صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
نیک رفیقِ سفر کا اکرام کرنا
حضرت رَباح بن ربیعؓ فرماتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں حضورﷺ کے ساتھ گئے۔ حضورﷺ نے ہم میں سے ہر تین آدمیوں کو ایک اُونٹ سواری کے لیے دیا۔ صحرا اور جنگل میں تو ہم میں سے دو سوار ساتھ ہوجاتے اور ایک پیچھے سے اونٹ کو چلاتا، اور پہاڑوں میں ہم سب ہی اُتر جاتے۔ حضورﷺ میرے پاس سے گزرے میں اس وقت پیدل چل رہا تھا۔ حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے رَباح! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم پیدل چل رہے ہو (کیا بات ہے؟) میں نے کہا: میں تو ابھی اترا ہوں اس وقت میرے دونوں ساتھی سوار ہیں۔ اس کے بعد حضورﷺ (آگے چلے گئے اور آپ) کا گزر میرے دونوں ساتھیوں کے پاس سے ہوا جس پر انھوں نے اپنا اونٹ بٹھایا اور دونوں اس سے اتر گئے۔ جب میں ان دونوں کے پاس پہنچا تو دونوں نے کہا: تم اس اونٹ پر آگے بیٹھ جاؤ اور (مدینہ) واپسی تک تم یوں ہی بیٹھے رہو۔ ہم دونوں باری باری سوار ہوتے رہیں گے (تم نے اب پیدل نہیں چلنا)۔ میں نے کہا: کیوں؟ ان دونوں نے کہا: حضورﷺ ہمیں ابھی فرما کر گئے ہیں: تمہارا ساتھی بہت نیک آدمی ہے تم اس کے ساتھ اچھی طرح رہو۔1