نبی کریمﷺ اور صحابہؓ کے اخلاق
نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓکی حیا
حضرت سعید بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت عثمان ؓ دونوں نے ان سے یہ واقعہ بیان کیا کہ حضور ﷺ حضرت عائشہ کی چادر اوڑھے ہوئے اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضرت ابو بکر ؓ نے اجازت مانگی۔ حضورﷺ نے اجازت دے دی اور آپ اسی طرح لیٹے رہے اور وہ اپنی ضرورت کی بات کر کے چلے گئے۔ پھر حضرت عمرؓ نے اجازت مانگی۔ حضور ﷺ نے انھیں بھی اجازت دے دی اور آپ اسی طرح لیٹے رہے، وہ بھی اپنی ضرورت کی بات کر کے چلے گئے۔ حضرت عثمان فرماتے ہیں: پھر میں نے اجازت مانگی تو آپ اُٹھ کر بیٹھ گئے اور حضرت عائشہ سے فرمایا کہ تم بھی اپنے کپڑے ٹھیک کرلو (پھر مجھے اجازت دی)۔ میں بھی اپنی ضرورت کی بات کر کے چلا گیا تو حضرت عائشہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بات ہے، آپ نے حضرت عثمان کے آنے پر جتنا اہتمام کیا اتنا حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے آنے پر نہیں کیا؟ حضور ﷺ نے فرمایا: عثمان بہت ہی حیا والے آدمی ہیں، تو مجھے ڈر ہوا کہ اگر میں انھیں اسی حالت میں اجازت دے دوں گا تو وہ اپنی ضرورت کی بات کہہ نہ سکیں گے۔ اس حدیث کے بہت سے راوی یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا: کیا میں اس سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں۔1
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ (گھر میں) بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت عائشہؓ آپ کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھیں کہ اتنے میں حضرت ابو بکرؓ اجازت لے کر اندر آئے، پھر حضرت عمرؓ اجازت لے کر اندر آئے، پھر حضرت سعد بن مالکؓ اجازت لے کر اندر آئے، پھر حضرت عثمانؓ اجازت لے کر اندر آئے۔ حضورﷺ باتیں کر رہے تھے اور حضورﷺ کے گھٹنے کھلے ہوئے تھے۔ (باقی کے آنے پر تو حضورﷺ ایسے رہے لیکن) حضرت عثمان کے آنے پر حضورﷺ نے اپنے گھٹنوں پر کپڑا ڈال دیا اور اپنی زوجہ محترمہ (حضرت عائشہؓ) سے فرمایا کہ ذرا پیچھے ہٹ کر بیٹھ جاؤ۔ یہ حضرات حضورﷺ سے کچھ دیر بات کر کے چلے گئے تو حضرت عائشہ نے عرض کیا: یا نبیّ اللہ! میرے والد اور دوسرے صحابہ اندر آئے تو آپ نے نہ تو گھٹنے پر اپنا کپڑا ٹھیک کیا اور نہ مجھے پیچھے ہونے کو کہا۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا میں اس آدمی سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! فرشتے عثمان سے ایسے ہی حیا کرتے ہیں جیسے اللہ اور رسول سے کرتے ہیں۔ اگر وہ اندر آتے اور تم میرے پاس بیٹھی ہوتیں تو وہ نہ تو بات کر سکتے اور نہ واپس جانے تک سر اٹھا سکتے۔1
حضرت حسن ؓ نے حضرت عثمان ؓ کے بہت زیادہ باحیا ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض دفعہ حضرت عثمان گھر میں ہوتے اور دروازہ بھی بند ہوتا لیکن پھر بھی غسل کے لیے اپنے کپڑے نہ اُتار سکتے۔ اور وہ اتنے شرمیلے تھے کہ (غسل کے بعد) جب تک وہ کپڑے سے ستر نہ چھپا لیتے کمر سیدھی نہ کرسکتے، یعنی سیدھے کھڑے نہ ہو سکتے۔2
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیںکہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے فرمایا: تم لوگ اللہ سے حیا کرو، کیوںکہ میں بیت الخلاء میں جاتا ہوں تو اللہ سے شرما کر اپنے سر کو ڈھک لیتا ہوں۔3
حضرت سعد بن مسعود اور حضرت عُمارہ بن غُراب یَحصُبِیؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن مظعونؓ نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں ہے کہ میری بیوی میرے ستر کو دیکھے۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیوں؟ انھوں نے کہا: مجھے اس سے شرم آتی ہے اور یہ مجھے بہت برا لگتا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بیوی کو تمہارا لباس اور تمھیں اس کا لباس بنایا ہے، اور (بعض دفعہ) میرے گھر والے میرا ستراور میں ان کا ستر دیکھ لیتا ہوں۔ حضرت عثمان نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ایسا کر لیتے ہیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت عثمان نے کہا: پھر آپ کے بعد کون ہوسکتا ہے (جس کا ہر کام میں اتباع کیا جائے؟ ایسے تو آپ ہی ہیں)۔ جب حضرت عثمانؓ چلے گئے توحضورﷺ نے فرمایا کہ ابنِ مظعون تو بہت زیادہ با حیا، پاک دامن اور ستر چھپا کر رکھنے والے ہیں۔1
حضرت ابو مجلَز ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے فرمایا کہ میں تاریک کمرے میں غسل کرتا ہوں تو میں اللہ سے شرم کی وجہ سے جب تک اپنے کپڑے پہن نہ لوں اس وقت تک اپنی کمر سیدھی کر کے کھڑا نہیں ہو سکتا۔2
حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ ؓ جب کسی تاریک کمرے میں غسل کر لیتے تو سیدھے کھڑے نہ ہوتے بلکہ کمر جھکا کر کبڑے بن کر چلتے اور کپڑے لے کر پہن لیتے (پھر سیدھے ہوتے)۔3 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ ؓ جب سویا کرتے تو اس ڈر سے کپڑے پہنے رہتے کہ کہیں سوتے میں ان کا ستر نہ کھل جائے۔4
حضرت عبادہ بن نُسَیّ ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ لنگی باندھے بغیر پانی میں کھڑے ہیں تو فرمایا: میں مر جاؤں پھر مجھے زندہ کیا جائے، پھر مر جاؤں پھر مجھے زندہ کیا جائے، پھر مر جاؤں پھر مجھے زندہ کیا جائے یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ان کی طرح کروں۔5
حضرت اشج عبد القیس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: تمہارے اندر دو خصلتیں ایسی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں۔ میں نے پوچھا: وہ دو خصلتیں کون سی ہیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: بردباری اور حیا۔ میں نے پوچھا: یہ پہلے سے میرے اندر تھیں یا اب پیدا ہوئی ہیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: نہیں، پہلے سے تھیں۔ میں نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ایسی دو خصلتوں پر پیدا فرمایا جو اسے پسند ہیں۔6