنے آکر اس کے چہرے پر تھوک دے؟ تم میں سے کوئی آدمی جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے ربّ کے سامنے ہوتا ہے اور فرشتہ اس کے دائیں طرف ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے نہ اپنے سامنے تھوکنا چاہیے اور نہ دائیں طرف۔1 حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ جیسے گوشت کا ٹکڑا یا کھال آگ میں سُکڑ جاتی ہے، ایسے ہی کھنکار مسجد میں پھینکنے سے مسجد سُکڑ جاتی ہے (یعنی یہ کام مسجد کو بہت برا لگتا ہے، یہ مسجد کے ادب کے خلاف ہے)۔2 حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت بَنَّہ جُہنیؓ نے انھیں بتایا کہ مسجد میں چند لوگوں پر حضورﷺ کا گذر ہوا۔ آپ نے دیکھا کہ وہ ننگی تلوار ایک دوسرے کو دے رہے ہیں، تو آپ نے فرمایا: جو ایسا کرے اس پر اﷲ لعنت فرمائے، کیا میں نے تمھیں اس سے روکا نہیں؟ جب تم میں سے کسی نے ننگی تلوار پکڑی ہوئی ہو اور وہ اپنے ساتھی کو دینا چاہے، تو اسے چاہیے کہ وہ تلوار نیام میں ڈال کردے۔3 حضرت سلیمان بن موسیٰ کہتے ہیں: کسی آدمی نے حضرت جابر بن عبد اﷲ ؓ سے مسجد میں تلوار ننگی کرنے کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے فرمایا: ہم اسے اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ ایک آدمی مسجد میں تیر صدقہ کیا کرتا تھا ۔ حضورﷺنے اسے حکم دیا کہ وہ جب بھی مسجد سے تیر لے کر گزرے تو وہ تیروں کے پھلوں کو اچھی طرح سے پکڑ کر گزرے۔4 حضرت محمد بن عبید اﷲ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد میں حضرت ابو سعید خدریؓ کے پاس تھے تو ایک آدمی نے اپنا تیر پلٹا، تو حضرت ابو سعیدؓ نے کہا:کیا اسے معلوم نہیں کہ حضورﷺ نے مسجد میں ہتھیار الٹنے پلٹنے سے منع فرمایا ہے۔1 حضرت بُرَیدہؓفرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے مسجد میں گمشدہ جانور کا اعلان کیا اور یہ کہا: کون ہے وہ (جس نے سرخ اونٹ دیکھا ہو اور وہ اس کے مالک کو) سرخ اونٹ (دینے) کے لیے بلا رہاہو؟ اس پر حضو ر ﷺ نے فرمایا: تمھیں تمہارا اونٹ نہ ملے۔ مسجدیں تو جن کاموں کے لیے بنائی گئی ہیں بس انھی کے لیے استعمال ہونی چاہییں (اور گمشدہ چیز کا اعلان ان کاموں میں سے نہیں ہے)۔2 حضرت ابنِ سیرین یا کوئی اور صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابنِ مسعودؓ نے مسجد میں ایک آدمی کو گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے سنا تو حضرت ابنِ مسعود ؓ نے اسے ڈانٹ کر خاموش کردیا اور فرمایا: ہم کو اس سے روکا گیاہے۔3 حضرت ابنِ سیرین کہتے ہیں کہ حضرت اُبی بن کعبؓ نے ایک آدمی کو مسجد میں اپنی گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے سنا تو حضرت اُبیؓ اس پر ناراض ہوئے، تو اس آدمی نے کہا: اے ابوالمُنذِر! آپ تو ایسی سخت بات نہیں کیا کرتے تھے۔ تو فرمایا: (مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرنے والے پر) ایسے ہی (غصہ) کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔4 حضرت سائب بن یزیدؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں سویا ہوا تھا کسی نے مجھے کنکری ماری (جس سے میری آنکھ کھل گئی)، تو میں نے دیکھا کہ وہ حضرت عمر بن خطاب ؓ ہیں۔ انھوں نے فرمایا: جاؤ اور ان دونوں کو میرے پاس لے آؤ۔ چناںچہ میں ان دونوں کو حضرت عمرؓ کے پاس لے آیا۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: تم دونوں کون ہو؟ انھوں نے کہا:ہم طائف کے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر تم دونوں اس شہر کے ہوتے تو میں تم کو دردناک سزا دیتا، تم رسول اﷲ ﷺ کی مسجد میں آواز بلند کررہے ہو۔5 حضرت ابراہیم کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے ایک آدمی کی (اونچی) آواز مسجد میں سنی تو فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تم کہاں ہو؟ کیا تم جانتے ہو کہ تم کہاں ہو؟ اور اونچی آواز کرنے پر حضرت عمرؓنے یوں ناگواری کا اظہار فرمایا۔1 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓجب بھی مسجد میں تشریف لاتے تو اونچی آواز سے یہ اعلان فرماتے کہ مسجد میں شور کرنے سے بچو۔دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت عمرؓ بلند آواز سے فرماتے:مسجد میں بے کار باتوں سے بچو۔2 حضرت ابنِ عمرؓفرماتے ہیںکہ حضرت عمر ؓنے مسجد میں شور کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ہماری اس مسجد میں آواز بلند نہ کی جائے۔3 حضرت سالمکہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓنے مسجد کے ساتھ ایک چبوترہ بنایا جس کا نام بُطَیحاء رکھا۔ اور فرماتے تھے کہ جو آدمی شور مچانا چاہے یا شعر پڑھنا چاہے یا آواز بلند کرنا چاہے اسے چاہیے کہ وہ (مسجد سے) باہر اس چبوترے پر چلا جائے۔4 حضرت طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ کسی جرم میں پکڑ کر ایک آدمی کو حضرت عمر ؓ کے پاس لایا گیا تو انھوں نے فرمایا: تم دونوں اسے مسجد سے باہر لے جاؤ اور وہاں اسے مارو۔5 حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فجر کی اذان اور اِقامت کے درمیانی وقفے میں کچھ لوگوں کو مسجد کی قبلہ والی دیوار کے ساتھ کمر لگا کر بیٹھے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تم لوگ فرشتوں اور ان کی نماز کے درمیان حائل نہ ہو۔6 حضرت عبداﷲ بن عامر اَلہانی کہتے ہیں کہ حضرت حابس بن سعد طائیؓ کو حضور ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل تھا۔ ایک مرتبہ وہ سحری کے وقت مسجد میں گئے تو انھوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ مسجد کے اگلے حصے میں نماز پڑھ رہے ہیں، تو فرمایا: ربِّ کعبہ کی قسم! یہ لوگ تو ریا کار ہیں۔ انھیں ڈراؤ، جو انھیں ڈرائے گا وہ اﷲاور رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والا شمار ہوگا۔ چناںچہ کچھ لوگ ان کے پاس گئے اور انھیں باہر نکال دیا، تو حضرت حابس ؓ نے فرمایا کہ فرشتے سحری کے وقت مسجد کے اگلے حصے میں نماز پڑھتے ہیں۔1 حضرت مُرَّہ ہمدانی کہتے ہیں: میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میں کوفہ کی مسجد کے ہر ستون کے پیچھے دورکعت نماز پڑھوں گا۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ اتنے میں حضرت ابنِ مسعود ؓ مسجد میں آگئے۔ میں اپنی یہ بات ان کو بتانے گیا تو ایک آدمی مجھ سے پہلے ان کے پاس چلا گیا اور میں جو کچھ کررہا تھا وہ اس آدمی نے ان کو بتادیا۔ اس پر حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: اگر اسے یہ معلوم ہوتا کہ اﷲ تعالیٰ سب سے قریبی ستون کے پاس بھی ہیں تو نماز پوری کرنے تک اس ستون سے آگے نہ بڑھتا (یعنی مسجد کے ہر ستون کے پاس نماز پڑھنا کوئی خاص ثواب کا کام نہیں ہے، ثواب میں نماز کے سارے ستون برابر ہیں)۔2