نکاح میں حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ کا طریقہ

نکاح میں حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ کا طریقہ

حضرت جابر بن سمرہ ؓ یا کوئی دوسرے صحابی فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ بکریاں چرایا کرتے تھے، پھر انھیں چھوڑ کر آپ اونٹ چرانے لگ گئے۔ حضورﷺ اور آپ کے شریک اونٹ کرایہ پر دیا کرتے تھے۔ انھوں نے حضرت خدیجہؓ کی بہن کو بھی اونٹ کرایہ پر دیا۔ جب وہ لوگ سفر پورا کر چکے تو ان اونٹوں کا کچھ کرایہ حضرت خدیجہ کی بہن کے ذمہ رہ گیا۔ حضورﷺ کا شریک جب حضرت خدیجہ کی بہن کے پاس کرایہ کا تقاضا کرنے جانے لگتا تو حضورﷺ سے کہتا: آپ بھی میرے ساتھ چلیں۔ حضورﷺ فرماتے: تم چلے جائو، مجھے تو شرم آتی ہے۔ ایک دفعہ حضورﷺ کا شریک تقاضا کرنے گیا تو حضرت خدیجہ کی بہن نے پوچھا: (تم اکیلے تقاضاکرنے آئے ہو) محمد کہاں ہیں؟ حضورﷺ کے شریک نے کہا: میں نے تو ان سے کہا تھا: آؤ چلیں، لیکن انھوں نے کہا: مجھے شرم آتی ہے۔ حضرت خدیجہ کی بہن نے کہا: میں نے حضورﷺ سے زیادہ حیا والا اور زیادہ پاک دامن اور ایسا اور ایسا آدمی نہیں دیکھا۔ یہ سن کر ان کی بہن حضرت خدیجہ کے دل میں حضورﷺ کی محبت سرایت کر گئی تو حضرت خدیجہ نے حضورﷺ کو پیغام بھیج کر بلایا اور کہا کہ آپ میرے والد کے پاس جائیں اور انھیں میرے نکاح کا پیغام دیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: آپ کے والد مال دار آدمی ہیں وہ ایسا نہیں کریں گے۔ حضرت خدیجہ نے کہا: آپ ان سے جا کر ملیں اوران سے بات کریں آگے بات میں سنبھال لوں گی۔ جب وہ نشہ میں ہوں اس وقت ان کے پاس جانا۔ چناںچہ حضورﷺ نے ایسا ہی کیا، انھوں نے حضورﷺ سے حضرت خدیجہ کی شادی کر دی۔ صبح کو جب وہ اپنی مجلس میں بیٹھے تھے تو کسی نے ان سے کہا: آپ نے اچھا کیا (اپنی بیٹی خدیجہ سے) محمد کی شادی کر دی۔ انھوں نے کہا: کیا واقعی میں نے شادی کر دی ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! وہ فوراً وہاں سے کھڑے ہو کر حضرت خدیجہ کے پاس آئے اور یوں کہا: لوگ یوںکہہ رہے ہیں کہ میں نے (تمہاری) شادی محمد سے کر دی ہے۔ حضرت خدیجہ نے کہا: ہاں! ٹھیک ہے۔ اب آپ اپنی رائے کو غلط نہ سمجھیںاس لیے کہ حضرت محمد (ﷺ) ایسے اور ایسے بہت عمدہ صفات والے ہیں۔ حضرت خدیجہ زور لگاتی رہیں آخر ان کے والد راضی ہوگئے۔ پھر حضرت خدیجہ نے دو اُوقیہ چاندی یا سونا حضورﷺ کے پاس بھیجا اور عرض کیا کہ ایک جوڑا خرید کر مجھے ہدیہ کر دیں اور ایک مینڈھا اور فلاں فلاں چیزیں خرید لیں۔ چناںچہ حضورﷺ نے ایسا ہی کیا۔1 ایک روایت میں یہ ہے: حضرت خدیجہ ؓ نے کہا: جوڑا خرید کر میرے والد کو ہدیہ کر دیں۔