نکاح میں حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ کا طریقہ

حضرت جُلَیْبِیبؓ کا نکاح

حضرت ابو برزہ اسلمیؓ فرماتے ہیں کہ حضرت جُلَیْبِیبؓ ایسے آدمی تھے جو عورتوں میں چلے جاتے، ان کے پاس سے گزرتے اور ان سے ہنسی مذاق کر لیا کرتے۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: حضرت جُلَیْبِیب کو کبھی اپنے پاس نہ آنے دینا ۔ اگر وہ تمہارے پاس آگیا تو میں یہ کروں گا اور یہ کروں گا۔ اور انصار کا دستور یہ تھا کہ جب ان کی کوئی عورت بیوہ ہو جاتی تو اس وقت تک اس کی آگے شادی نہ کرتے جب تک یہ پتا نہ چل جاتا کہ حضورﷺ کو اس کی ضرورت ہے یا نہیں۔ چناںچہ حضورﷺ نے ایک انصاری سے فرمایا: اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کر دو۔ اس نے کہا: ضرور یا رسول اﷲ! بسر وچشم یہ میرے لیے بڑی عزّت کی بات ہے اور آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: لیکن میں خود شادی نہیں کرناچاہتا۔ اس انصاری نے پوچھا: یا رسول اﷲ! کس سے شادی کرنا چاہتے ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: جُلَیْبِیب سے۔ اس انصاری نے کہا: ذرا میں اس کی ماں سے مشورہ کر لوں۔ چناںچہ جا کر اپنی بیوی سے کہا کہ رسول اﷲ ﷺ تمہاری بیٹی کے لیے شادی کا پیغام دے رہے ہیں۔ اس کی بیوی نے کہا: ضرور بسر وچشم۔ انصاری نے کہا کہ حضورﷺ اپنے لیے پیغام نہیں دے رہے بلکہ حضرت جُلَیْبِیب کے لیے دے رہے ہیں۔ بیوی نے کہا: جُلَیْبِیب؟ بالکل نہیں۔ جُلَیْبِیب، بالکل نہیں۔ اﷲ کی قسم! اس سے ہم شادی نہیں کریں گے۔ جب وہ انصاری حضورﷺ کو جا کر اپنی بیوی کا مشورہ بتانے کے لیے اٹھنے لگے تو اس لڑکی نے کہا: میری شادی کا پیغام آپ لوگوں کو کس نے دیا ہے؟ اس کی ماں نے اسے بتایا (کہ حضورﷺ نے دیا ہے)۔ تو اس لڑکی نے کہا: کیا آپ لوگ اﷲکے رسول ﷺ کی بات کا انکار کرو گے؟ مجھے حضورﷺ کے حوالے کر دو، وہ مجھے ہرگز ضایع نہیں ہونے دیں گے۔ چناںچہ اس کے والد نے جا کر حضورﷺ سے عرض کر دیا کہ میری بیٹی آپ کے اختیار میں ہے جس سے چاہیں شادی کر دیں۔ چناںچہ حضورﷺ نے حضرت جُلَیْبِیب سے اس کی شادی کر دی۔ پھر حضورﷺ ایک غزوہ میں تشریف لے گئے۔ جب اﷲ تعالیٰ نے حضورﷺ کو فتح نصیب فرما دی تو آپ نے فرمایا: کون سا ساتھی تم لوگوں کو نظر نہیں آرہا ہے؟ صحابہ نے کہا: کوئی ایسا نہیں ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: لیکن مجھے جُلَیْبِیب نظر نہیں آرہا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: انھیں تلاش کرو۔ صحابہ نے تلاش کیا تو وہ سات کافروں کے پاس شہید پڑے ہوئے ملے کہ انھوں نے ان سات کو قتل کیا پھر انھوں نے انھیں شہید کر دیا۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اﷲ! یہ حضرت جُلَیْبِیب سات کافروں کے پہلو میں پڑے ہوئے ہیں، پہلے انھوں نے انھیں قتل کیا پھر انھوں نے انھیں شہید کر دیا۔ چناںچہ حضورﷺ خود ان کے پاس تشریف لے گئے اور دو یا تین مرتبہ فرمایا: اس نے سات کو قتل کیا پھر انھوں نے اسے شہید کر دیا، یہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ پھر حضورﷺ نے ان کے جسم کو اپنے بازوئوں پر رکھ لیا پھر ان کے لیے قبر کھودی گئی ۔ ان کے لیے اور تو کوئی تخت نہیں تھا بس حضورﷺ کے بازو ہی تخت تھے۔ پھر حضورﷺ نے خود ان کو قبر میں رکھا۔ اس حدیث میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ حضورﷺ نے انھیں غسل دیا۔ حضرت ثابت کہتے ہیں کہ انصار میں کوئی بیوہ عورت اس لڑکی سے زیادہ خرچ کرنے والی نہیں تھی۔ حضرت اسحاق بن عبد اﷲ بن ابی طلحہ نے حضرت ثابت سے کہا کہ کیا تمھیں معلوم ہے کہ حضورﷺ نے اس لڑکی کو کیا دعا دی تھی؟ یہ دعا دی تھی کہ اے اﷲ! تو اس پر خیروں کو خوب بہادے اور اس کی زندگی کو مشقت والی نہ بنا۔ چناںچہ انصار میں کوئی بیوہ عورت اس سے زیادہ خرچ کرنے والی نہ تھی۔1