صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
مسلمان کی دعوت قبول کرنا
حضرت زِیاد بن اَنعم افریقی ؓکہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت معاویہؓ کے زمانۂ خلافت میں ایک غزوہ میں سمندر کا سفر کر رہے تھے کہ ہماری کشتی حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی کشتی سے جا ملی۔ جب ہمارا دوپہر کا کھانا آگیا تو ہم نے انھیں (کھانے کے لیے) بلا بھیجا۔ اس پر حضرت ابو ایوب ہمارے پاس آئے اور فرمایا: تم نے مجھے بلایا ہے لیکن میں روزے سے ہوں، پھر بھی میں تمہاری دعوت ضرور قبول کروںگا، کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان کے اپنے بھائی پر چھ حق واجب ہیں اگر ان میں سے ایک بھی کام چھوڑے گا تو وہ اپنے بھائی کا حقِ واجب چھوڑے گا: جب اس سے ملے تو اسے سلام کرے، جب وہ اسے دعوت دے تو اسے قبول کرے، اور اسے جب چھینک آئے تواسے جواب دے، جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے، اور جب اس کا انتقال ہو تو اس کے جنازے میں شریک ہو، اور جب وہ اس سے نصیحت کا مطالبہ کرے تو اسے نصیحت کرے۔ آگے پوری حدیث ذکر کی ہے۔3
حضرت حمید بن نعیم ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عثمان بن عفان ؓ کو کسی نے کھانے کی دعوت دی جسے ان حضرات نے قبول کر لیا (اور اس کے گھر کھانے کے لیے تشریف لے گئے)۔ جب یہ دونوں حضرات کھانا کھا کر وہاں سے باہر نکلے تو حضرت عمر نے حضرت عثمان سے فرمایا: میں اس کھانے میں شریک تو ہوگیا ہوں، لیکن اب میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں اس میں شریک نہ ہوتا تو اچھا تھا۔ حضرت عثمان نے پوچھا: کیوں؟ فرمایا: مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اس نے یہ کھانا اپنی شان دکھلانے کے لیے کھلایا ہے۔1
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے شادی کی حضرت عثمان ؓ امیر المؤمنین تھے۔ حضرت مغیرہ نے ان کو (شادی کے) کھانے پر بلایا۔ جب حضرت عثمان (کھانے کے لیے) تشریف لائے تو فرمایا: میرا تو روزہ تھا، لیکن میں نے چاہا کہ آپ کی دعوت قبول کرلوں اور آپ کے لیے برکت کی دعا کر دوں (یعنی آنا ضروری ہے ، کھانا ضروری نہیں ہے)۔2
حضرت سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں: جب تمہارا کوئی دوست یا پڑوسی یا رشتہ دار سرکاری ملازم ہو اور وہ تمھیں کچھ ہدیہ دے یا تمہاری کھانے کی دعوت کرے تو تم اسے قبول کرلو، (اگر اس کی کمائی میں کچھ شبہ ہے تو) تمھیں تو وہ چیز بغیر کوشش کے مل رہی ہے اور (غلط کمائی کا) گناہ اس کے ذمہ ہوگا۔3