حضورﷺ کی عزّت اور تعظیم کرنا
حضورﷺ کی تجہیز وتکفین
حضرت علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں: جب ہم لوگ حضورﷺ کی تجہیز وتکفین کی تیاری کرنے لگے تو باہر لوگ بہت تھے، اس لیے ہم نے دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ اس پر انصار نے پکار کر کہا: ہم حضورﷺ کے ماموں ہیں (حضورﷺ کی والدہ مدینہ کی تھیں) اور ہمیں اسلام میں نمایاں مرتبہ حاصل ہے۔ اور قریش نے پکار کر کہا: ہم حضورﷺ کے والد کے خاندان کے لوگ ہیں۔ (یعنی انصار اور قریش کے لوگ سب ہی اندر جا کر غسل وغیرہ دینے میں شریک ہونا چاہتے تھے) اس پر حضرت ابو بکر نے بلند آواز سے فرمایا: اے مسلمانو! ہر خاندان اور قریبی رشتہ دار اپنے جنازہ کے دوسروں سے زیادہ حق دار ہوتے ہیں (لہٰذا حضورﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ اور چچا زاد بھائی زیادہ حق دار ہیں) اس لیے ہم تمھیں خدا کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ (تم اندر نہ آؤ، کیوںکہ) اگر تم سب اندر آؤ گے تو جو زیادہ حق دار ہیں وہ پیچھے رہ جائیں گے۔ اللہ کی قسم! اندر صرف وہی آئے گا جسے بلایا جائے گا۔ حضرت علی بن حسین ؓ فرماتے ہیں: انصار نے پکار کر کہا: (حضورﷺ کی تجہیز وتکفین میں) ہمارا بھی حق ہے حضورﷺ ہمارے بھانجے ہیں اور اسلام میں ہمارا مقام بہت بڑا ہے۔ اور انھوں نے یہ مطالبہ حضرت ابو بکر کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے فرمایا: قریبی رشتہ دار اور خاندان والے اس کام کے زیادہ حق دار ہیں، لہٰذا تم یہ مطالبہ حضرت علی اور حضرت عباس ؓ کے سامنے پیش کرو، کیوںکہ ان کے پاس اندر وہی جائے گا جسے یہ حضرات چاہیں گے۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ کی بیماری بڑھ گئی تو آپ کے پاس حضرت عائشہ اور حضرت حفصہؓ تھیں۔ اتنے میں حضرت علی ؓ داخل ہوئے تو حضور ﷺ نے انھیں دیکھ کر سر اٹھایا اور فرمایا: میرے قریب آجاؤ، میرے قریب آجاؤ۔ حضرت علی نے قریب جا کرحضورﷺ کو اپنے سہارے سے بٹھا لیا اور حضورﷺ کے وصال تک ان ہی کے پاس رہے۔ جب حضورﷺ کا انتقال ہوگیا تو حضرت علی نے کھڑے ہو کر اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ حضرت عباس ؓ اور بنو عبد المطلب (حضورﷺ کے دادا کے خاندان والے) آکر باہر دروازے پر کھڑے ہوگئے۔ حضرت علی کہنے لگے: میرے والد آپ پر قربان ہوں! آپ زندگی میں بھی پاک تھے اور انتقال کے بعد بھی پاک ہیں، اور حضورﷺ کے جسم سے ایسی عمدہ خوش بو مہک رہی تھی کہ لوگوں نے ویسی خوش بو کبھی نہیں دیکھی تھی۔
پھر حضرت عباسؓ نے حضرت علی سے فرمایا: عورتوں کی طرح رونا چھوڑ دو اور اپنے حضرت کی تجہیز وتکفین کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔ اس پر حضرت علی نے فرمایا: حضرت فضل بن عباس ؓ کو اندر میرے پاس بھیج دو۔ انصار نے کہا: ہم تمھیں اللہ کا اور حضورﷺ سے اپنے تعلق کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے کفن اور غسل میں ہمارا بھی حصہ ہو۔ (اس پر حضرت علی نے کہا: اپنا ایک آدمی اندر بھیج دو) چناںچہ انصار نے اپنا ایک آدمی اندر بھیجا جس کا نام اَوس بن خَوَلِی ؓ تھا۔ وہ ایک ہاتھ میں گھڑا بھی اٹھائے ہوئے تھے۔ یہ حضرات ابھی اندر ہی تھے غسل شروع نہیں کیا تھا کہ انھیں یہ آواز سنائی دی کہ رسو ل اللہ ﷺ کے کپڑے مت اتارو، اور وہ جیسے ہیں ویسے ہی ان کو قمیص میں غسل دے دو۔ (اللہ تعالیٰ نے فرشتے کے ذریعہ ان حضرات کی اس موقع پر رہبری فرمائی) چناںچہ حضرت علی نے حضورﷺ کو غسل دیا۔ وہ قمیص کے نیچے ہاتھ ڈال کر جسم کو نہلاتے تھے اور حضرت فضل (پردے کے لیے) چادر تھامے ہوئے تھے اور وہ انصاری پانی لا رہے تھے اور حضرت علی نے اپنے ہاتھ پر کپڑا باندھا ہوا تھا۔1