نبی کریمﷺ اور صحابہؓ کے اخلاق
نبی کریم ﷺ کے صحابہؓ کی تواضع
حضرت اسلم ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ اُونٹ پر بیٹھ کر ملکِ شام تشریف لائے تو لوگ اس بارے میں آپس میں باتیں کرنے لگے (کہ امیر المؤمنین کو گھوڑے پر سفر کرنا چاہیے تھا اونٹ پر نہیں کرنا چاہیے تھا وغیرہ وغیرہ۔ اس پر) حضرت عمر نے فرمایا: ان لوگوں کی نگاہ ایسے انسانوں کی سواری کی طرف جا رہی ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ (اس سے شام کے کفار مراد ہیں)۔3
حضرت ہِشام ؓکہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ ایک دفعہ حضرت عمر بن خطابؓ کا ایک عورت پر گزر ہوا جو عَصِیْدہ گھونٹ رہی تھی۔ (عَصِیْدہ وہ آٹا ہے جسے گھی ڈال کر پکایا جائے) حضرت عمر نے اس سے کہا: عَصِیْدہ کو اس طرح نہیں گھونٹا جاتا۔
یہ کہہ کر اس سے حضرت عمر نے ڈوئی لے لی اور فرمایا: اس طرح گھونٹا جاتا ہے۔ اور اسے گھونٹ کردکھایا۔1
حضرت ہشام بن خالد ؓکہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطّابؓکو (عورتوں سے) یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب تک پانی گرم نہ ہوجائے تم میں سے کوئی عورت آٹا نہ ڈالے اور جب پانی گرم ہوجائے تو تھوڑا تھوڑا کر کے ڈالتی جائے اور ڈوئی سے اس کو ہلاتی جائے، اس طرح اچھی طرح مل جائے گا اور ٹکڑے ٹکڑے نہیں بنے گا۔2
حضرت زر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ عیدگاہ ننگے پاؤں جا رہے ہیں۔3
حضرت عمر مخزومی ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے اعلان کروایا: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ سب نماز میں جمع ہوجائیں ضروری بات کرنی ہے۔ جب لوگ کثرت سے جمع ہوگئے تو حضرت عمر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اللہ کی حمد وثنا اور درود وسلام کے بعد فرمایا: اے لوگو! میری چند خالائیں تھیں جو قبیلہ بنو مخزوم کی تھیں۔ میں ان کے جانور چرایا کرتا تھا وہ مجھے مٹھی بھر کشمش اور کھجور دے دیا کرتی تھیں۔ میں اس پر سارا دن گزارا کرتا تھا اور وہ بہت ہی اچھا دن ہوتا تھا۔ پھر حضرت عمر منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے ان سے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے اور تو کوئی خاص بات کہی نہیں بس اپنا عیب ہی بیان کیا۔ حضرت عمر نے کہا: اے ابنِ عوف! تیرا بھلا ہو! میں تنہائی میں بیٹھا ہوا تھا میرے نفس نے مجھ سے کہاتُو امیر المؤمنین ہے، تجھ سے افضل کون ہو سکتا ہے؟ تو میں نے چاہا کہ اپنے نفس کو اس کی حیثیت بتا دوں۔4
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اے لوگو! میں نے اپنا یہ حال دیکھا ہے کہ میرے پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی، میں اپنی قبیلہ بنو مخزوم کی خالاؤں کو میٹھا پانی لا کر دیا کرتا تھا وہ مجھے کشمش کی چند مٹھیاں دے دیا کرتی تھیں، بس یہ کشمش ہی کھانے کی چیز ہوتی تھی۔ آخر میں یہ بھی فرمایا: مجھے اپنے نفس میں کچھ بڑائی محسوس ہوئی تو میں نے چاہا کہ اسے کچھ نیچے جھکاؤں۔1
