صحابہ کرام ؓ کا ایمان
شفاعت پر ایمان لانا
حضرت عوف بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں حضورﷺ نے آخر شب میں ایک جگہ پڑا ؤ ڈالا ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ ہم میں سے ہر آدمی اپنے کجاوے کی ہتھی کے ساتھ ٹیک لگاکر سوگیا۔ کچھ دیر بعد میری آنکھ کھلی تو مجھے حضورﷺ اپنے کجاوے کے پاس نظر نہ آئے۔ اس سے میں گھبراگیا اور حضورﷺ کوتلاش کرنے چل پڑ ا۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک جگہ مجھے حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ ملے۔ وہ دونوں بھی اسی وجہ سے گھبر ائے ہوئے تھے جس وجہ سے میں گھبرایا ہو اتھا۔ ہم لوگ یوںہی ڈھونڈرہے تھے کہ اچانک ہمیں وادی کے اوپر کے حصہ سے چکی چلنے جیسی آواز سنائی دی (ہم لوگ اس آواز کی طرف گئے تو دیکھا حضورﷺ رورہے ہیں)۔ پھر ہم نے حضورﷺ کو اپنی بات بتائی۔ حضورﷺ نے فرمایا: آج رات میرے پاس میرے ربّ کی طرف سے ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھے دوباتوں میں اختیار دیا کہ یا تو میں شفاعت کروں یا میری آدھی امت جنت میں چلی جائے۔ میں نے شفاعت کو اختیار کرلیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں آپ کو اللہ کا اور آپ کی صحبت میں رہنے کا واسطہ دے کر عرض کرتاہوں کہ آپ ہمیں بھی اپنی شفاعت والوں میں شامل کر لیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: آپ لوگ تو میری شفاعت والوں میںہوہی۔
پھر ہم لوگ حضورﷺ کے ساتھ چل پڑے یہاں تک کہ ہم لوگوں کے پاس پہنچ گئے تو وہ بھی حضورﷺ کو اپنی جگہ نہ پا کر گھبر ائے ہوئے تھے۔ یہ دیکھ کر حضورﷺ نے فرمایا: میرے پاس میرے ربّ کی طرف سے ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھے ان باتوں میں اختیار دیا کہ یا تو میں شفاعت اختیار کرلوں یا میری آدھی امت جنت میں داخل ہوجائے، چناںچہ میں نے شفاعت کو اختیار کرلیا۔ صحابہؓ نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا: ہم آپ کو اللہ کا اور آپ کی صحبت میں رہنے کا واسطہ دے کر عرض کرتے ہیں کہ آپ ہمیں بھی اپنی شفاعت والوں میں شامل کرلیں۔ جب تمام صحابہ آپ کے پاس جمع ہوگئے توآپ ﷺ نے فرمایا: میں تمام حاضرین کو اس بات پر گواہ بناتاہوں کہ میری شفاعت میری اُمت میں سے ہر اس آدمی کے لیے ہے جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔1
حضرت عبد الرحمن بن ابی عقیلؓ فرماتے ہیں کہ میں قبیلۂ ثقیف کے وفد کے ساتھ حضور ﷺ کے پاس گیا۔ جب ہم نے دروازے کے پاس سواریاں بٹھا ئیں تو اس وقت جس ذات کے پاس جارہے تھے ہمارے نزدیک اس سے زیادہ مبغوض اور کوئی انسان نہیں تھا، لیکن جب اس کی خدمت میں حاضر ی دے کرباہر آئے تو اس وقت ہمارے نزدیک اس ذ ات سے زیادہ محبوب اور کوئی انسان نہیں تھا جس کی خدمت میں ہم گئے تھے۔ ہم میں سے ایک آدمی نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپ نے اپنے ربّ سے حضرت سلیمان ؑ جیساملک کیوں نہ مانگ لیا؟ اس پر حضورﷺ ہنس پڑے اور فرمایا: ہوسکتا ہے تمہارے نبی کو اللہ کے ہاں ملکِ سلیمانی سے بہتر کوئی چیز مل جائے۔ اللہ تعالیٰ نے جونبی بھی بھیجا اسے ایک خاص دعاضرور عطافرمائی۔ کسی نبی نے وہ دعا مانگ کردنیا لے لی، کسی نبی کی قوم نافرمان تھی تو اس نے اپنی قوم کے خلاف بددعا کی تووہ ساری قوم ہلاک ہوگئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی وہ خاص دعا عطافرمائی، لیکن میں نے وہ دعا اپنے ربّ کے ہاں چھپاکر رکھی ہوئی ہے اور وہ دعا یہ ہے کہ میں قیامت کے دن اپنی اُمت کے لیے شفاعت کروںگا۔2
