صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

سلام کا جواب دینا

حضرت سلمانؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میں آکر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!آپ نے جواب میں فرمایا: وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔پھر دوسرے نے آکر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ آ پ نے فرمایا: وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔ پھرتیسرے نے آکر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔ حضور ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا: وَعَلَیْکَ۔ اس پر اس آدمی نے کہا: یارسول اللہ! فلاں اور فلاں نے آکر آپ کو سلام کیا (اور میں نے بھی آپ کو سلام کیا آپ نے تینوں کو سلام کا جواب دیا، لیکن) ان دونوں کوآپ نے مجھ سے اچھا جواب دیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم نے سلام میں کوئی اچھی چیز تو چھوڑی نہیں (کیوںکہ تم نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ کہا)ا ور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {وَاِذَا حُیِّیْْتُمْ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْہَا اَوْ رُدُّوْہَا}3 اور جب تم کو کوئی (مشروع طور پر) سلام کرے تو اس (سلام ) سے اچھے الفاظ میں سلا م کرویا ویسے ہی الفاظ کہہ دو۔ (چوںکہ تم نے سلام میں سارے ہی الفاظ کہہ دیے تھے) اس لیے میں نے تمہارے سلام کا جواب تمہارے ہی الفاظ میں دیا ہے۔1 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ نے ان سے فرمایا کہ یہ حضرت جبرائیل ؑ تمھیں سلام کہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا: وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔ اور میں کچھ الفاظ اور بڑھانے لگی تو حضور ﷺ نے فرمایا: سلام ان الفاظ پر پورا ہو جاتا ہے۔ حضرت جبرائیل نے کہا: رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ عَلَیْکُمْ أَھْلَ الْبَیْتِ۔2 حضرت انس ؓ اور دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے حضرت سعد بن عبادہ ؓ سے (اندر آنے کی) اجازت لینے کے لیے فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ جواب میں حضرت سعد نے آہستہ سے کہا: وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔اور اتنا آہستہ جواب دیا کہ حضورﷺ سن نہ سکے۔ تین دفعہ یہی ہوا کہ حضورﷺ سلام فرماتے اور حضرت سعد چپکے سے جواب دیتے۔ اس پر حضورﷺ واپس جانے لگے تو حضرت سعد حضور ﷺ کے پیچھے گئے اور عرض کیا:ـیارسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ کا ہر سلام میرے کانوں تک پہنچا اور میں نے آپ کے ہر سلام کا جواب دیا لیکن قصداً آہستہ سے کہا تاکہ آپ سن نہ سکیں۔ میں نے چاہا کہ آپ کے سلام کی بر کت زیادہ سے زیادہ حاصل کر لوں۔ پھر وہ حضورﷺ کو اپنے گھر لے گئے اور ان کے سامنے تیل پیش کیا۔ حضور ﷺ نے وہ تیل نوش فرمایا۔ کھانے کے بعد حضور ﷺ نے یہ دعا فرمائی: أَکَلَ طَعَامَکُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَیْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ وَأَفْطَرَ عِنْدَکُمُ الصَّائِمُوْنَ۔3 حضرت انسؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ اَنصار کو ملنے جایا کرتے تھے۔ جب آپ انصار کے گھر وں میں تشریف لاتے تو انصار کے بچے آکر آپ کے گرد جمع ہو جاتے۔ آپ ان کے لیے دعا فرماتے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور انھیں سلام کرتے۔ چناںچہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ حضرت سعدؓ کے دروازے پر آئے اور ان کو سلام کیا اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِکہا۔ حضرت سعد نے جواب تو دیا لیکن آہستہ سے دیا تاکہ حضورﷺ سن نہ سکیں۔ حضورﷺ نے تین دفعہ سلام کیا اور حضورﷺ کا معمول یہی تھا کہ تین دفعہ سے زیادہ سلام نہیں کیا کرتے تھے، تین دفعہ میں گھر والے اندر آنے کی اجازت دے دیتے توٹھیک ورنہ آپ واپس تشریف لے جاتے۔ پھر آگے پچھلی حدیث جیسی حدیث ذکر کی۔1 حضرت محمد بن جبیر ؓکہتے ہیں: حضرت عمرؓ ایک مرتبہ حضرت عثمانؓ کے پاس سے گزرے۔ حضرت عمر نے انھیں سلام کیا انھوں نے سلام کا جواب نہ دیا۔ حضرت عمر حضرت ابو بکرؓ کے پاس گئے اور ان سے حضرت عثمان کی شکایت کی۔ (یہ دونوں حضرات حضرت عثمان کے پاس آئے) حضرت ابو بکر نے حضرت عثما ن سے کہا: آپ نے اپنے بھائی کے سلام کا جواب کیوں نہیں دیا؟ حضرت عثمان نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے (ان کے سلام کو) سنا ہی نہیں، میں تو کسی گہری سوچ میں تھا۔ حضرت ابو بکر نے پوچھا: آپ کیا سوچ رہے تھے؟ حضرت عثمان نے کہا: میں شیطان کے خلاف سوچ رہا تھا کہ وہ ایسے برے خیالات میرے دل میں ڈال رہا تھا کہ زمین پر جو کچھ ہے وہ سارا بھی مجھے مل جائے تو بھی میں ان برے خیالات کو زبان پر نہیں لاسکتا۔ جب شیطان نے میرے دل میں یہ برے خیالات ڈالنے شروع کیے تو میں نے دل میں کہا: اے کاش! میں حضورﷺ سے پوچھ لیتا کہ ان شیطانی خیالات سے نجات کیسے ملے گی؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا: میں نے حضورﷺ سے اس کی شکایت کی تھی اور میں نے حضور ﷺ سے پوچھا تھا کہ شیطان جو برے خیالا ت ہمارے دلوں میں ڈالتا ہے ان سے ہمیں نجات کیسے ملے گی؟ حضورﷺ نے فرمایا: ان سے نجات تمھیں اس طرح ملے گی کہ تم وہ کلمہ کہہ لیا کرو جو میں نے موت کے وقت اپنے چچا کو پیش کیا تھا لیکن انھوں نے وہ کلمہ نہیں پڑھا تھا۔2 یہی واقعہ حضرت عثمانؓ سے اس سے زیادہ تفصیل سے ابنِ سعد نے نقل کیا ہے اور اس میں یہ ہے کہ حضرت عمرؓ گئے اور حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں جا کر کہا: اے خلیفۂ رسول اللہ! کیا میں آپ کو حیران کن بات نہ بتاؤں؟ میں حضرت عثمان کے پاس سے گزرا، میں نے انھیں سلام کیا لیکن انھوں نے میرے سلا م کا جواب نہ دیا۔ حضرت ابو بکر کھڑے ہوگئے اور حضرت عمر کا ہاتھ پکڑا اور دونوں حضرات چل پڑے اور میرے پاس آئے۔ تو مجھ سے حضرت ابوبکر نے کہا: اے عثمان! تمہارے بھائی (عمر) نے بتایا ہے کہ وہ تمہارے پاس سے گزرے تھے اور انھوں نے تمھیں سلام کیا تھا لیکن تم نے ان کے سلام کا جواب نہیںدیا، تو تم نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے کہا: اے خلیفۂ رسول اللہ! میں نے ایسا تو نہیں کیا۔ حضرت عمر نے کہا: بالکل کیا ہے۔ اور اللہ کی قسم! یہ (تکبر) تم بنو اُمیہ کی پرانی خصلت ہے۔ میں نے کہا: (اے عمر!) مجھے نہ تو تمہارے گزرنے کا پتا چلا اور نہ تمہارے سلام کرنے کا۔ حضرت ابو بکر نے کہا: آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ آپ کسی سوچ میں تھے جس کی وجہ سے آپ کو پتا نہ چلا۔ میں نے کہا: جی ہاں! حضرت ابو بکر نے کہا: آپ کیا سوچ رہے تھے؟ میں نے کہا: میں یہ سوچ رہا تھا کہ حضورﷺ کا انتقال ہوگیا لیکن میں حضورﷺ سے یہ نہ پوچھ سکا کہ اس اُمت کی نجات کس چیز میں ہے؟ میں یہ سوچ بھی رہا تھا اور اپنی اس کوتاہی پر حیران بھی ہو رہا تھا۔ حضرت ابوبکر نے کہا: میں نے حضورﷺ سے یہ بات پوچھی تھی اور حضورﷺ نے مجھے بتائی تھی۔ میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ حضرت ابوبکر نے کہا: میں نے حضورﷺ سے یہ پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ! اس اُمت کی نجات کس چیز میں ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا تھا: جو آدمی مجھ سے اس کلمہ کو قبول کرلے گا جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا تھا لیکن انھوں نے قبول نہیں کیا تھا تو یہ کلمہ اس آدمی کے لیے نجات کا ذریعہ ہوگا۔ حضورﷺ نے اپنے چچا پر یہ کلمہ پیش کیا تھا: أَشْھَدُ اَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔1 حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں: میں مسجد میں حضرت عثمان بن عفان ؓ کے پاس سے گزرا۔ میں نے انھیں سلام کیا، انھوں نے مجھے آنکھ بھر کر دیکھا بھی لیکن میرے سلام کا جواب نہ دیا۔ میں امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطّابؓ کی خدمت میں گیا اور میں نے دو دفعہ یہ کہا: اے امیر المؤمنین! کیا اسلام میں کو ئی نئی چیز پیدا ہوگئی ہے؟ حضرت عمر نے پوچھا: کیا ہوا؟ میں نے کہا: اور تو کوئی بات نہیںالبتہ یہ بات ہے کہ میں ابھی مسجد میں حضرت عثمان کے پاس سے گزرا میں نے ان کو سلام کیا، انھوں نے مجھے آنکھ بھر کر دیکھا بھی لیکن میرے سلام کا جواب نہ دیا۔ حضرت عمر نے آدمی بھیج کر حضرت عثمان کو بلوایا اور (جب حضرت عثمان آگئے تو) ان سے فرمایا: آپ نے اپنے بھائی (سعد) کے سلام کا جواب کیوں نہیں دیا؟ حضرت عثمان نے کہا: میں نے تو ایسا نہیں کیا۔ میں نے کہا: آپ نے کیا ہے اور بات اتنی بڑھی کہ انھوں نے اپنی بات پر قسم کھالی اور میں نے اپنی بات پر قسم کھالی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت عثما ن کو یاد آگیا تو انھوں نے فرمایا: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ۔ آپ میرے پاس سے ابھی گزرے تھے اس وقت میں اس بات کے بارے میں سوچ رہا تھا جو میں نے حضور ﷺ سے سنی تھی۔ اور وہ بات ایسی ہے کہ جب بھی مجھے یاد آتی ہے تو میری نگاہ پر اور میرے دل پر ایک پردہ پڑ جاتا ہے (جس کی وجہ سے نہ کچھ نظر آتا ہے اور نہ کچھ سمجھ آتا ہے)۔ میں نے کہا: میں آپ کو وہ بات بتاؤں؟ ایک مرتبہ حضورﷺ نے دعا کے ابتدائی حصے کا تذکرہ فرمایا (کہ دعا کے شروع میں اسے پڑھنا چاہیے)۔ اتنے میں ایک دیہاتی آیا اور حضورﷺ اس سے باتوں میں مشغول ہوگئے۔ پھر حضورﷺ کھڑے ہوگئے (اور چل پڑے)۔ میں بھی آپ کے پیچھے چل دیا۔ پھر مجھے خطرہ ہوا کہ میرے پہنچنے سے پہلے کہیں حضورﷺ گھر کے اندر نہ چلے جائیں، اس لیے میں نے زمین پر پاؤں زور سے مارے۔ اس پرحضورﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: یہ کون ہے؟ ابو اسحاق ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اور تو کوئی بات نہیں ہے، بس یہ بات ہے کہ آپ نے دعاکے ابتدائی حصہ کا تذکرہ کیا تھا پھر یہ دیہاتی آگیا تھا اور آپ اس سے باتوں میں مشغول ہوگئے تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا: وہاں وہ مچھلی والے (حضرت یونس ؑ) کی دعا ہے جو انھوں نے مچھلی کے پیٹ میں مانگی تھی:لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّيْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ۔ان کلمات کے ساتھ جو مسلمان بھی دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول فرمائیں گے۔1