صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

مسلمانوں کی پوشیدہ باتوں کو تلاش کرنا

حضرت مِسْوَر بن مخرمہؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ نے ایک رات حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے ساتھ مدینہ منوّر ہ کا پہرہ دیا۔ یہ حضرات چلے جا رہے تھے کہ انھیں ایک گھر میں چراغ کی روشنی نظر آئی، یہ حضرات اس گھر کی طرف چل پڑے۔ جب اس گھر کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ دروازہ بِھڑا ہوا ہے اور اندر کچھ لوگ زور زور سے بول رہے ہیں اور شور مچا رہے ہیں۔ حضرت عمر نے حضرت عبد الرحمن کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا: کیا تم جانتے ہو یہ کس کا گھر ہے؟ حضرت عبد الرحمن نے کہا: نہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: یہ حضرت ربیعہ بن اُمیہ بن خلف ؓ کا گھر ہے اور یہ سب لوگ اس وقت شراب پیے ہوئے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے (ہمیںکیا کرنا چاہیے؟) حضرت عبد الرحمن نے کہا: میرا خیال یہ ہے کہ ہم تو وہ کام کر بیٹھے جس سے اللہ نے ہمیں روکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے: {وَلَا تَـجَسَّسُوْا}1 اور سراغ مت لگا ؤ۔ اور ہم اس گھر والوں کے سراغ لگانے میں لگ گئے ہیں۔ حضرت عمر انھیں اسی حال میں چھوڑ کر واپس چلے گئے۔2 حضرت شعبی ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے اپنے ایک ساتھی کو کئی دن تک نہ دیکھا تو حضرت ابنِ عوف ؓ سے کہا: آؤ فلاں کے گھر جا کر دیکھتے ہیں (کہ وہ کس کام میں لگا ہوا ہے)۔ چناںچہ یہ حضرات اس کے گھر گئے تو دیکھاکہ اس کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور وہ بیٹھا ہوا ہے اور اس کی بیوی برتن میں ڈال ڈال کر اسے دے رہی ہے۔ حضرت عمر نے حضرت عبد الرحمن سے کہا: اس کام میں لگ کر اس نے ہمارے پاس آنا چھوڑا ہوا ہے۔ حضرت ابنِ عوف نے حضرت عمر سے کہا: آپ کو کیسے پتا چلا کہ اس برتن میں کیا ہے؟ حضرت عمر نے کہا: کیا آ پ کو یہ خطرہ ہے کہ ہم تجسس کر رہے ہیں (جس سے اللہ نے روکا ہے؟) حضرت عبد الرحمن نے کہا: بالکل، یہ یقینا تجسس ہے۔ حضرت عمر نے کہا: اب اس گنا ہ سے توبہ کا کیا طریقہ ہے؟حضرت عبدالرحمن نے کہا: آپ کو اس کی جو با ت معلوم ہوئی ہے وہ اسے نہ بتائیں اور آپ اسے اپنے دل میں اچھا ہی سمجھیں۔ پھروہ دونوں حضرات واپس چلے گئے۔3 حضرت طاؤس ؓکہتے ہیں: کچھ مسافروں نے مدینے کے ایک کونے میں آکر پڑاؤ ڈالا۔ حضرت عمر بن خطّاب ؓ ایک رات ان کا پہرہ دینے تشریف لے گئے۔ جب رات کا کچھ حصہ گذر گیا تو حضرت عمر کا ایک گھر پر گزر ہو ا جس میں بیٹھے ہوئے کچھ لوگ کچھ پی رہے تھے۔ حضرت عمر نے ان کو پکار کر کہا: کیا اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہے؟ کیا اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہے؟ ان میں سے ایک آدمی نے کہا: جی ہاں! کیا اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہے؟ کیا اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہے؟ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا کرنے سے (گھروں کے اندرونی حالات معلوم کرنے سے) منع کیا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر اُن کو اسی حال میں چھوڑ کر واپس چلے گئے۔1 حضرت ثور کندی ؓکہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ رات کو مدینہ میں پہرہ کے لیے گشت کرتے تھے۔ ایک رات انھوں نے ایک آدمی کی آواز سنی جو گھر میں گانا گا رہا تھا۔ حضرت عمر دیوار پھاند کر اندر اس کے پاس چلے گئے اور یوں کہا: اے اللہ کے دشمن! کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ تم اللہ کی نافرمانی کرتے رہو گے اور اللہ تم پر پردہ ڈالے رکھیں گے؟ اس آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ میرے بارے میں جلدی نہ کریں، اگر میں نے اللہ کی ایک نافرمانی کی ہے تو آپ نے اللہ کی تین نافرمانیاں کی ہیں۔ پہلی یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے: {وَلَا تَـجَسَّسُوْا}2 تم تجسس نہ کرو۔ اور آپ نے تجسس کیا ہے۔ اللہ نے فرمایاہے: {وَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِھَا}3 اورگھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ۔ اور آپ دیوار پھاند کر میرے پاس آئے ہیں اور آپ بغیر اجاز ت کے آئے ہیں، حالاںکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلٰی اَھْلِھَا}4 تم اپنے خاص گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل مت ہو جب تک کہ (ان سے) اجازت حاصل نہ کرلو اور (اجازت لینے سے قبل) ان کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو ۔ حضرت عمر نے فرمایا: اگر میں تمھیں معاف کر دوں تو تمہارا خود کو خیر میں لگانے کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! اس پر حضرت عمر نے اسے معاف کر دیا اور اسے چھوڑ کر باہر آگئے۔5 حضرت سدّی ؓ کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ باہر تشریف لے گئے، ان کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بھی تھے۔ انھیں ایک جگہ آگ کی روشنی نظر آئی، یہ اس روشنی کی طرف چل پڑے یہاںتک کہ ایک گھر میں داخل ہو گئے۔ یہ آدھی رات کا وقت تھا۔ اندر جا کر دیکھا کہ چراغ جل رہا ہے وہاں ایک بوڑھے میاں بیٹھے ہوئے ہیں اور اُن کے سامنے کوئی پینے کی چیز رکھی ہوئی ہے اور ایک باندی انھیں گانا سنا رہی ہے۔ ان بوڑھے میاں کو اس وقت پتا چلا جب حضرت عمر اُس کے پاس پہنچ گئے۔ حضرت عمر نے فرمایا: آج رات جیسا برا منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ ایک بوڑھا اپنی موت کا انتظار کر رہا ہے (اور وہ یہ برا کام کر رہا ہے)۔ اس بوڑھے نے سر اُٹھا کر کہا: آپ کی بات ٹھیک ہے، لیکن اے امیر المؤمنین! آپ نے جو کیا ہے وہ اس سے بھی زیادہ برا ہے۔ آپ نے گھر میں گھس کر تجسس کیا ہے حالاںکہ اللہ تعالیٰ نے تجسس سے منع فرمایا ہے۔ اور آپ اجازت کے بغیر گھر کے اندر آگئے ہیں۔ حضرت عمر نے کہا: آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اور پھر حضرت عمر دانت سے کپڑا پکڑ کر روتے ہوئے اس گھر سے باہر نکلے اور فرمایا: اگر عمر کو اُس کے ربّ نے معاف نہ فرمایا تو اسے اس کی ماں گم کرے۔ یہ بوڑھا یہ سمجھتا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں سے چھپ کر یہ کام کرتا ہے، اب تو عمر نے اسے یہ کام کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے، لہٰذا اب وہ بلا جھجک یہ کام کرتا رہے گا۔ اس بوڑھے نے ایک عرصہ تک حضرت عمر کی مجلس میں آنا چھوڑ دیا۔ ایک دن حضرت عمر بیٹھے ہوئے تھے، وہ بوڑھا ذرا چھپتا ہوا آیا اور لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا۔ حضرت عمر نے اسے دیکھ لیا تو فرمایا: اس بوڑھے کو میرے پاس لاؤ۔ ایک آدمی نے جا کر اس بوڑھے کو کہا: جاؤ، امیر المؤمنین بلا رہے ہیں۔ وہ بوڑھا کھڑا ہوا۔ اس کا خیال تھا کہ حضرت عمر نے اس رات جو منظر دیکھا تھا آج اس کی سز ا دیں گے۔ حضرت عمر نے فرمایا: میرے قریب آجاؤ۔ حضرت عمر اسے اپنے قریب کرتے رہے یہاں تک کہ اسے اپنے پہلو میں بٹھا لیا پھر فرمایا: ذرا اپنا کان میرے نزدیک کرو۔ حضرت عمر نے اس کے کان کے ساتھ منہ لگا کر کہا: غور سے سنو، اس ذات کی قسم جس نے محمدﷺ کو حق دے کر اور رسو ل بنا کر بھیجا ہے! میں نے اس رات تمھیں جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا تھا وہ میں نے کسی کو نہیں بتایا، حتیٰ کہ حضرت ابنِ مسعود اس رات میرے ساتھ تھے، لیکن میں نے ان کو بھی نہیں بتایا۔ اس بوڑھے نے کہا: اے امیر المؤمنین! ذرا اپنا کان میرے قریب کریں۔ پھر اس بوڑھے نے حضرت عمر کے کان کے ساتھ منہ لگا کر کہا: اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد ﷺ کو حق دے کر رسول بنا کر بھیجا ہے! میں نے بھی وہ کام اب تک دوبارہ نہیں کیا۔ یہ سن کر حضرت عمر زور زور سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہنے لگے اور لوگوں کو پتہ نہیں تھا کہ حضرت عمر کس وجہ سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہہ رہے ہیں۔1 حضرت ابو قِلابہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ کو کسی نے بتایا کہ حضرت ابو محجن ثقفی ؓ اپنے گھر اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کر شراب پیتے ہیں۔ حضرت عمر تشریف لے گئے یہاںتک کہ حضرت ابو محجن کے پاس ان کے گھر میں چلے گئے تو وہاں ان کے پاس صرف ایک آدمی تھا۔ حضرت ابو محجن نے کہا: اے امیر ا لمؤمنین! یہ (گھر میں اجازت کے بغیر تجسس کے لیے داخل ہونا) آپ کے لیے جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تجسس سے منع فرمایا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: یہ آدمی کیا کہہ رہا ہے؟ حضرت زید بن ثابت اور حضرت عبد الرحمن بن اَرقم ؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں، آپ کا اس طرح اندر جانا واقعی تجسس ہے۔ حضرت عمر انھیں چھوڑ کر باہر آگئے۔2