حضرت اُمِّ سَلَمہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: میں اپنی اُمت کے برے لوگوں کے لیے بہترین آدمی ہوں۔ تو قبیلہ مُزینہ کے ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میںعرض کیا: یارسول اللہ! جب آپ اپنی اُمت کے بروںکے لیے ایسے ہیں تو ان کے نیکوں کے لیے کیسے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میری اُمت کے نیک لوگ اپنے اعمال کی برکت سے جنت میں داخل ہوجائیں گے اور میری اُمت کے برے لوگ میری شفاعت کا انتظارکریں گے۔ غور سے سنو! میری شفاعت قیامت کے دن میری اُمت کے تمام لوگوں کے لیے ہوگی سوائے اس آدمی کے جو میرے صحابہ میں کمی نکالتا ہے۔1
حضرت علی بن ابی طالبؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: میںاپنی امت کے لیے شفاعت کرتارہو ںگا یہاں تک کہ میرا ربّ مجھے پکا ر کر پوچھے گا: اے محمد! کیا تم راضی ہوگئے؟ میںکہوں گا: جی ہاں میںراضی ہوگیا۔ پھر حضرت علیؓنے (لوگوں کی طرف) متوجہ ہوکر فرمایا: تم عراق والے یہ کہتے ہو کہ قرآن میں سب سے زیادہ امیدوالی آیت یہ ہے:
{یٰـعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِط اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاط اِنَّہُ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ آیت کا نشان}2
آپ کہہ دیجیے کہ اے میرے بندو! جنھوں نے (کفروشرک کرکے) اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں کہ تم خداکی رحمت سے ناامید مت ہو، بالیقین اللہ تعالیٰ تمام (گذشتہ) گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ واقعی وہ بڑا بخشنے والابڑی رحمت والا ہے۔
میں نے کہا: ہم تو یہی کہتے ہیں۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا: لیکن ہم اہلِ بیت یہ کہتے ہیں کہ اللہ کی کتاب میں سب سے زیادہ امید والی آیت ہے:
{وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی آیت کا نشان}3
اور عن قریب اللہ تعالیٰ آپ کو (آخرت میں بکثرت نعمتیں) دے گا سو آپ خوش ہوجائیں گے۔
اور اس دینے سے مراد شفاعت ہے۔4
حضرت ابنِ بریدہ کہتے ہیں کہ میرے والد حضرت بُریدہؓ حضرت معاویہ ؓ کے پاس گئے وہاں اس وقت ایک آدمی بات کررہا تھا۔ حضرت بریدہؓ نے کہا: کیا آپ مجھے بات کرنے کی اجازت دیتے ہیں؟ حضرت معاویہ ؓ نے کہا:جی ہاں، اجازت ہے۔ حضرت معاویہؓ کا خیال تھا کہ حضرت بریدہؓ بھی ویسی بات کریںگے جیسی دوسرا کررہا تھا۔ حضرت بریدہؓ نے کہا: میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے امید ہے کہ میں قیامت کے دن اتنے لوگوں کی شفاعت کروںگا جتنے زمین پر درخت اور پتھر ہیں۔ پھر حضرت بریدہؓنے کہا: اے معاویہ! آپ تو اس شفاعت کے امیدوار ہیں اور حضرت علی ؓ اس شفاعت کے امیدوار نہیں ہیں۔1
