صحابہ کرام ؓ کا ایمان

ایمان کی حقیقت اور اس کاکمال

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضورﷺ مسجد میں تشریف لے گئے تو وہاں حضرت حارث بن مالک ؓ سورہے تھے۔ حضورﷺ نے ان کو پاؤں سے ہلایا اور فرمایا: اپنا سر اٹھا ؤ۔ انھوں نے سر اٹھا کر کہا: یارسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! حضورﷺ نے فرمایا: اے حارث بن مالک! تم نے کس حال میں صبح کی؟ انھوںنے عرض کیا: یارسول اللہ! میں نے پکاسچا مؤمن ہونے کی حالت میںصبح کی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: ہر حق بات کی کوئی حقیقت ہوا کرتی ہے، جو تم کہہ رہے ہو اس کی حقیقت کیا ہے؟ حضرت حارث ؓ نے عرض کیا: میں نے اپنے آپ کو دنیا سے ہٹالیا، اور دن کو میںپیا سارہتا ہوں یعنی روزہ رکھتا ہوں اور رات کو جاگتا ہوں۔ اور مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے میں اپنے ربّ کے عرش کو دیکھ رہا ہوں اور جنت والوں کو جنت میں ایک دوسرے کی زیارت کر تے ہوئے دیکھ رہا ہو ں اور جہنم والوں کو ایک دوسرے پر بھونکتے ہوئے دیکھ رہاہوں۔ حضورﷺ نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارا دل نورانی بنادیا ہے اور تم نے (ایمان کی حقیقت کو) پہچان لیا ہے، لہٰذا تم اس (ایمانی کیفیت) پر پکے رہو۔1 ایک روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: تم نے (حقیقت کو) دیکھ لیا ہے، اب اس کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: اس بندے کے دل میں اللہ نے ایمان کو روشن کیا ہے۔ انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ میرے لیے اللہ سے شہادت کی دعا فرما دیں۔ حضورﷺ نے دعا فرمادی۔ چناں چہ ایک دن اعلان ہوا کہ اے اللہ کے سوار و! (گھوڑ وں پر) سوار ہو جاؤ۔ اس پر یہی سب سے پہلے سوار ہوئے اور یہی سب سے پہلے شہید ہوئے۔2 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضورﷺ تشریف لے جارہے تھے کہ سامنے سے ایک انصاری نوجوان آئے۔ حضورﷺ نے ان سے فرمایا: اے حارث! تم نے کس حال میں صبح کی؟ انھوں نے عرض کیا: میں نے اللہ پر پختہ ایمان لانے کی حالت میں صبح کی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم دیکھ لو کیا کہہ رہے ہو؟ کیوںکہ ہر قول کی حقیقت ہوا کرتی ہے۔ انھوں عرض کیا: یارسول اللہ! میں نے اپنا دل دنیا سے ہٹالیا ہے۔ پھر آگے عسکری جیسی حدیث ذکر کی ہے، اور مزید کچھ اور مضمون بھی ہے۔3 اور ایک روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺنے فرمایا: ہر قول کی کوئی حقیقت ہواکرتی ہے، تمہارے ایمان کی کیا حقیقت ہے؟ 4 حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم نے کس حال میں صبح کی؟ حضرت معاذ نے عرض کیا: میںنے آپ پر ایمان لانے کی حالت میں صبح کی۔ حضورﷺ نے فرمایا: ہر بات کی سچائی کی کوئی دلیل ہوتی ہے اور ہر حق بات کی ایک حقیقت ہوتی ہے، تمہاری بات کی سچائی کی کیا دلیل ہے؟ حضرت معاذ ؓ نے عرض کیا:اے اللہ کے نبی! جب بھی صبح ہوتی ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں شام نہیں کرسکوںگا۔ اور جب بھی شام ہوتی ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں صبح نہیں کرسکوںگا۔ اور جب بھی کوئی قدم اٹھاتا ہوں تو یہ گمان کر تا ہوں کہ میں دوسراقدم نہیں اٹھا سکوںگا۔ اور گویا کہ میں اُن تمام اُمتوں کی طرف دیکھ رہا ہوں جو گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوئی ہیںاور انھیں ان کے اعمال نامے کی طرف بلایاجارہا ہے اور ان کے ساتھ ان کے نبی بھی ہیں اور ان کے ساتھ وہ بت بھی ہیں جن کی وہ اللہ کے علاوہ عبادت کیاکرتے تھے۔ اور گویا کہ میں جہنم والوں کی سزا اور جنت والوں کے اجر وثواب کو دیکھ رہا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم نے (ایمان کی حقیقت) پہچان لی، اب اسی پر جمے رہنا۔1 اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف دعوت دینے کے باب میں حضرت سُوید بن حارثؓ کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی قوم کے سات آدمیوں کا وفد لے کر حضورﷺ کی خدمت میں گیا۔ جب ہم آپ کی خدمت میںحاضر ہوئے، اور ہم نے آپ سے گفتگو کی تو آپ کو ہمارا اندازِ گفتگو اور انداز نشست وبرخاست اور لباس پسند آیا۔ آپ نے فر مایا: تم کون لوگ ہو؟ ہم نے عرض کیا: مؤمن ہیں۔ اس پر آپ مسکرانے لگے اور فرمایا: ہر بات کی ایک حقیقت اور نشانی ہوا کرتی ہے، تمہارے اس قول اور ایمان کی کیا حقیقت اور نشانی ہے؟ حضرت سویدؓ فرماتے ہیں: ہم نے عرض کیا: پندرہ خصلتیں ہیں۔ ان میں سے پانچ خصلتیں تو وہ ہیں جن کے بارے میں آپ کے قاصدوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان پر ایمان لائیں۔ اور ان میں سے پانچ خصلتیں وہ ہیں جن کے بارے میں آپ کے قاصدوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان پر عمل کر یں۔ اور ان میں سے پانچ خصلتیں وہ ہیں جن کو ہم نے زمانۂ جاہلیت میں اختیار کیا تھا اور ہم اب تک ان پر قائم ہیں، لیکن اگر ان میں سے کسی کو آپ ناگوار سمجھیں تو ہم اسے چھوڑ دیں گے۔ پھر آگے اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لانے، اور ارکانِ اسلام اور اخلاقِ طیبہ کے بارے میں حدیث ذکر کی ہے۔ حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہواتھا کہ اتنے میں قبیلۂ بنوحارثہ کے حضرت حرملہ بن زید انصاری ؓ آئے اور انھوں نے حضورﷺ کے سامنے بیٹھ کر ہاتھ سے زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عرض کیا: یارسول اللہ!ایمان یہاں پر ہے۔ اور سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا: اور یہاں نفاق ہے اور یہ دل اللہ کا ذکر بہت کم کر تا ہے۔ حضور ﷺ خاموش رہے۔ حضرت حرملہ ؓ نے اپنی بات پھر دہرائی۔ حضورﷺ نے حضرت حرملہ کی زبان کا کنارہ پکڑکر کہا: اے اللہ! اس کی زبان کو سچ بولنے والا اور اس کے دل کو شکر کرنے والا بنادے، اور اسے میری محبت نصیب فرما اور جو مجھ سے محبت کرے اس کی محبت بھی اسے نصیب فرما، اور اس کے معاملے کو خیر کی طرف موڑ دے۔ حضرت حرملہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! میرے بہت سے بھائی منافق ہیں میں ان کا سردار تھا۔ کیا میں آپ کو ان کے نام نہ بتاؤں؟ حضورﷺ نے فرمایا: جو بھی ہمارے پاس اس طرح آئے گا جس طرح تم ہمارے پاس آئے، ہم اس کے لیے ایسے ہی استغفار کریں گے جیسے ہم نے تمہارے لیے کیا۔ اور جو نفاق پر ہی ڈٹارہے گا تو اللہ اس سے خود ہی نبٹ لیںگے۔1