حضرت حسن ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ ایک سخت گرم دن میں سر پر چادر رکھے ہوئے باہر نکلے۔ ان کے پاس سے ایک جوان گدھے پر گزرا تو حضرت عمر نے فرمایا: اے جوان! مجھے اپنے ساتھ بٹھالے۔ وہ نوجوان کود کر گدھے سے نیچے اترا اور اس نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ سوار ہو جائیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: نہیں، پہلے تم سوار ہو جاؤ میں تمہارے پیچھے بیٹھ جاؤں گا۔ تم مجھے نرم جگہ بٹھانا چاہتے ہو اور خود سخت جگہ بیٹھنا چاہتے ہو۔ چناںچہ وہ جوان گدھے پر آگے بیٹھا اور حضرت عمر اس کے پیچھے۔ آپ جب مدینہ منوّرہ داخل ہوئے تو آپ پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اور سب لوگ آپ کو دیکھ رہے تھے۔2
حضرت سِنان بن سَلَمہ ہُذَلی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں چند لڑکوں کے ساتھ نکلا۔ اور ہم مدینہ میں گری ہوئی آدھ کچری کھجوریں چننے لگے کہ اتنے میں حضرت عمر بن خطّاب ؓ کوڑا لیے ہوئے آگئے۔ جب لڑکوں نے ان کو دیکھا تو وہ سب کھجوروں کے باغ میں اِدھر اُدھر بکھر گئے، لیکن میں وہیں کھڑا رہا اور میری لنگی میں کچھ کھجوریں تھیں جو میں نے وہاں سے چُنی تھیں۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ کھجوریں وہ ہیں جو ہوا سے نیچے گری ہیں (یعنی میں نے درخت سے نہیں توڑی ہیں)۔ حضرت عمر نے میری لنگی میں رکھی ہوئی ان کھجوروں کو دیکھا اور مجھے نہ مارا۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! (میں اب گھر جانا چاہتا ہوں، راستہ میں) آگے لڑکے کھڑے ہیں جو میری یہ تمام کھجوریں چھین لیں گے۔ حضرت عمر نے فرمایا: نہیں، ہرگز نہیں، چلو (میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں)۔ چناںچہ حضرت عمر میرے ساتھ میرے گھر تک آئے۔3
حضرت مالک ؓ کے دادا بیان کرتے ہیں کہ میں نے کئی بار دیکھا کہ حضرت عمر اور حضرت عثمانؓ جب مکہ سے مدینہ واپس آتے تو (مدینہ سے ذرا پہلے) مُعَرَّس مسجد (ذو الحُلَیْفہ) میں قیام فرماتے، اور جب مدینہ منوّرہ میں داخل ہونے کے لیے سوار ہوتے تو سواری پر پیچھے کسی کو ضرور بٹھاتے اور کوئی نہ ملتا تو کسی لڑکے کو ہی بٹھا لیتے اور اسی حال میں مدینہ میں داخل ہوتے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا حضرت عمراورحضرت عثمان ؓ اپنے پیچھے تواضع کے خیال سے بٹھایا کرتے تھے؟ تو انھوں نے کہا: ہاں! تواضع کے خیال سے بھی بٹھاتے تھے، اور یہ بھی چاہتے تھے کہ پیدل آدمی کو سواری مل جائے اس کا بھی فائدہ ہو جائے، اور یہ بھی چاہتے تھے کہ وہ اور بادشاہوں جیسے نہ ہوں (کہ وہ تو کسی عام آدمی کو اپنے پیچھے بٹھاتے نہیں)۔ پھر وہ بتانے لگے کہ اب تو لوگوں نے نیا طریقہ ایجاد کر لیا ہے، خود سوار ہو جاتے ہیں اور غلام اور لڑکوں کو اپنے پیچھے پیدل چلاتے ہیں، اور یہ بہت ہی عیب کی بات ہے۔1
