حضورﷺ کی عزّت اور تعظیم کرنا

حضورﷺ کا (صحابۂ کرام ؓ اور اُمت کو) اَلوداع کہنا

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں: ہمارے محبوب نبی کریم ﷺ (میرے والد اور میری جان ان پر قربان ہو!) کے انتقال سے چھ دن پہلے ہمیں ان کے انتقال کی خبر ہوگئی تھی۔ جب جدائی کا وقت قریب آیا تو حضورﷺ نے ہمیں اماں جان حضرت عائشہ ؓ کے گھر میں جمع فرمایا۔ ہمارے اوپر آپ کی نظر پڑی تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اور فرمایا: مرحبا! تمھیں خوش آمدید ہو! اللہ تمہاری عمر دراز کرے ! اللہ تمہاری حفاظت فرمائے! اللہ تمھیں ٹھکانا دے! اللہ تمہاری مدد فرمائے! اللہ تمھیں بلند فرمائے! اللہ تمھیں ہدایت دے! اللہ تمھیں رزق عطا فرمائے! اللہ تمھیں توفیق عطا فرمائے! اللہ تمھیں سلامت رکھے! اللہ تمھیں قبول فرمائے! میں تمھیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اللہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ تمہارا خیال رکھے، اور تمہارے کام اسی کے سپرد کرتا ہوں۔ میں تمھیں اس بات سے واضح طور پر ڈراتا ہوں کہ اللہ کے مقابلہ میں اس کے بندوں کے متعلق اس کی زمین پر تکبر نہ کرنا، کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے اور تم سے فرمایا ہے: {تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُھَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ط وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ o}2 یہ عالمِ آخرت ہم ان ہی لوگوں کے لیے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ فساد کرنا، اور نیک نتیجہ متقی لوگوں کو ملتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {اَلَیْسَ فِیْ جَھَنَّمَ مَثْوًی لِّلْمُتَکَبِّرِیْنَ}1 کیا ان متکبرین کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اللہ کا مقرر کردہ وقت اور اللہ تعالیٰ، سدرۃ المنتہیٰ (ساتویں آسمان پر بیری کا ایک درخت ہے، فرشتوں کے پہنچنے کی حد وہیں تک ہے۔ اور یہ ایک مرکزی مقام ہے، عرشِ الٰہی سے احکام یہیں پہنچتے ہیں) جنت الماویٰ (متقیوں کی آرام گاہ والی جنت) لبریز پیالے اور سب سے بلند رفیق (یعنی اللہ تعالیٰ) کی طرف واپس جانے کا وقت بالکل قریب آگیا ہے۔ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس وقت آپ کو غسل کون دے؟ آپ نے فرمایا: میرے خاندان کے مرد۔ سب سے زیادہ قریب کے رشتے والا، پھر اس کے بعد والا درجہ بہ درجہ۔ پھر ہم نے پوچھا: ہم آپ کو کس میں کفن دیں؟ آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میرے ان ہی کپڑوں میں کفن دے دینا یا یمنی جوڑے میں یا مصری کپڑوں میں کفن دے دینا۔ پھر ہم نے کہا: ہم میں سے کون آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائے؟ یہ کہہ کر ہم بھی رو پڑے اور حضورﷺ بھی۔ آپ نے فرمایا: ذرا ٹھہرو، اللہ تمہاری مغفرت فرمائے اورتمھیں تمہارے نبی کی طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے! جب تم مجھے غسل دے چکو اور میرے جنازہ کو میرے اس کمرے میں قبر کے کنارے پر رکھ دو، تو پھر تم سب تھوڑی دیر باہر چلے جانا، کیوںکہ سب سے پہلے میرے خلیل اور ہم نشیں حضرت جبرائیل ؑ میری نمازِ جنازہ پڑھیں گے، پھر حضرت میکائیل، پھر حضرت اِسرافیل، پھر ملک الموت ؑ اپنے پورے لشکر کے ساتھ، پھر سارے فرشتے نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔ پھر تم ایک ایک جماعت بن کر اندر آجانا اور مجھ پر صلوۃ وسلام پڑھنا اور کسی عورت کو نوحہ کر کے نہ رونے دینا اور نہ شور مچانے دینا اور نہ بلند آواز سے رونے دینا ورنہ مجھے تکلیف ہوگی۔ پہلے میرے خاندان کے مرد اندر آکر صلوۃ وسلام پڑھیں، پھر تم لوگ۔ تم میری طرف سے اپنے لیے سلام قبول کرلو اور جتنے میرے بھائی اس وقت غائب ہیں انھیں میرا سلام کہہ دینا اور میں تمھیں اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میرے بعد جو بھی تمہارے دین میں داخل ہو میں اسے بھی سلام کہہ رہا ہوں اور آج سے لے کر قیامت تک جو بھی میرے دین کا اتباع کرے گا میں اسے بھی سلام کہہ رہا ہوں۔ پھر ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کون آپ کو قبر میں اتارے؟ آپ نے فرمایا: میرے خاندان کے مرد اور اُن کے ساتھ بہت سے فرشتے ہوں گے، وہ فرشتے تو تمھیں دیکھ رہے ہوں گے لیکن تم انھیں نہ دیکھ سکو گے۔1