صحابہ کرام ؓ کا دنیا کی وسعت اور کثرت سے ڈرنا
دنیا کی وسعت سے حضرت عمر بن خطّاب ؓ کا ڈر نا اور رونا
حضرت مِسْور بن مَخرمہؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے پاس قادسیہ کا کچھ مالِ غنیمت آیا۔ آپ اس کا جا ئزہ لے رہے تھے اور اسے دیکھ رہے تھے اور رو رہے تھے۔ ان کے ساتھ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ بھی تھے۔ انھوں نے کہا: اے امیر المؤ منین! یہ تو خوشی اور مسرت کا دن ہے۔ حضرت عمر نے کہا: ہا ں! لیکن جن لوگوں کے پاس یہ مال آتا ہے ان میں اس کی وجہ سے آپس میں بغض وعداوت بھی ضرور پیدا ہوجا تی ہے۔3
حضرت ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف ؓ کہتے ہیں: جب حضرت عمر ؓ کے پاس کسریٰ کے خزانے آئے تو ان سے حضرت عبد اللہ بن اَرقم زُہری نے کہا: آپ اسے بیت المال میں کیوں نہیں رکھ دیتے؟ حضرت عمر نے فرمایا: نہیں، ہم اسے بیت المال میں نہیں رکھیں گے بلکہ تقسیم کریں گے۔ یہ کہہ کر حضرت عمر رو پڑے تو ان سے حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ اللہ کی قسم! یہ تو اللہ کا شکر ادا کرنے اور خوشی ومسرت کا دن ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس قوم کو بھی یہ مال دیا ہے اس مال نے ان کے در میان بغض وعداوت ضرور پیدا کی ہے۔1
حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: کسریٰ کا تاج حضرت عمر بن خطّاب ؓ کی خدمت میں لایا گیا اور ان کے سامنے رکھا گیا۔ (تاج کے ساتھ کسریٰ کی زیب وزینت کا سامان بھی تھا) اس وقت وہاں لوگوں میں حضرت سُراقہ بن مالک بن جُعْشُم ؓ بھی تھے۔ حضر ت عمر نے کسریٰ بن ہُرمُز کے دونوں کنگن ان کے سامنے رکھ دیے۔ حضرت سُراقہ نے دونوں کنگن اپنے ہاتھوں میں ڈالے تو ان کے کندھوں تک پہنچ گئے۔ جب حضرت عمر نے دونوں کنگن ان کے ہاتھوں میں دیکھے تو فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ! اللہ کی قدرت دیکھو کہ کسریٰ بن ہُرمُز کے دو کنگن اس وقت بنو مدلج کے ایک دیہاتی سُراقہ بن مالک بن جُعْشُم کے دوہاتھوں میں ہیں۔ پھر فرمایا: اے اللہ! مجھے معلوم ہے کہ تیرے رسول حضرت محمدﷺ یہ چاہتے تھے کہ انھیںکہیںسے مال ملے اور وہ اسے تیرے راستے میں اور تیرے بندوں پر خرچ کریں، لیکن تُونے ان پر شفقت فرماتے ہوئے اور ان کے لیے زیادہ خیر والی صورت اختیار کرتے ہوئے ان سے مال کو دور رکھا۔ اور اے اللہ! مجھے معلوم ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ یہ چاہتے تھے کہ انھیں کہیں سے مال ملے اور وہ اسے تیرے راستے میں اور تیرے بندوں پر خرچ کر دیں، لیکن تُونے ان پر شفقت کرتے ہوئے اور ان کے لیے زیادہ بہتر صورت اختیار کرتے ہوئے ان سے مال کو دور رکھا۔ (اور اب میرے زمانے میں یہ مال بہت زیادہ آرہا ہے) اے اللہ! میں اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ یہ مال کا زیادہ آنا کہیں تیری طرف سے عمر کے خلاف داؤ نہ ہو۔ (یعنی کہیں اس سے عمرکے دین اور آخرت کا نقصان نہ ہو) پھر حضرت عمر نے یہ آیت پڑھی:
{اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّھُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِیْنَ o نُسَارِعُ لَھُمْ فِی الْخَیْرٰتِط بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ o}2