حضرت میمون بن مہران ؓکہتے ہیں: مجھے ہمدانی نے بتایا کہ میں نے حضرت عثمان ؓ کو دیکھا کہ آپ خچر پر سوار ہیں اور ان کا غلام نائل ان کے پیچھے بیٹھا ہوا ہے حالاںکہ آپ اس وقت خلیفہ تھے۔2
حضرت عبد اللہ رومی ؓکہتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ رات کو اپنے وضو کا انتظام خود کیا کرتے تھے۔ کسی نے ان سے کہا: اگر آپ اپنے کسی خادم سے کہہ دیں تو وہ یہ انتظام کر دیا کرے گا۔ حضرت عثمان نے فرمایا: رات ان کی اپنی ہے جس میں وہ آرام کرتے ہیں۔3
حضرت زبیر بن عبد اللہ ؓکہتے ہیں کہ میری دادی حضرت عثمان ؓ کی خادمہ تھیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ (تہجد کے وقت) حضرت عثمان اپنے گھرو الوں میں سے کسی کو نہ جگاتے، ہاں اگر کوئی از خود اٹھا ہوا ہوتا تو اسے بلا لیتے تو وہ آپ کو وضو کے لیے پانی لا دیتا، اور آپ ہمیشہ روزہ رکھتے۔4
حضرت حسن ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ حضرت عثمان ؓ مسجد میں ایک چادر میں سوئے ہوئے ہیں اور ان کے پاس کوئی بھی نہیں ہے حالاںکہ اس وقت آپ امیر المؤمنین تھے۔1
حضرت اُنَیْسہؓ کہتی ہیںکہ محلہ کی لڑکیاں اپنی بکریاں لے کر (دودھ نکلوانے کے لیے) حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے پاس آیا کرتی تھیں۔ حضرت ابو بکر انھیں خوش کرنے کے لیے فرمایا کرتے تھے: کیا تم چاہتی ہو کہ میں ابنِ عفراء کی طرح تمھیں دودھ نکال کر دوں۔2
حضراتِ خُلَفا اور اُمراء کی طرزِ زندگی کے عنوان کے ذیل میں حضرت عائشہ، حضرت ابنِ عمر اور حضرت ابنِ مسیب وغیرہ حضرات ؓ کی یہ روایت گزر چکی ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ تاجر آدمی تھے، روزانہ صبح جا کر خرید و فروخت کرتے۔ ان کا بکریوں کا ایک ریوڑ بھی تھا جو شام کو ان کے پاس واپس آتا۔ کبھی اس کو چرانے خود جاتے اور کبھی کوئی اورچرانے جاتا۔ اپنے محلہ والوں کی بکریوں کا دودھ بھی نکال دیا کرتے۔ جب یہ خلیفہ بنے تو محلہ کی ایک لڑکی نے کہا: (اب تو حضرت ابوبکر خلیفہ بن گئے ہیں لہٰذا) ہمارے گھر کی بکریوں کا دودھ اب تو کوئی نہیں نکالا کرے گا۔ حضرت ابو بکر نے یہ سن کر فرمایا: نہیں، میری عمر کی قسم! میں آپ لوگوں کے لیے دودھ ضرور نکالا کروں گا۔ اور مجھے اُمید ہے کہ خلافت کی ذمہ داری جو میں نے اٹھائی ہے یہ مجھے ان اخلاقِ کریمانہ سے نہیں ہٹائے گی جو پہلے سے مجھ میں ہیں۔ چناںچہ خلافت کے بعد بھی محلہ والوں کا دودھ نکالا کرتے تھے اور بعض دفعہ ازراہِ مذاق محلہ کی لڑکی سے کہتے: اے لڑکی! تم کیسا دودھ نکلوانا چاہتی ہو؟ جھاگ والا نکالوں یا بغیر جھاگ کے؟ کبھی وہ کہتی جھاگ والا اور کبھی کہتی بغیر جھاگ کے۔ بہرحال جیسے وہ کہتی ویسے یہ کرتے۔
حضرت صالح کمبل فروش ؓکہتے ہیں کہ میری دادی جان نے یہ بیان کیا کہ میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ حضرت علی ؓ نے ایک درہم کی کھجوریں خریدیں اور انھیں اپنی چادر میں ڈال کر اُٹھانے لگے۔ تو میں نے ان سے کہا، یا کسی مردنے ان سے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کی جگہ میں اٹھا لیتا ہوں۔ حضرت علی نے فرمایا: نہیں (میں نے یہ کھجوریں بچوں کے لیے خریدی ہیں، اس لیے) بچوں کا باپ ہی ان کے اٹھانے کا زیادہ حق دار ہے۔3
