صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

مسلمان کی برائی بیان کرنا

حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ کے پاس ایک آدمی نے دوسرے آدمی کی برائی بیان کی۔ حضورﷺ نے اس سے فرمایا: یہاں سے اُٹھ جا، تیرے کلمۂ شہادت کا اعتبار نہیں۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں آیندہ ایسے نہیں کروں گا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم قرآن کا مذاق اُڑا رہے ہو، جو قرآن کے حرام کردہ کام کو حلال سمجھے وہ قرآن پر ایمان نہیں لایا (قرآن میں مسلمان کی غیبت کو حرام قرار دیا گیا ہے اور تم غیبت کر رہے ہو)۔1 حضرت طارق بن شہاب ؓ کہتے ہیں کہ حضرت خالد اور سعدؓ کے درمیان کچھ تیز بات ہوگئی۔ حضرت سعد کے پاس بیٹھ کر ایک آدمی حضرت خالد کی برائیاںبیان کرنے لگا۔ حضرت سعد نے کہا: چپ رہو، ہمارے درمیان جو بات ہوئی تھی وہ (وہیں ختم ہوگئی تھی، وہ آگے بڑھ کر) ہمارے دین تک نہیں پہنچ سکتی (کہ اس جھگڑے کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کی برائیاں بیان کر کے دین کا نقصان کر لیں)۔2