صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

مسلمان کے ہاتھ، پاؤں اور سر کا بوسہ لینا

حضرت شعبی ؓ کہتے ہیں: جب حضورﷺ خیبر سے واپس آئے تو حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے حضورﷺ کا استقبال کیا۔ حضورﷺ نے انھیںاپنے ساتھ چمٹا لیا اور ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ لیا اور فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ مجھے جعفر کے آنے کی زیادہ خوشی ہے یا خیبر کے فتح ہونے کی۔ دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے ان کو اپنے ساتھ چمٹا کران سے معانقہ کیا۔4 حضرت عبد الرحمن بن رزین ؓکہتے ہیں کہ حضرت سلمہ بن اکوعؓ نے فرمایا: میں نے اپنے اس ہاتھ سے حضورﷺ سے بیعت کی ہے۔ حضرت عبد الرحمن کہتے ہیں کہ بیعت کے بعد ہم نے حضرت سلمہ کے ہاتھ کو چوما اور انھوں نے اس سے منع نہ فرمایا۔5 حضرت ابنِ عمرؓ نے نبی کریمﷺ کے ہاتھ کا بوسہ لیا۔1 حضرت عمر نے حضورﷺ کا بوسہ لیا ہے۔2 حضرت کعب بن مالکؓ فرماتے ہیں: (غزوۂ تبوک سے میرے پیچھے رہ جانے پر) جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری توبہ قبول ہو جانے کی آیت نازل ہوئی تو میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے حضورﷺ کا ہاتھ لے کر چوما۔3 حضرت ابو رجاء عطاردی ؓ کہتے ہیں: میں مدینہ آیا تو میں نے دیکھا کہ لوگ ایک جگہ جمع ہیں اور ان کے بیچ میں ایک آدمی ہے جو دوسرے آدمی کے سر کو چوم رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں آپ پر قربان جاؤں! اگر آپ نہ ہوتے تو ہم ہلاک ہو جاتے۔ میں نے پوچھا: یہ چومنے والا کون ہے؟ اور کس کو چوم رہا ہے؟ کسی نے بتایا: یہ حضرت عمر بن خطّابؓ ہیں جو حضرت ابوبکرؓ کے سر کا بوسہ لے رہے ہیں کہ سب کی رائے یہ تھی کہ جن مرتدین نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا ہے ان سے جنگ نہ کی جائے اور اکیلے حضرت ابو بکر کی رائے یہ تھی کہ ان سے جنگ کی جائے، اور آخر سب کی رائے کے خلاف حضرت ابو بکر کی رائے پر عمل ہوا اور اس میں اسلام کا بہت فائدہ ہوا۔4 حضرت زارع بن عامرؓ فرماتے ہیں: ہم (مدینہ منوّرہ) آئے تو ہمیں بتایا گیا کہ یہ رسول اللہﷺ ہیں، تو ہم آپ کے دونوں ہاتھوں اور پاؤں کا بوسہ لینے لگے۔5 حضرت مزیدہ عبدیؓ فرماتے ہیں: حضرت اشج چلتے ہوئے آئے اور آکر حضورﷺ کا ہاتھ لے کر اسے چوما۔ حضورﷺ نے ان سے فرمایا: غور سے سنو! تم میں دو عادتیں ایسی ہیں جن کو اللہ اور اس کے رسول پسند کرتے ہیں۔ حضرت اشج نے عرض کیا : یہ عادتیں فطرتاً میرے اندر موجود تھیں یا بعد میں میرے اندر پیدا ہوئی ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ عادتیں تمہارے اندر فطرتاً موجود تھیں۔ انھوں نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری فطرت میں ایسی عادتیں رکھ دیں جن کو اللہ اور اس کے رسول پسند کرتے ہیں۔1 حضرت تمیم بن سلمہ ؓ فرماتے ہیں: جب حضرت عمرؓ ملکِ شام پہنچے تو حضرت ابو عبیدہ بن جرّاحؓ نے ان کا استقبال کیا اور ان سے مصافحہ کیا اور ان کے ہاتھ کا بوسہ لیا، پھر دونوں (حضورﷺ کے زمانے کو یاد کر کے) تنہائی میں بیٹھ کر رونے لگے۔ حضرت تمیم فرمایا کرتے تھے کہ (بڑوں کے) ہاتھ چومنا سنت ہے۔2 حضرت یحییٰ بن حارث ذِماری ؓکہتے ہیں: میری حضرت واثلہ بن اسقعؓ سے ملاقات ہوئی۔ میں نے عرض کیا: کیا آپ نے اپنے اس ہاتھ سے حضورﷺ سے بیعت کی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: ذرا اپنا ہاتھ مجھے دیں تاکہ میں اسے چوم لوں۔ چناںچہ انھوں نے مجھے اپنا ہاتھ دیا اور میں نے اسے چوما۔3 حضرت یونس بن مَیْسَرہ ؓکہتے ہیں: ہم حضرت یزید بن اسودؓ کے ہاں بیمار پرسی کے لیے گئے۔ اتنے میں حضرت واثلہ بن اسقعؓ بھی وہاں آگئے۔ حضرت یزید نے جب ان کو دیکھا تو اپنا ہاتھ بڑھا کر ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور پھر اسے اپنے چہرے اور سینے پر پھیرا، کیوںکہ حضرت واثلہ نے (ان ہاتھوں سے) حضورﷺ سے بیعت کی تھی۔ حضرت واثلہ نے حضرت یزید سے کہا: اے یزید! آپ کا اپنے رب کے بارے میں کیسا گمان ہے؟ انھوں نے کہا: بہت اچھا ہے۔ حضرت واثلہ نے فرمایا: تمھیں خوش خبری ہو، کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرا بندہ میرے ساتھ جیسا گمان کرے گا میں اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کروں گا۔ اگر اچھا گمان کرے گا تو اچھا معاملہ کروں گا اور برا گما ن کرے گا تو برا کروں گا۔1 حضرت عبد الرحمن بن رزین ؓ کہتے ہیں: ہم رَبذہ کے پاس سے گزرے تو ہمیں لوگوں نے بتایا کہ یہاں حضرت سلمہ بن اکوعؓ ہیں۔ چناںچہ ہم ان کے پاس گئے، جا کر ہم نے انھیں سلام کیا۔ انھوں نے اپنے دونوں ہاتھ باہر نکال کر فرمایا: میں نے ان دونوں ہاتھوں سے حضورﷺ سے بیعت کی تھی اور انھوں نے اپنا ہاتھ باہر نکالا۔ ان کا ہاتھ خوب بڑا تھا جیسے کہ اونٹ کا پاؤں ہو۔ چناںچہ ہم نے کھڑے ہو کر ان کے ہاتھ کو چوما۔2 حضرت ابنِ جدعان ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ثابت ؓ نے حضرت انسؓ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنے ہاتھ سے حضورﷺ کو چھوا ہے؟ حضرت انسؓ نے کہا: جی ہاں۔ اس پر حضرت ثابت نے ان کے ہاتھ کو چوما۔3 حضرت صُہَیبؓ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حضرت علیؓ حضرت عباسؓ کے ہاتھ اور دونوں پاؤں چوم رہے تھے۔4