حضرت زاذان ؓکہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ بازار میں تنہا تشریف لے جاتے حالاںکہ آپ امیر المؤمنین تھے۔ جسے راستہ معلوم نہ ہوتا اسے راستہ بتاتے، گمشدہ چیز کا اعلان کرتے، کمزور کی مدد کرتے، اور دکان دار اور سبزی فروش کے پاس سے گزرتے تو اسے قرآن کی یہ آیت سناتے:
{تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُھَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا}1
یہ عالمِ آخرت ہم ان ہی لوگوں کے لیے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ فساد کرنا۔
اور فرماتے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو لوگوں کے حاکم ہیں، اور انھیں تمام لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، اور وہ عدل و انصاف اور تواضع والے ہیں۔2
حضرت جُرمُوز ؓکہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حضرت علی ؓگھر سے باہر آرہے ہیں اور انھوں نے قطر کی بنی ہوئی دو سرخی مائل چادریں اوڑھی ہوئی ہیں۔ ایک لنگی آدھی پنڈلی تک اور دوسری اتنی ہی لمبی چادر اپنے اوپر لپیٹی ہوئی ہے، ہاتھ میں کوڑا بھی ہے جسے لے کر وہ بازاروں میں جایا کرتے، اور بازار والوں کو اللہ سے ڈرنے کا اور عمدہ طریقہ سے بیچنے کا حکم دیا کرتے، اور فرماتے: پورا تولواور پورا ناپو۔ اور یہ بھی فرماتے کہ گوشت میں ہوا نہ بھرو (اس طرح گوشت موٹا نظر آئے گااور لوگوں کو دھوکا لگے گا)۔3
حضرت ابو مطر ؓکہتے ہیں کہ ایک دن میں مسجد سے باہر نکلا تو ایک آدمی نے مجھے پیچھے سے آواز دے کر کہا: اپنی لنگی اونچی کرلے، کیوںکہ لنگی اونچا کرنے سے پتا چلے گا کہ تم اپنے رب سے زیادہ ڈرنے والے ہو اور اس سے تمہاری لنگی زیادہ صاف رہے گی۔ اور اپنے سر کے بال صاف کرلے اگر تو مسلمان ہے۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت علی ؓ تھے اور ان کے ہاتھ میں کوڑا بھی تھا۔ پھر حضرت علی چلتے چلتے اونٹوں کے بازار میں پہنچ گئے تو فرمایا: بیچو ضرور لیکن قسم نہ کھاؤ، کیوںکہ قسم کھانے سے سامان توبِک جاتا ہے لیکن برکت ختم ہو جاتی ہے۔
پھر ایک کھجور والے کے پاس آئے تو دیکھا کہ ایک خادمہ رو رہی ہے۔ حضرت علی نے اس سے پوچھا: کیا بات ہے؟ اس خادمہ نے کہا: اس نے مجھے ایک درہم کی کھجوریں دیں، لیکن میرے آقا نے انھیں لینے سے انکار کر دیا ہے۔ حضرت علی نے کھجور والے سے کہا: تم اس سے کھجوریں واپس لے لو اور اسے درہم دے دو، کیوںکہ یہ تو بالکل بے اختیار ہے(اپنے مالک کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی)۔ وہ لینے سے انکار کرنے لگا۔ میں نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہیں؟ اس آدمی نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: یہ حضرت علی امیر المؤمنین ہیں۔ اس نے فوراً کھجوریں لے کر اپنی کھجوروں میں ڈال لیں اور اسے ایک درہم دے دیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے سے راضی رہیں۔ حضرت علی نے فرمایا: جب تم لوگوں کو پورا دو گے تو میں تم سے بہت زیادہ راضی رہوں گا۔ پھر کھجور والوں کے پاس سے گزرتے ہوئے فرمایا: مسکین کو کھلایا کرو اس سے تمہاری کمائی بڑھ جائے گی۔
