نبی کریم ﷺ کے صحابۂ کرامؓ کی معاشرت
نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہّرات ؓ کے گھر
حضرت معاذ بن محمد انصاری ؓ کہتے ہیں کہ ایک مجلس میں حضرت عمران بن ابی انس ؓ بھی تھے۔ اس مجلس میں حضرت عطاء خراسانی قبرِ اطہر اور منبر کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے دیکھا کہ حضورﷺ کی ازواجِ مطہّرات کے گھر کھجور کی ٹہنیوں کے بنے ہوئے تھے اور ان کے دروازوں پر کالے بالوں کے بنے ہوئے پردے تھے۔ پھر میں اس وقت موجود تھا جب کہ ولید بن عبد الملک بادشاہ کا خط پڑھا جا رہا تھا جس میں اس نے حکم دیا تھا کہ نبی کریمﷺ کی ازواجِ مطہرات کے گھر مسجدِ نبوی میں شامل کر دیے جائیں۔ اس دن سے زیادہ رونے والے میں نے کبھی نہیں دیکھے۔ چناںچہ میں نے حضرت سعید بن مسیب ؓکو اس دن یہ کہتے ہوئے سنا: اﷲ کی قسم! کاش! یہ لوگ ان گھروں کو ان کے حال پر رہنے دیتے تاکہ مدینہ میں پیدا ہونے والی نسلیں اور اطرافِ عالم سے آنے والے لوگ دیکھ لیتے کہ حضورﷺ نے اپنی زندگی میں کس چیز پر اکتفا فرمایا اس سے لوگوں کے دلوں میں دنیا کے بڑھانے اور اس میں فخر کرنے کی بے رغبتی پیدا ہوتی۔
حضرت معاذ کہتے ہیں کہ جب حضرت عطاء خراسانی اپنی بات پوری کر چکے تو حضرت عمران بن ابی انس نے کہا: ان میں سے چار گھر کچی اینٹوں کے تھے اور ان کا صحن کھجور کی ٹہنیوں سے بنا ہوا تھا۔ اور پانچ گھر کھجور کی ٹہنیوں کے تھے جن پر گارا لگا ہوا تھا اور ان کا صحن کوئی نہیں تھا۔ ان کے دروازوں پر بالوں کے پردے تھے۔ میں نے پردے کی پیمایش کی تو وہ تین ہاتھ لمبا اور ایک ہاتھ سے زیادہ چوڑا تھا۔ اور آپ نے اس دن لوگوں کے بہت زیادہ رونے کا تذکرہ کیا (تو یہ مجھے بھی یاد ہے)۔ میں بھی ایک ایسی مجلس میں بیٹھا جس میں حضور ﷺ کے صحابہ کے چند بیٹے بیٹھے ہوئے تھے جن میں حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن اور حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف اور حضرت خارجہ بن زیدؓ بھی تھے اور یہ سب اتنا زیادہ رو رہے تھے کہ ان کی ڈاڑھیاں تر ہوگئی تھیں۔ اور اس دن حضرت ابو اُمامہ نے یہ بھی کہا تھا کہ کاش! یہ گھر ایسے ہی چھوڑ دیے جاتے اور انھیں گرایا نہ جاتا تا کہ لوگ (ان گھروں کو دیکھ کر) اُونچے اور بڑے گھر نہ بناتے اور دیکھ لیتے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے کیا پسند کیا حالاںکہ دنیا کے خزانوں کی چابیاں ان کے ہاتھ میں تھیں۔1