نبی کریم ﷺ کے صحابۂ کرامؓ کی معاشرت

کھانے پینے میں حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ کا طریقہ

حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کبھی کھانے میں عیب نہیں نکالتے تھے، اگر طبیعت چاہتی تو کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔4 حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کو بکری کے گوشت میں سب سے زیادہ دستی پسند تھی۔5 حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو دستی بہت پسند تھی اور دستی کے گوشت میں ہی حضورﷺ کو زہر ڈال کر دیا گیا تھا اور سب کا خیال یہ تھا کہ یہودیوں نے ہی آپ کو زہر دیا تھا۔1 حضرت جابر بن عبد اﷲؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہمارے پاس گھر میں تشریف لائے، ہم نے آپ کے لیے ایک بکری ذبح کی۔ حضورﷺ نے (دل داری کے لیے اظہارِ مسرّت کے طور پر) فرمایا کہ بظاہر ان لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ ہمیں گوشت پسند ہے۔ آگے حدیث میں مشہور قصہ ہے۔2 حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺکو کدّو پسند تھا۔ آپ کے پاس کھانا لایا گیا یا آپ کو کھانے کے لیے بلایا گیا، چوںکہ مجھے معلوم تھا کہ آپ کو کدّو پسند ہے اس لیے میں کدّو تلاش کر کر کے آپ کے سامنے رکھنے لگا۔3 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب کھانا کھا لیتے تو اپنی تین اُنگلیاں چاٹ لیا کرتے۔4 حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھا تے تھے اور دودھ نکالنے کے لیے بکری کی ٹانگوں کو باندھا کرتے اورجَو کی روٹی پر بھی غلام کی دعوت قبول کر لیا کرتے (یعنی آپ بہت متواضع تھے)۔5 حضرت یحییٰ بن ابی کثیر ؓکہتے ہیں کہ حضرت سعدبن عبادہؓ روزانہ ثرید کا ایک پیالہ حضورﷺ کی خدمت میں بھیجا کر تے اور حضورﷺ جس بیوی کے ہاں ہوتے وہ وہاں ہی بھیج دیا کرتے۔6 حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کے لیے ایک بکری کا دودھ نکالا گیا، اس میں سے آپ نے کچھ دودھ نوش فرمایا اور پھر پانی لے کر آپ نے کلی کی اور فرمایا کہ دودھ میں چکناہٹ ہوتی ہے۔1 حضرت ابو بکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے (سفرمیں ) ایک جگہ قیام فرمایا۔ وہاں ایک عورت نے اپنے بیٹے کے ساتھ ایک بکری آپ کے پاس بھیجی۔ آپ نے اس کا دودھ نکالا پھر اس لڑکے سے کہا: یہ اپنی ماں کے پاس لے جائو۔ (وہ اپنی ماں کے پاس لے گیا) اس کی ماں نے خوب سیر ہو کر دودھ پیا۔ وہ لڑکا دوسری بکری لے آیا۔ حضورﷺ نے اس کا دودھ نکالا اور مجھے پلایا۔ پھر وہ لڑکا ایک اور بکری لے آیا، اس کا دودھ نکال کر حضورﷺ نے خود نوش فرمایا۔2 حضرت ابراہیم ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ اپنا دایاں ہاتھ کھانے پینے، وضو اور ان جیسے کاموںکے لیے فارغ رکھتے۔ اور اپنا بایاں ہاتھ استنجا، ناک صاف کرنے اور ان جیسے کاموں کے لیے رکھتے۔3 حضرت جعفر بن عبد اﷲ بن حَکَم بن رافع ؓکہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور کبھی اِدھر سے کھا رہا تھا کبھی اُدھر سے۔ حضرت حکمؓ مجھے دیکھ رہے تھے، انھوں نے مجھ سے فرمایا: اے لڑکے! ایسے نہ کھائو جیسے شیطان کھاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ جب کھانا کھاتے تو آپ کی انگلیاں آپ کے سامنے ہی رہتی تھیں (اِدھر اُدھر نہ جاتی تھیں)۔4 حضرت عمر بن ابی سلمہؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن حضورﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا تو میں پیالہ کے اردگرد سے گوشت لینے لگا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اپنے سامنے سے کھائو۔5 حضرت اُمیّہ بن مخشیؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے دیکھا کہ ایک آدمی کھانا کھا رہا ہے اس نے بسم اﷲ نہیں پڑھی ہے۔ کھاتے کھاتے بس ایک لقمہ رہ گیا، جب اسے منہ کی طرف اٹھا نے لگا تو اس نے بِسْمِ اﷲ ِ أَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہٗ کہا۔ اس پر حضورﷺ ہنس پڑے اور فرمایا: اﷲ کی قسم! شیطان تمہارے ساتھ کھاتا رہا، پھر جب تم نے بسم اﷲ پڑھی تو جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا وہ سب اس نے قے کر دیا۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جب تم نے اﷲ کا نام لیا تو اس کے پیٹ میں جو کچھ تھا وہ اس نے قے کر دیا۔1 حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم لوگ حضورﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں کھانے کا ایک پیا لہ لا کر رکھا گیا۔ حضورﷺ نے کھانے سے ہاتھ روکے رکھا تو ہم نے بھی اپنے ہاتھ روکے رکھے، کیوںکہ جب تک حضورﷺ کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے تھے ہم بھی نہیں بڑھاتے تھے۔ اتنے میں ایک دیہاتی آیا، ایسے لگ رہا تھا جیسے اسے کوئی دھکے دے کر لا رہا ہو۔ اس نے کھانے کے لیے پیالے کی طرف ہاتھ بڑھا یا تو حضور ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ پھرایک لڑکی آئی ایسے لگ رہا تھا جیسے اسے کوئی دھکے دے کر لا رہا ہو، وہ بھی کھانے میںہاتھ ڈالنے لگی تو حضورﷺ نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: لوگوں کے جس کھانے پر اﷲ کا نام نہ لیا جائے وہ کھانا شیطان کے لیے حلال ہو جاتا ہے۔ جب شیطان نے دیکھا کہ ہم نے اپنے ہاتھ روکے ہوئے ہیں تووہ ان دونوں کو لے کر آیا تاکہ یہ بغیر بسم اﷲ کے کھانا شروع کریں او ر کھانا اس کے لیے حلال ہو جائے۔ اس اﷲ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے! شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔2 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ چھ آدمیوں کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ اتنے میں ایک دیہاتی داخل ہوا اور ان کے سامنے سے سارا کھانا دو لقموں میں کھا گیا۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا: اگر یہ بسم اﷲ پڑھتا تو یہ کھانا سب کے لیے کافی ہو جاتا۔ جب تم میں سے کوئی کھانا کھانے لگے تو اسے بسم اﷲ پڑھنی چاہیے، اگر بسم اﷲ پڑھنا شروع میں یاد نہ رہے تو جب بسم اﷲ یاد آجائے تو بِسْمِ اﷲِ أَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہٗکہہ لے۔3 حضرت عبد اﷲ بن بُسرؓ فرماتے ہیںکہ حضورﷺ میرے والد صاحب کے ہاں آکر ٹھہرے۔ میرے والد حضورﷺ کی خدمت میں ستّو اور کھجور اور گھی کا بنا ہوا حلوہ لے کر آئے، حضور ﷺ نے اسے کھایا۔ پھر میرے والد پینے کی کوئی چیز لے کر آئے جسے حضورﷺ نے نوش فرمایا، پھر پیالہ اپنے دائیں طرف کے ایک صاحب کو دے دیا۔ اور آپﷺ جب کھجور کھایا کرتے توگٹھلی کو اس طرح ڈالا کرتے۔ حضرت عبد اﷲ نے اپنی انگلی سے اس کی پشت کی طرف اشارہ کر کے بتایا۔ جب حضورﷺ سوار ہونے لگے تو میرے والد نے کھڑے ہوکر حضور ﷺ کے خچر کی لگام پکڑی اور عرض کیا: یا رسول اﷲ! آپ ہمارے لیے اﷲ سے دعا فرما دیں۔ حضورﷺ نے یہ دعا فرمائی: اے اﷲ! ان کو جو روزی تُونے دی ہے اس میں برکت نصیب فرما۔ ان کی مغفرت فرما۔ ان پر رحم فرما۔1 حضرت عبد اﷲ بن بُسرؓ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے میری والدہ سے کہا کہ اگر تم حضور ﷺ کے لیے کچھ کھانا پکالو تو بہت ہی اچھا ہو۔ چناںچہ میری والدہ نے ثرید تیار کیا۔ پھر میرے والد گئے اور حضورﷺ کو بلا کر لے آئے۔ حضورﷺ نے ثرید کے درمیان میں سب سے اونچی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا: اﷲ کا نام لے کر کھائو۔ چناںچہ سب نے پیالے کے کنارے سے کھانا شروع کیا۔ جب سب کھا چکے تو حضورﷺ نے فرمایا: اے اﷲ! ان کی مغفرت فرما۔ ان پر رحم فرما۔ اور ان کے رزق میں برکت نصیب فرما۔2 حضرت ابنِ اَعبد ؓکہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے فرمایا: اے ابنِ اَعبد! کیا تم جانتے ہو کہ کھانے کا حق کیا ہے؟ میں نے کہا: کھانے کا حق کیا ہے؟ حضرت علی نے فرمایا: تم یوں کہوں: بسم اﷲ، اے اﷲ! جو رزق تُونے ہمیں دیا ہے اس میں برکت نصیب فرما۔ پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ جب تم کھانا کھا چکو تو اس کا شکر کیا ہے؟ میں نے کہا: کھانے کا شکر کیا ہے؟ انھوں نے فرمایا: کھانے کا شکر یہ ہے کہ تم کھانے کے بعد یہ دعا پڑھو : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا۔3 حضرت عمر ؓ نے فرمایا بہت زیادہ کھانے پینے سے بچو، کیوںکہ زیادہ کھانے پینے سے جسم خراب ہو جاتا ہے اور اس سے کئی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں اور نماز میں سستی آجاتی ہے۔ لہٰذا کھانے پینے میں میانہ روی اختیار کرو، کیوںکہ میا نہ روی سے جسم زیادہ ٹھیک رہتا ہے، اور اِسراف سے زیادہ دور رہتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ موٹے عالم کو پسند نہیں فرماتے (جسے اپنا جسم زیادہ کھا پی کر موٹا کرنے کی فکر ہو)۔ اور آدمی تب ہی ہلاک ہوتا ہے جب اپنی شہوتوں کو اپنے دین پر مقدم کر دیتا ہے۔1 حضرت ابو محذورہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حضرت صفوان بن اُمیّہؓ ایک پیالہ لے کر آئے اور حضرت عمر کے سامنے رکھ دیا۔ حضرت عمر نے مسکینوں کو اور آس پاس کے لوگوں کے غلاموں کو بلایا اور ان سب نے حضرت عمر کے ساتھ یہ کھاناکھایا اور پھر حضرت عمر نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت کرے جو اس بات سے اعراض کرتے ہیں کہ ان کے غلام ان کے ساتھ کھانا کھائیں۔ حضرت صفوان نے کہا: ہمیں ان کے ساتھ کھانے سے انکار نہیں، لیکن ہمیں عمدہ کھانا اتنا نہیں ملتا جو ہم خود بھی کھالیں اور انھیں بھی کھلا دیں، اس لیے ہم کھانا الگ بیٹھ کر کھا لیتے ہیں۔2 امام مالک بن انس ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بتایا گیا کہ حضرت ابنِ عمرؓ نے ایک مرتبہ جُحفہ مقام پر پڑائو ڈالا تو ابنِ عامر بن کریز ؓ نے اپنے نانبائی سے کہا: تم اپنا کھانا حضرت ابنِ عمر کے پاس لے جائو۔ وہ پیالہ لے کر گیا۔ حضرت ابنِ عمر نے کہا: رکھ دو۔ وہ نانبائی دوسرا پیالہ لے کر گیا اور پہلا پیالہ اُٹھانے لگا۔ حضرت ابنِ عمر نے کہا: کیاکرنے لگے ہو؟ اس نے کہا: میں اس پیالے کو اُٹھانے لگا ہوں۔ حضرت ابنِ عمر نے کہا: نہیں، دوسرے میں جو کچھ ہے وہ پہلے میںہی ڈال دو۔ چناںچہ وہ نانبائی جو بھی لاتا اسے پہلے میں ڈلواتے۔ وہ نانبائی غلام جب ابنِ عامر کے پاس گیا تو اس نے کہا: یہ تو اُجڈدیہاتی ہیں۔ حضرت ابنِ عامر نے اس سے کہا: یہ تمہارے سردارہیں، یہ حضرت ابنِ عمرؓ ہیں۔3 حضرت جعفر ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عباسؓ انار کا ایک دانہ لیتے اور اسے کھالیتے۔ کسی نے ان سے کہا: اے ابنِ عباس! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ حضرت ابنِ عباس نے فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ زمین میں جو انار بھی اُگتا ہے اس میں جنت کا ایک دانہ ضرور ہوتا ہے، تو میں ایک ایک دانہ اس خیال سے کھاتا ہوں کہ شاید جنت والا دانہ یہی ہو۔1 حضرت زید بن صُوحان ؓ کے غلام حضرت سالم ؓکہتے ہیں کہ میں اپنے آقا حضرت زید بن صُوحان کے ساتھ بازار میں تھا۔ حضرت سلمان فارسیؓ ہمارے پاس سے گزرے۔ انھوں نے ایک وسق (ساٹھ صاع یعنی سوا پانچ من) غلہ خرید رکھا تھا۔ حضرت زید نے ان سے کہا: اے اﷲ کے بندے! آپ حضورﷺ کے ساتھی ہو کر یہ کر رہے ہیں (اتنا غلہ جمع کر رہے ہیں؟) حضرت سلمان نے کہا کہ انسان جب اپنی روزی جمع کر لیتا ہے تو اس کا نفس مطمئن ہو کر عبادت کے لیے فارغ ہو جاتا ہے اور وسوسہ ڈالنے والا شیطان اس سے نااُمید ہو جاتا ہے۔2 حضرت ابو عثمان نہدی ؓکہتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسیؓ نے فرمایا: میں اپنے ہاتھ سے کما کر کھانے کو پسند کرتا ہوں۔3 حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میرے پاس پندرہ کھجوریں تھیں۔ پانچ کھجوریں میں نے افطاری میں کھائیں اور پانچ سحری میں، اور پانچ کھجوریں میں نے اپنے افطار کے لیے بچالیں۔4 حضرت علی بن ابی طالبؓ کے غلام حضرت مسلم ؓکہتے ہیں کہ حضرت علی نے پینے کی کوئی چیز منگوائی۔ میں ان کے پاس پانی کا ایک پیالہ لایا اور میں نے اس پیالہ میں پھونک مار دی تو حضرت علی نے اسے واپس کر دیا اور پینے سے انکار کر دیا اور فرمایا: تم ہی اسے پی لو (تمھیں پھونک نہیں مارنی چاہیے تھی)۔5