پھر مچھلی والوں کے پاس پہنچ گئے تو فرمایا: ہمارے بازار میں وہ مچھلی نہیں بکنی چاہیے جو پانی میں مر کر اوپر تیرنے لگ گئی ہو۔ پھر آپ کپڑے کے بازار میں پہنچ گئے، یہ کھدر کا بازار تھا۔ ایک دکان دار سے کہا: اے بڑے میاں! مجھے ایک قمیص تین درہم کی دے دو۔ اس دکان دار نے حضرت علی کو پہچان لیا تو اس سے قمیص نہ خریدی۔ پھر دوسرے دکان دار کے پاس گئے، جب اس نے بھی پہچان لیا تو اس سے بھی نہ خریدی۔ پھر ایک نوجوان لڑکے سے تین درہم کی قمیص خریدی (وہ حضرت علی کو نہ پہچان سکا) اور اسے پہن لیا، اس کی آستین گِٹے تک لمبی تھی اور خود قمیص ٹخنے تک تھی۔ پھر اصل دکان دار کپڑوں کا مالک آگیا تو اسے لوگوں نے بتایا کہ تیرے بیٹے نے امیرالمؤمنین کے ہاتھ تین درہم میں قمیص بیچی ہے۔ تو اس نے بیٹے سے کہا: تم نے ان سے دو درہم کیوں نہ لیے؟ چناںچہ وہ دکان دار ایک درہم لے کر حضرت علی کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: یہ درہم لے لیں۔ حضرت علی نے فرمایا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا:اس قمیص کی قیمت دو درہم تھی میرے بیٹے نے آپ سے تین درہم لے لیے۔ حضرت علی نے فرمایا: اس نے اپنی رضا مندی سے تین درہم میں بیچی اور میں نے اپنی خوشی سے تین میں خریدی۔1
حضر ت عطاء ؓکہتے ہیں کہ حضورﷺ کی صاحب زادی حضرت فاطمہؓ آٹا گوندھتیں اور ان کے سر کے بال لگن سے ٹکراتے۔1
حضرت مطّلب بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں کہ عرب کی بیوہ خاتون یعنی حضرت اُمّ سلمہ ؓ شام کو تو تمام مسلمانوں کے سردار (حضرت محمد ﷺ) کے ہاں دلہن بن کر آئیں اور رات کے آخری حصہ میں آٹا پیسنے لگیں۔2
حضرت سلامہ عجلی ؓکہتے ہیں: میرا ایک بھانجا گاؤں سے آیا اسے قُدامہ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا: میں حضرت سلمان فارسی ؓ سے ملنا اور انھیں سلام کرنا چاہتا ہوں۔ چناںچہ ہم انھیں ملنے چلے، وہ ہمیں مدائن شہر میں مل گئے۔ وہ ان دنوں بیس ہزار فوج کے امیر تھے۔ وہ تخت پر بیٹھے ہوئے کھجور کے پتوں کی ٹوکری بنا رہے تھے۔ ہم نے انھیں جاکر سلام کیا۔ پھر میں نے عرض کیا: اے ابو عبداللہ! یہ میرا بھانجا دیہات سے میرے پاس آیا ہے، آپ کو سلام کرنا چاہتا ہے۔ حضرت سلمان نے فرمایا: وَعَلَیْہِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔میں نے کہا: یہ کہتا ہے کہ اسے آپ سے محبت ہے۔ انھوں نے فرمایا: اللہ اسے اپنا محبوب بنائے۔3