کیا یہ لوگ یوں گمان کر رہے ہیں کہ ہم ان کو جو کچھ مال واولاد دیتے چلے جاتے ہیں تو ہم ان کو جلدی جلدی فائدہ پہنچا رہے ہیں؟ (یہ بات ہرگز نہیں) بلکہ یہ لوگ (اس کی وجہ) نہیں جانتے۔1
حضر ت ابو سنان دُؤلی ؓ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطّاب ؓ کی خدمت میں گیا۔ ان کے پاس مہاجرین اوّلین کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی۔ آپ نے خوش بو وغیرہ رکھنے کا تھیلا یعنی جامہ دان لانے کے لیے ایک آدمی بھیجا۔ وہ تھیلا ٹوکری یا بوری جیسا تھا۔ یہ تھیلا عراق کے ایک قلعہ سے حضرت عمر کے پاس لایا گیا تھا۔ اس میں ایک انگوٹھی بھی تھی جسے حضرت عمر کے ایک بچے نے لے کر منہ میں ڈال لیا۔ حضرت عمر نے اس سے وہ انگوٹھی لے لی اور پھر رو پڑے۔ پاس بیٹھے ہوئے لوگوں نے ان سے کہا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی فتوحات عطا فرما رکھی ہیں اور آپ کو آپ کے دشمن پر غالب کر دیا ہے اور آپ کی آنکھیں (خوشیاں عطا فرما کر) ٹھنڈی کر دی ہیں؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جن لوگوں پر دنیا کی فتوحات ہونے لگتی ہیں اور انھیں دنیا بہت مل جاتی ہے تو ان کے در میا ن ایسی بغض وعداوت پیدا ہوجاتی ہے جو قیامت تک چلتی رہتی ہے مجھے اس کا ڈر لگ رہا ہے(اس لیے رو رہا ہوں)۔2
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ کامعمول یہ تھا کہ وہ جب نماز سے فارغ ہو جاتے تو لوگوں کی خاطر بیٹھ جاتے۔ جس کو کوئی ضروت ہوتی تو وہ ان سے بات کرلیتا، اور اگر کسی کو کوئی ضروت نہ ہوتی تو کھڑے ہوجاتے۔ ایک مر تبہ انھوں نے لوگوں کو بہت سی نمازیں پڑھا ئیں، لیکن کسی نماز کے بعد بیٹھے نہیں۔ میں نے (ان کے دربان سے) کہا: اے یرفا! کیا امیرالمؤمنین کو کوئی تکلیف یا بیماری ہے؟ اس نے کہا: نہیں،ا میر المؤمنین کو کوئی تکلیف یا بیماری نہیں ہے۔ میں وہیںبیٹھ گیا۔ اتنے میں حضرت عثمان بن عفا ن ؓ بھی تشریف لے آئے، وہ بھی آکر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر میں یرفا باہر آیا اور اس نے کہا: اے ابنِ عفان! اے ابنِ عباس! آپ دونوں اندر تشریف لے چلیں۔ چناںچہ ہم دونوں حضرت عمر کے پاس اندر گئے۔ وہاں ہم نے دیکھا کہ حضرت عمر کے سامنے مال کے بہت سے ڈھیر رکھے ہوئے ہیں اور ہر ڈھیر پر کندھے کی ہڈی رکھی ہوئی تھی (جس پر کچھ لکھا ہو ا تھا۔ اس زمانے میں کاغذ کی کمی کی وجہ سے ہڈیوں پر بھی لکھا جاتا تھا) حضرت عمر نے فرمایا: میں نے تمام اہلِ مدینہ پر نگاہ ڈالی تو تم دونوں ہی مجھے مدینہ میں سب سے بڑے خاندان والے نظر آئے ہو۔ یہ مال لے جاؤ اور آپس میں تقسیم کرلو، اور جو بچ جائے وہ واپس کر دینا۔
حضرت عثمان نے تو لپ بھر کر لینا شروع کر دیا، لیکن میں نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عرض کیا کہ اگر کم پڑگیا تو آپ ہمیں اور دیں گے؟ حضرت عمر نے فرمایا: ہے نا پہاڑ کا ایک ٹکڑا۔ یعنی ہے نا اپنے باپ عبا س کا بیٹا (کہ ان کی ہی طرح جری، سمجھ دار اور ہوشیار) ہے۔ کیا یہ مال اس وقت اللہ کے پاس نہیں تھا جب حضرت محمد ﷺ اور ان کے صحابہ ؓ (فقر وفاقہ کی وجہ سے) کھال کھایا کرتے تھے؟ میں نے کہا تھا: اللہ کی قسم! جب حضرت محمد ﷺ زندہ تھے تو یہ سب کچھ اللہ کے پاس تھا، لیکن اگر اللہ ان کو یہ سب کچھ دیتے تو وہ کسی اور طرح تقسیم کرتے، جس طرح آپ کرتے ہیں اس طرح نہ کرتے۔ اس پر حضرت عمر کو غصہ آگیا اور فرمایا: اچھا! کس طرح تقسیم کرتے؟ میں نے کہا: خود بھی کھاتے اور ہمیں بھی کھلاتے۔ یہ سنتے ہی حضرت عمر اونچی آواز سے رونے لگ پڑے جس سے ان کی پسلیاں زور زور سے ہلنے لگیں۔ پھر فرمایا: میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اس خلافت سے برابر سرابر چھوٹ جاؤں، نہ اس پر مجھے کچھ انعام ملے اور نہ میری پکڑ ہو۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے مجھے بلایا، میں ان کی خدمت میںگیا۔ میں نے دیکھا کہ ان کے سامنے چمڑے کے دستر خوان پر سونا بکھر ا پڑا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: آؤ اور یہ سونا اپنی قوم میں تقسیم کر دو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سونا اور مال اپنے نبی کریم ﷺ اور حضرت ابو بکر ؓ سے دور رکھا اور مجھے دے رہے ہیں۔ اب اللہ ہی زیادہ جانتے ہیںکہ مجھے یہ مال خیر کی وجہ سے دیا جا رہا ہے یا شر کی وجہ سے۔ پھر فرمایا: نہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور حضرت ابو بکر سے یہ مال اس وجہ سے دور نہیں رکھا کہ ان دونوں کے ساتھ شر کا ارادہ تھا اور مجھے اس وجہ سے نہیں دے رہے ہیں کہ میرے ساتھ خیر کا ارادہ ہے (بلکہ معاملہ بر عکس معلوم ہوتا ہے)۔1
حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے بلانے کے لیے میرے پاس ایک آدمی بھیجا، میں ان کی خدمت میں حاضر ہو ا۔ جب میں دروازے کے قریب پہنچا تو میں نے اندر سے ان کے زور سے رونے کی آواز سنی۔ میں نے گھبرا کر کہا: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔اللہ کی قسم! امیر المومنین کو کوئی زبردست حادثہ پیش آیا ہے (جس کی وجہ سے اتنے زور سے رو رہے ہیں)۔ میں نے اندر جا کر ان کا کندھا پکڑ کر کہا: اے امیر المؤمنین! پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔ پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔ انھوں نے کہا: نہیں۔ پریشان ہونے کی بہت بڑی بات ہے۔ اور میر اہاتھ پکڑ کر دروازے کے اندر لے گئے۔ میں نے وہاں جا کر دیکھا کہ اوپر نیچے بہت سے تھیلے رکھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے فرمایا: اب خطّاب کی اولاد کی اللہ کے ہاں کوئی قیمت نہیں رہی۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو میرے دونوں ساتھیوں یعنی نبی کریم ﷺ اور حضرت ابو بکر ؓکو بھی یہ مال دیتے، اور وہ دونوں اسے خرچ کرنے میں جو طریقہ اختیار کرتے میں بھی اسے اختیار کرتا۔ میں نے کہا: آئیں! بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ اسے کیسے خرچ کرنا ہے۔ چناںچہ ہم لوگوں نے اُمہات المؤمنین (حضورﷺ کی ازواجِ مطہّرات) کے لیے چار چار ہزار اور مہاجرین کے لیے چار چار ہزار اور باقی لوگوں کے لیے دو دو ہزار درہم تجویز کیے، اور یوں وہ سارا مال تقسیم کر دیا۔2