حضرت طلق بن حبیب کہتے ہیں: میں لوگوں میں سب سے زیادہ شفاعت کو جھٹلایا کرتاتھا یہاں تک کہ ایک دن میری ملاقات حضرت جابر بن عبداللہؓ سے ہوئی اور (اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے) میں نے ان کو وہ تمام آیتیں پڑھ کرسنادیں جو مجھے آتی تھیں اور جن میں اللہ تعالیٰ نے جہنم والوں کے جہنم میں ہمیشہ رہنے کا ذکر فرمایا ہے۔ حضرت جابرؓ نے فرمایا: اے طلق! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم مجھ سے زیادہ اللہ کی کتاب کو پڑھنے والے ہو اور مجھ سے زیادہ رسول اللہ کی سنت کو جاننے والے ہو؟ تم نے جو آیتیں پڑھی ہیں ان سے مراد تو جہنم والے ہیں جو مشرک ہوں، اور شفاعت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو (مسلمان تھے لیکن وہ) بہت سے گناہ کر بیٹھے اور انھیں (جہنم میں) عذاب دیا جائے گا، پھر ان کو (حضورﷺ کی شفاعت پر) جہنم سے نکالاجائے گا۔ پھر حضرت جابرؓ نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کو لگاکر کہا: یہ دونوں کان بہرے ہوجائیں اگر میں نے حضورﷺ کویہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو کہ جہنم میں ڈالنے کے بعد ان کواس میں سے نکالا جائے گا۔ جیسے تم قرآن پڑھتے ہو ہم بھی ویسے ہی پڑ ھتے ہیں۔2
حضرت یزید الفقیر کہتے ہیں کہ حضر ت جابربن عبد اللہؓ حدیثیں بیان فرما رہے تھے میں ان کی مجلس میںجاکر بیٹھ گیا۔ انھوں نے یہ بیان کیا کہ کچھ لوگ جہنم کی آگ سے باہر نکلیں گے۔ ان دنوں میں اس بات کو نہیں مانتاتھا اس لیے مجھے غصہ آ گیا اور میں نے کہا: اور لوگوں پر تو مجھے تعجب نہیں ہے لیکن اے محمدﷺ کے صحابہ! مجھے آپ لوگوں پر بڑا تعجب ہے۔ آپ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آگ سے کچھ لوگوں کو نکالیں گے حالاںکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا ھُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنھَا}3
اس بات کی خواہش کریں گے کہ جہنم سے نکل آویں اور وہ اس سے کبھی نہ نکلیںگے۔
حضرت جابر ؓ کے ساتھی مجھے ڈانٹنے لگے۔ حضرت جابرؓخود اُن میں سب سے زیادہ بُردبار تھے۔ انھوں نے فرمایا: اس آدمی کو چھوڑ دو۔ اور فرمایا: یہ آیت تو کفار کے بارے میں ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی:
{اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ أَنَّ لَھُمْ مَّا فِیْ الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّمِثْلَہٗ لِیَفْتَدُوْا بِہٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَۃ} سے لے کر {وَلَھُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ آیت کا نشان} تک۔1
یقینا جولوگ کافرہیں، اگر ان کے پاس تمام دنیا بھر کی چیزیں ہوں، اور ان چیزوں کے ساتھ اتنی چیزیں اور بھی ہوں تاکہ وہ اس کو دے کر روزِقیامت کے عذاب سے چھوٹ جاویں، تب بھی وہ چیزیں ہر گز ان سے قبول نہ کی جاویں گی اور ان کو دردناک عذاب ہوگا۔ اس بات کی خواہش کریں گے کہ جہنم سے نکل آئیں اور وہ اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور ان کو عذاب دائمی ہو گا۔
پھر حضرت جابر ؓ نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: پڑھتاہوں، بلکہ میں نے قرآن یاد کیا ہواہے۔ انھوں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:
{وَمِنَ اللَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًاآیت کا نشان}2
اور کسی قدر رات کے حصہ میں،سو اس میںتہجد پڑھا کیجیے جو کہ آپ کے لیے (فرض نمازوں کے علاوہ) زائد چیزہے، امید ہے کہ آپ کا ربّ آپ کو مقامِ محمود میں جگہ دے گا۔
یہی وہ مقام ہے (جو شفاعتِ کبریٰ کا ہے)۔ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے کچھ عرصہ جہنم میںرکھیں گے اور ان سے با ت بھی نہ فرمائیں گے، اور جب ان کو وہاں سے نکالناچاہیں گے نکال لیںگے۔ حضرت یزید الفقیرکہتے ہیں: اس کے بعد میں نے کبھی شفاعت کو نہیں جھٹلایا۔3