حضرت حارث بن عمیرہ ؓکہتے ہیں: میں مدائن میں حضرت سلمان ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اپنی کھال رنگنے کی جگہ میں دنوں ہاتھوں سے ایک کھال کو رگڑ رہے ہیں۔ جب میں نے انھیں سلام کیا تو انھوں نے کہا: ذرا اپنی جگہ ٹھہرنا، ابھی باہر آتا ہوں۔ میں نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔ انھوں نے کہا: نہیں (میںنے تمھیں پہچان لیا ہے) بلکہ میری روح نے تمہاری روح کو پہلے پہچانا میں نے بعد میں تمھیں پہچانا، کیوںکہ تمام روحیں جمع شدہ لشکر ہیں، تو جن روحوں کا آپس میں وہاں تعارف اللہ کی خاطر ہوگیا وہ تو ایک دوسرے سے مانوس ہو جاتی ہیںاور جن کا جوڑ اللہ کے علاوہ کسی وجہ سے ہوا وہ ایک دوسرے سے مانوس نہیں ہوتیں۔4
حضرت ابو قلابہ ؓکہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت سلمان ؓ کے پاس آیا، حضرت سلمان آٹا گوندھ رہے تھے۔ اس آدمی نے کہا: یہ کیا ہے (کہ آپ خود ہی آٹا گوندھ رہے ہیں؟) انھوں نے فرمایا: (آٹا گوندھنے والے) خادم کو ہم نے کسی کام کے لیے بھیج دیا اس لیے ہم نے اسے اچھا نہ سمجھا کہ ہم اس کے ذمہ دو کام لگادیں۔ پھر اس آدمی نے کہا: فلاں صاحب آپ کو سلام کہہ رہے تھے۔ حضرت سلمان نے پوچھا: تم کب آئے تھے؟ اس نے کہا: اتنے عرصے سے آیا ہوا ہوں۔ حضرت سلمان نے فرمایا: اگر تم اس کا سلام نہ پہنچاتے تو پھر یہ وہ امانت شمار ہوتی جو تم نے ادا نہیں کی (تمہارے ذمہ باقی رہتی)۔1
حضرت عمرو بن ابو قرّہ کِنْدِی ؓکہتے ہیںکہ میرے والد نے حضرت سلمان ؓکی خدمت میں یہ بات پیش کی کہ وہ ان کی ہمشیرہ سے شادی کرلیں، لیکن حضر ت سلمان نے انکار کر دیا بلکہ (میرے والد کی آزادکردہ) بُقَیرہ نامی باندی سے شادی کرلی۔ پھر (میرے والد) حضرت ابو قرّہ کو پتا چلا کہ حضرت حذیفہ اور حضرت سلمانؓ کے درمیان کچھ بات ہوئی ہے۔ تو میرے والد حضرت سلمان کے پاس گئے۔ وہاں جا کر انھوں نے حضرت سلمان کے بارے میں پوچھا تو گھر والوں نے بتایا کہ وہ اپنے سبزی کے کھیت میں ہیں۔ میرے والد وہاں چلے گئے تو وہاں حضرت سلمان کے پاس ایک ٹوکری تھی جس میں سبزی تھی، انھوں نے اپنی لاٹھی اس ٹوکری کے دستے میں ڈال کر اپنے کندھے پر رکھی ہوئی تھی۔ پھر وہ لوگ وہاں سے چل پڑے۔ جب حضرت سلمان کے گھر پہنچے اور وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہونے لگے تو انھوں نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔ پھر انھوں نے (میرے والد) حضرت ابو قُرّہ کو اندر آنے کی اجازت دی۔ میرے والد نے اندر جا کر دیکھا تو بچھونا بچھا ہوا تھا اور اس کے سرہانے چند کچی اینٹیں تھیں اور تھوڑی سی کچھ اور چیز بھی رکھی ہوئی تھی۔ انھوں نے میرے والد سے کہا: تم اپنی (آزادکردہ) باندی کے اس بستر پر بیٹھ جاؤ جسے وہ اپنے لیے بچھاتی ہے۔2
قبیلہ بنو عبدِ قیس کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمان ؓ کو گدھے پر سوار ایک لشکر میں دیکھا جس کے وہ امیر تھے، انھوں نے شلوار پہنی ہوئی تھی جس کی پنڈلیاں (ہوا کی وجہ سے) ہل رہی تھیں۔ لشکر والے کہہ رہے تھے: امیر صاحب آرہے ہیں۔ حضرت سلمان نے فرمایا: اچھے اور برے کا پتا تو آج (یعنی دنیا سے جانے) کے بعد (قیامت کے دن) چلے گا۔1
