صحابہ کرام ؓ کا دنیا کی وسعت اور کثرت سے ڈرنا
حضرت سلمان فارسی ؓ کا دنیا کی کثرت سے ڈرنا اور رونا
قبیلہ بنو عبس کے ایک صاحب کہتے ہیں: میں حضرت سلمان ؓ کی صحبت میں رہا۔ ایک دفعہ انھوں نے کسریٰ کے ان خزانوں کا تذکرہ کیا جو اللہ نے مسلمانوں کو فتوحات میں دیے تھے اور فرمایا: جس اللہ نے تمھیں یہ خزانے دیے اور تمھیں یہ فتوحات عطا فرمائیں، اس نے حضرت محمدﷺ کی زندگی میں یہ سارے خزانے روک رکھے تھے (حالاںکہ اللہ نے حضور ﷺ کو تمام خیرات وبرکات عطا فرمائی تھیں)۔ اور صحابہ ؓ اس حال میں صبح کرتے کہ ان کے پاس نہ درہم ودینا ر ہوتا اور نہ ایک مُد (۱۴ چھٹانک) غلہ۔ اے قبیلہ بنو عبس والے! پھر اس کے بعد اب یہ صورتِ حال ہے۔ پھر ہمارا چند کھلیانوں پر گزر ہوا جہاں اُڑا کر دانوں سے بھوسہ الگ کیا جا رہا تھا، اسے دیکھ کر فرمایا: جس اللہ نے تمھیں یہ سب کچھ دیا ہے اور تمھیں یہ فتوحات عطا فرمائی ہیں اس نے حضرت محمدﷺ کی زندگی میں یہ تمام خزانے روک رکھے تھے۔ اور صحابہؓ اس حال میں صبح کرتے کہ نہ ان کے پاس دینار ودرہم ہوتا اور نہ ایک مُد غلّہ۔ اے عبسی بھائی! پھر اس کے بعد اب (فر اوانی کی) یہ صورتِ حال ہے۔2
قبیلہ بنو عبس کے ایک صاحب کہتے ہیں: میں ایک مرتبہ حضرت سلمان ؓ کے ساتھ دریائے دجلہ کے کنارے چلا جارہا تھا تو انھوں نے فرمایا: اے قبیلہ بنو عبس والے! اُتر کر پانی پی لو۔ چناںچہ میں نے اتر کر پانی پی لیا۔ پھر انھوں نے پوچھا: تمہارے اس پینے سے کیا دِجلہ میں کوئی کمی آئی ہے؟ میں نے کہا: میرے خیال میں تو کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ تو فرمایا: علم بھی اسی طرح سے ہے، اس میںسے جتنا بھی لے لیا جائے وہ کم نہیں ہوتا۔ پھر فرمایا: سوار ہوجاؤ۔ چناںچہ میں سوار ہوگیا۔ پھر گندم اور جَو کے کھلیانوں پر ہمارا گزر ہو ا۔ انھیں دیکھ کر فرمایا: تمہارا کیا خیا ل ہے اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں یہ فتوحات عطا فرمائی ہیں اور اللہ نے یہ سب کچھ حضرت محمدﷺ کے صحابہ ؓ سے روکے رکھا، تو کیا یہ فتوحات ہمیں اس لیے دیں کہ ہمارے ساتھ خیر کا ارادہ ہے؟ اور ان سے اس لیے روکے رکھیں کہ ان کے ساتھ شر کا ارادہ تھا؟ میں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ انھوں نے فرمایا: میں جانتا ہوں۔ ہمارے ساتھ شر کا ارادہ ہے اور ان کے ساتھ خیر کا تھا، اور حضورﷺ نے آخری دم تک کبھی تین دن مسلسل پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔1
حضرت ابو سفیان ؓ اپنے اساتذہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت سلمان ؓ بیما ر تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ ان کی عیادت کرنے گئے تو حضرت سلمان رونے لگ پڑے۔ حضرت سعد نے ان سے کہا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ آپ تو (انتقال کے بعد) اپنے ساتھیوں سے جا ملیں گے اور حضورﷺ کے پاس حوضِ کوثر پر جائیں گے اور حضورﷺ کا اس حال میں انتقال ہوا کہ وہ آپ سے راضی تھے۔ حضرت سلمان نے کہا: میں نہ تو موت سے گھبرا کر رو رہا ہوں، اور نہ دنیا کے لالچ کی وجہ سے، بلکہ اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ حضورﷺ نے ہمیں یہ وصیّت فرمائی تھی کہ گزارے کے لیے تمہارے پاس اتنی دنیا ہونی چاہیے جتنا کہ سوار کے پاس توشہ ہوتا ہے۔ اور (میں اس وصیت کے مطابق عمل نہیں کرسکا کیوںکہ) میرے اردگرد یہ بہت سے کالے سانپ ہیں، یعنی دنیا کا بہت سا سامان ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ سامان کیا تھا؟ بس ایک لوٹا اور کپڑے دھونے کا برتن اور اسی طرح کی چند اور چیزیں تھیں۔ حضرت سعد ؓ نے ان سے کہا: آپ ہمیں کوئی وصیت فرما دیں جس پر ہم آپ کے بعد بھی عمل کریں۔ انھوں نے حضرت سعد سے فرمایا: جب آپ کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرنے لگیں اور کوئی فیصلہ کرنے لگیں اور جب آپ اپنے ہاتھ سے کوئی چیز تقسیم کرنے لگیں تو اس وقت اپنے ربّ کو یاد کرلیا کریں۔ یعنی کوئی بھی کام کرنے لگیں تو اللہ کا ذکر ضرور کریں۔2
اور حاکم کی روایت میں یہ ہے کہ اس وقت ان کے اِردگرد (صرف تین بر تن) کپڑے دھونے کا برتن، ایک لگن اور ایک لوٹا تھا۔
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضرت سلمان ؓ بیمار ہوئے تو حضرت سعد ؓ ان کی عیادت کے لیے گئے تو انھوں نے دیکھا کہ حضرت سلمان رو رہے ہیں۔ حضرت سعد نے ان سے پوچھا: اے میرے بھائی! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا آپ حضورﷺ کی صحبت میں نہیں رہے؟ کیا فلاں فضیلت اور فلاں فضیلت آپ کو حاصل نہیں؟ حضرت سلمان نے کہا: میں ان دو باتوں میں سے کسی بات پر نہیں رو رہا۔ نہ تو دنیا کے لالچ کی وجہ سے اور نہ آخرت کو برا اور ناگوار سمجھنے کی وجہ سے، بلکہ اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ حضورﷺ نے ہمیں ایک وصیت فرمائی تھی، میرا خیال یہ ہے کہ میں اس وصیت کی پابندی نہیںکرسکا۔ حضرت سعد نے پوچھا: حضور ﷺ نے آپ کو کیا وصیت فرمائی تھی؟ انھوں نے کہا: حضورﷺ نے ہمیں یہ وصیت فرمائی تھی کہ تم میں سے ہر ایک کو اتنی دنیا کافی ہے جتنا سوار کا توشہ ہوتا ہے۔ اور میرا خیال یہ ہے کہ میں حضورﷺ کی مقرر کردہ اس حد سے آگے بڑھ چکا ہوں (اور سوار کے توشہ سے زیادہ سامان میرے پاس ہے)۔ اور اے سعد! جب تم فیصلہ کرنے لگو اور جب تم تقسیم کرنے لگو اور جب تم تقسیم کرنے لگو اور جب تم کسی کام کا پختہ ارادہ کرنے لگو تو ان تینوں اوقات میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ حضرت ثابت کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت سلمان ؓ نے ترکہ میں بیس سے کچھ اوپر درہم اور تھوڑا سا خرچہ چھوڑا تھا۔1
حضرت عامر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: جب حضرت سلمان الخیر ؓ (مدینہ میں شروع زمانے میں اسلام لانے کی وجہ سے یہ الخیر کہلاتے تھے) کی موت کا وقت قریب آیا تو لوگوں نے ان پر کچھ گھبراہٹ محسوس کی۔ تو انھوں نے کہا: اے ابو عبد اللہ! (یہ حضرت سلمان ؓ کی کنیت ہے) آپ کیوں گھبرا رہے ہیں؟ آپ کو اسلام لانے میں دوسروں پر سبقت حاصل ہے، اور آپ حضورﷺ کے ساتھ اچھی اچھی لڑائیوں میں اور بڑی بڑی جنگوں میں شریک ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا: میں اس وجہ سے گھبرا رہا ہوں کہ ہمارے حبیب حضورﷺ نے دنیا سے جاتے وقت ہمیں یہ وصیت کی تھی کہ تم میں سے ہر آدمی کو سوار کے توشہ جتنا سامان کافی ہونا چاہیے۔ (میں اس وصیت کی پابندی نہیں کر سکا) اس وجہ سے گھبرا رہا ہوں۔ حضرت سلمان کے انتقال کے بعد جب ان کا مال جمع کیا گیا تو اس کی قیمت پندر ہ درہم تھی۔ ’’ابنِ عساکر‘‘ میںیہ ہے کہ پندرہ دینار تھی۔ ابونُعیم نے حضرت علی بن بَذِیْمَہ سے یوں روایت کی ہے کہ حضرت سلمان ؓ کے ترکہ کا سامان بیچا گیا تو وہ چودہ در ہم میںبکا۔1