صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
چھینکنے والے کو جواب دینا
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریمﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں آپ کو چھینک آگئی، اس پر صحابہ نے کہا: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ! حضورﷺ نے فرمایا: یَھْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَـکُمْ۔2
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ کے پاس ایک آدمی کو چھینک آئی۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! میں (اس چھینک آنے پر) کیا کہوں؟ حضورﷺ نے فرمایا:اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہو۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم اس کو جواب میں کیا کہیں؟ آپ نے فرمایا: تم لوگ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہو۔ اس آدمی نے کہا: میں ان لوگوں کو جواب میں کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: تم کہو یَـھْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَـکُمْ۔3
حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ ہمیں یہ سکھاتے تھے کہ جب ہم میں سے کسی کو چھینک آجائے تو ہم اسے چھینک کا جواب دیں۔4
حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ ہمیں یہ سکھاتے تھے کہ جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اسے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کہنا چاہیے، اور جب وہ یہ کہہ لے تو اس کے پاس والوں کو یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہنا چاہیے۔ جب پاس والے یہ کہہ چکیں تو اسے یَغْفِرُ اللّٰہُ لِيْ وَلَـکُمْکہنا چاہیے۔5
حضرت اُمّ سلمہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ کے گھر کے ایک کونے میں ایک آدمی کو چھینک آئی تو اس نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ۔ پھر گھر کے کونے میں ایک اور آدمی کو چھینک آگئی اور اس نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ۔حضور ﷺ نے کہا: یہ آدمی (ثواب میں) اس سے اُنیس درجے بڑھ گیا۔1
حضرت انسؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی۔ حضورﷺ نے ایک کی چھینک کا تو جواب دیا لیکن دوسرے کو جواب نہ دیا۔ حضورﷺ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو حضورﷺ نے فرمایا: اس نے چھینک کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا تھا اور اس دوسرے نے نہیں کہا تھا (اس لیے میں نے پہلے کو جواب دیا اور دوسرے کو نہیں دیا)۔2
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی۔ ان میں سے ایک دوسرے سے (دنیاوی لحاظ سے) زیادہ رتبہ والا تھا۔ بلند مرتبہ والے کو چھینک آئی اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہیں کہا۔ حضورﷺ نے اسے چھینک کا جواب نہ دیا۔ پھر دوسرے کو چھینک آگئی اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا تو حضورﷺ نے اس کی چھینک کا جواب دیا۔ اس پر اس بلند درجے والے نے کہا: مجھے آپ کے پاس چھینک آئی لیکن آپ نے میری چھینک کا جواب نہیں دیا اور اسے چھینک آئی تو اس کی چھینک کا جواب دیا؟ حضورﷺ نے فرمایا: (اس نے چھینکنے کے بعد) اللہ کا نام لیا تھا اس لیے میں نے بھی اللہ کا نام لے دیا، اور تم اللہ کو بھول گئے تو میں نے بھی تمھیں بھلا دیا۔3
حضرت ابو بردہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو موسیٰؓ کے پاس گیا، وہ اس وقت حضرت اُمّ فضل بن عباسؓ کے گھر میں تھے۔
مجھے چھینک آئی تو انھوں نے میری چھینک کا جواب نہ دیا اور حضرت اُمّ فضل کو چھینک آئی توحضرت ابو موسیٰ نے ان کی چھینک کا جواب دیا۔ میں نے جا کر اپنی والدہ کو ساری بات بتائی۔ جب حضرت ابو موسیٰ میری والدہ کے پاس آئے تو میری والدہ نے ان کی خوب خبر لی اور فرمایا: میرے بیٹے کو چھینک آئی تو آپ نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور حضرت اُمّ فضل کو چھینک آئی تو آپ نے اسے جواب دیا۔ تو حضرت ابو موسیٰ نے میری والدہ سے کہا: میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے تو تم اس کی چھینک کا جواب دو، اور اگر وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِنہ کہے تو تم اس کی چھینک کا جواب مت دو۔ اور تیرے بیٹے کو چھینک آئی اور اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہیں کہا اس لیے میں نے اس کی چھینک کا جواب نہیں دیا، اور حضرت اُمّ فضل کو چھینک آئی انھوں نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا اس لیے میں نے ان کی چھینک کا جواب دیا۔ اس پر میری والدہ نے کہا: تم نے اچھا کیا۔1
حضرت مکحول اَزدی ؓ کہتے ہیں: میں حضرت ابنِ عمرؓ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں مسجد کے کونے میں ایک آدمی کو چھینک آئی تو حضرت ابنِ عمرؓ نے فرمایا: اگر تم نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِکہا ہے تو پھر یَرْحَمُکَ اللّٰہُ۔2
حضرت نافع ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمرؓ کو چھینک آتی اور کوئی انھیں یَرْحَمُکَ اللّٰہُکہتا تو یہ اسے جواب میں کہتے: یَرْحَمُنَا اللّٰہُ وَإِیَّاکُمْ وَغَفَرَ لَنَا وَلَکُمْ۔3
حضرت نافع ؓکہتے ہیں کہ ایک آدمی کو حضرت ابنِ عمرؓ کے پاس چھینک آئی۔ اس آدمی نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا۔ تو حضرت ابنِ عمر نے اس سے کہا: تم نے کنجوسی سے کام لیا۔ جب تم نے اللہ کی تعریف کی ہے تو حضورﷺ پر بھی درود بھیج دیتے۔
حضرت ضحاک بن قیس یشکری ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو حضرت ابنِ عمرؓ کے پاس چھینک آئی تو اس آدمی نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا: اگر تم اس کے ساتھ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ملا کر پورا کر دیتے تو زیادہ اچھا تھا۔4
حضرت ابوجمرہؓکہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابنِ عباسؓ کو سنا کہ جب وہ کسی کو چھینک کا جواب دیتے تو کہتے: عَافَانَا اللّٰہُ وَإِیَّاکُمْ مِنَ النَّارِ، یَرْحَمُکُمُ اللّٰہُ۔1