قبیلہ بنو عبدِ قیس کے ایک صاحب کہتے ہیں: حضرت سلمانؓ ایک لشکر کے امیر تھے۔ میں ان کے ساتھ ساتھ تھا۔ وہ لشکر کے چند جوانوں کے پاس سے گزرے، انھیں دیکھ کر ہنسے اور کہنے لگے: یہ ہیں تمہارے امیر۔ میں نے حضرت سلمان سے کہا: اے ابو عبد اللہ! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: انھیں چھوڑو (جو کرتے ہیں کرنے دو) کیوںکہ اچھے اور برے کا پتا تو آج کے بعد (کل قیامت کے دن) چلے گا۔ اگر تمہارا بس چلے تو مٹی کھا لینا لیکن دو آدمیوں کا بھی امیر نہ بننا، اور مظلوم اور بے بس و مجبور کی بد دعا سے بچنا کیوںکہ ان کی دعا کو کوئی نہیں روک سکتا (سیدھی عرش پر جاتی ہے)۔2
حضرت ثابت ؓکہتے ہیں کہ حضرت سلمان ؓ مدائن کے گورنر تھے۔ وہ گھٹنے تک کی شلوار اور چغہ پہن کر باہر لوگوں میں نکلتے تو لوگ انھیں دیکھ کر کہتے: گرگ آمد گرگ آمد۔ حضر ت سلمان پوچھتے: یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگ بتاتے کہ یہ آپ کو اپنے ایک کھلونے سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ حضرت سلمان فرماتے: کوئی بات نہیں، (دنیا میں اچھا یا برا ہونے سے فرق نہیں پڑتا) اصل میں اچھا وہ ہے جو کل اچھا شمار ہو۔3
حضرت ہُرَیم ؓکہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت سلمان فارسی ؓ ایک گدھے پر سوار ہیں جس کی پیٹھ ننگی ہے اور انھوں نے سُنْبلان مقام کی بنی ہوئی چھوٹی سی قمیص پہن رکھی تھی جو نیچے سے تنگ تھی۔ ان کی پنڈلیاں لمبی تھیں ان پر بال بھی بہت تھے، قمیص ان کی اونچی تھی جو گھٹنوں تک پہنچ رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ بچے پیچھے سے ان کے گدھے کو بھگا رہے ہیں۔ میں نے بچوں کو کہا: کیا تم امیرسے پرے نہیں ہٹتے؟ حضرت سلمان نے فرمایا: انھیں چھوڑو، اچھے برے کا تو کل پتا چلے گا۔4
حضرت ثابت ؓ کہتے ہیں: حضرت سلمان ؓ مدائن کے گورنر تھے۔ ایک دفعہ قبیلہ بنو تیم اللہ کا ایک شامی آدمی آیا، اس کے پاس بھوسے کا ایک گٹھڑ تھا۔ اسے راستے میں حضرت سلمان ملے، انھوں نے گھٹنے تک کی شلوار اور چغہ پہن رکھا تھا۔ اس آدمی نے ان سے کہا: آؤ، میرا یہ گٹھڑ اٹھالو۔ وہ آدمی ان کو پہچانتا نہیں تھا۔ حضرت سلمان نے وہ گٹھڑ اٹھالیا۔ جب اور لوگوں نے حضرت سلمان کو دیکھا تو انھوں نے انھیں پہچان لیا اور اس آدمی سے کہا: یہ تو (ہمارے) گورنر ہیں۔ ا س آدمی نے حضرت سلمان سے کہا: میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔ حضرت سلمان نے فرمایا: نہیں، میں تمہارے گھر تک اسے پہنچاؤں گا۔ دوسری سند کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت سلمان نے فرمایا: میں نے (تمہاری خدمت کی) نیت کی ہے، اس لیے جب تک میں اسے تمہارے گھر تک نہیں پہنچا دوں گا اسے (سر سے اتار کر) نیچے نہیں رکھوں گا۔1
حضرت عبد اللہ بن بریدہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت سلمانؓ اپنے ہاتھوں سے کام کرکے کوئی چیز تیار کیا کرتے تھے۔ جب انھیں اس کام سے کچھ رقم مل جاتی تو گوشت یا مچھلی خرید کر اسے پکاتے، پھر کوڑھ کے مریضوں کو بلاتے اور ان کے ساتھ کھاتے۔2
