صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
بڑوں کی موت پر دلوں کی حالت کو بدلا ہوا محسوس کرنا
حضرت ابو سعید ؓ فرماتے ہیں: ابھی ہم حضورﷺ کو (دفن کر کے اور) مٹی میں چھپا کر ہٹے ہی تھے کہ ہمیں اپنے دل بدلے ہوئے محسوس ہونے لگ گئے تھے۔2
حضرت اُبیّ بن کعبؓ فرماتے ہیں: جب ہم حضورﷺ کے ساتھ تھے تو ہم سب کے چہرے ایک طرف تھے، لیکن جب آپ ہمیں دنیا میں چھوڑ کر آگے تشریف لے گئے تو ہمارے چہرے دائیں بائیں الگ الگ سمت میں ہوگئے۔ دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ جب ہم اپنے نبی کریمﷺ کے ساتھ تھے تو ہم سب کا رخ ایک طرف تھا، جب اللہ نے آپ کو اُٹھا لیا تو ہم اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔3
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں: جب وہ دن آیا جس دن اللہ نے حضورﷺ کو دنیا سے اٹھا لیا تو اس دن مدینہ کی ہر چیز تاریک ہوگئی تھی۔ اور ابھی ہم نے حضورﷺ کے دفن سے فارغ ہو کر ہاتھ نہیں جھاڑے تھے کہ ہمیں اپنے دل بدلے ہوئے محسوس ہونے لگے۔4
حضرت انس ؓ ہجرت کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں اس دن بھی موجود تھا جس دن حضورﷺ ہمارے پاس مدینہ تشریف لائے، اور اس دن سے زیادہ اچھا اور زیادہ روشن دن میں نے کوئی نہیں دیکھا۔ اور میں اس دن بھی موجود تھا جس دن حضورﷺ کا انتقال ہوا، اور میں نے اس دن سے زیادہ برا اور زیادہ تاریک دن کوئی نہیں دیکھا۔5
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں: جب حضراتِ شوریٰ (حضرت عمرؓکی شہادت کے بعد) ایک جگہ جمع ہوئے اور حضرت ابو طلحہؓ نے ان کا رویہ دیکھا (کہ ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ دوسرا خلیفہ بن جائے) تو فرمایا کہ (اب اُمت کے حالات ایسے ہیں کہ) اگر تم سب امارت کے طالب بن جاؤ تو مجھے اس میں کم خطرہ محسوس ہو رہا ہے، اور اگر تم سب امارت کو ایک دوسرے پر ڈالنے لگو تو مجھے اس میں زیادہ خطرہ نظر آرہا ہے۔ اللہ کی قسم! حضرت عمر ؓ کے انتقال کی وجہ سے ہر مسلمان گھرانے کے دین اور دنیا میں کمی آئی ہے۔1