حضرت محمد بن سِیْرِین ؓکہتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطّاب ؓکسی کو گورنر بناکر بھیجتے تو اس کے معاہدہ نامہ میں (لوگوں کو) یہ لکھتے کہ جب تک یہ تمہارے ساتھ عدل وانصاف کا معاملہ کرتے رہیں تم ان کی بات سنتے رہو اور مانتے رہو۔ چناںچہ جب حضرت حذیفہ ؓکو مدائن کا گورنر بنا کر بھیجا تو ان کے معاہدہ نامہ میں یہ لکھا کہ ان کی بات سنو اور مانو، اور جو تم سے مانگیں وہ ان کو دے دو۔ وہ حضرت عمرکے پاس سے جب چلے تو وہ گدھے پر سوار تھے، گدھے پر پالان پڑا ہوا تھا اور اس پر ان کا زادِ سفر بھی تھا۔ جب یہ مدائن پہنچے تو وہاں کے مقامی ذمی لوگوں نے اور دیہات کے چودھریوں نے ان کا استقبال کیا۔ اس وقت ان کے ہاتھ میں روٹی اور گوشت والی ہڈی تھی اور گدھے پر پالان پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنا معاہدہ نامہ ان لوگوں کو پڑھ کر سنایا تو انھوں نے کہا: آپ جو چاہیں ہم سے فرمایش کریں۔ انھوں نے فرمایا: جب تک میں تم میں رہوں مجھے کھانا اور میرے اس گدھے کا چارہ دیتے رہو۔ پھر وہ کافی عرصہ تک رہے۔ پھر حضرت عمر نے انھیں لکھا کہ (مدینہ) آجاؤ۔ جب حضرت عمر کو پتا چلا کہ حضرت حذیفہ مدینہ پہنچنے والے ہیں تو وہ ان کے راستہ میں ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گئے جہاں سے حضرت حذیفہ انھیں نہ دیکھ سکیں۔ حضرت عمر نے دیکھا کہ وہ اسی حالت پر واپس آرہے ہیں جس حالت پر گئے تھے تو باہر نکل کر انھیں چمٹ گئے اور فرمایا: تو میرا بھائی ہے اورمیں تیرا بھائی ہوں۔1
حضرت ابنِ سیرین ؓکہتے ہیں کہ جب حضرت حذیفہؓ مدائن پہنچے تو وہ گدھے پر سوار تھے جس پر پالان پڑا ہوا تھا، اور ان کے ہاتھ میں روٹی اور گوشت والی ہڈی تھی جسے وہ گدھے پر بیٹھے ہوئے کھا رہے تھے۔2
حضرت طلحہ بن مصرّ ف راوی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنے دونوں پاؤں ایک طرف لٹکارکھے تھے۔
حضرت سُلَیم ابو ہذیل ؓکہتے ہیں کہ میں حضرت جریر بن عبداللہؓ کے دروازے پر رفو کا کام کرتا تھا۔ حضرت جریر گھر سے باہر آتے اور خچر پر سوار ہوتے اور اپنے پیچھے اپنے غلام کو بٹھا لیتے۔3
حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ بازار میں گزر رہے تھے اور ان کے سر پر لکڑیوں کا ایک گٹھا رکھا ہوا تھا۔ کسی نے ان سے کہا: آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں حالاںکہ اللہ نے آپ کو اتنا د ے رکھا ہے کہ آپ کو خود اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے، آپ تو دوسروں سے اٹھوا سکتے ہیں۔ فرمایا: میں اپنے دل سے تکبر نکالنا چاہتا ہوں، کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ آدمی جنت میں نہیں جاسکے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا۔4
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں: تواضع کی بنیاد تین چیزیں ہیں: آدمی کو جو بھی ملے اسے سلام میں پہل کرے، اور مجلس کی اچھی جگہ کے بجائے ادنیٰ جگہ میں بیٹھنے پر راضی ہو جائے، اور دِکھاوے اور شہرت کو برا سمجھے۔5