نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا

حضور ﷺ کا اپنے قریبی رشتے داروں پر دعوت کو پیش کرنا

حضرت عائشہؓفرماتی ہیں :جب یہ آیت {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَO} (اور ڈر سنادے اپنے قریب کے رشتہ داروں کو) نازل ہوئی تو حضورﷺ نے کھڑے ہوکر فرمایا: اے فاطمہ بنتِ محمد!اے صفیہ بنتِ عبدالمطّلب! اے اولادِ عبدالمطّلب! (اپنی بیٹی اور پھوپھی کو اور دادا عبدالمطّلب کی اولاد کو مخاطب کرکے فرمایا) اللہ سے لے کر تمہیں کچھ دینے میں میرا کوئی زور نہیں چلتا ہے، ہاں میرے مال میں سے جو چاہو مانگ سکتے ہو۔1 حضرت علیؓفرماتے ہیں کہ جب یہ آیت {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ O} نازل ہوئی تو حضورنے اپنے خاندان والوں کوجمع فرمایا۔ تیس آدمی جمع ہوگئے، سب نے کھایا پیا۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اُن سے یہ فرمایا: تم میں کون ایسا ہے جو میرے قرضہ کی ادائیگی اورمیرے وعدوں کے پورا کرنے کی ذمہ داری لیتا ہے؟ جو یہ ذمہ داری لے گا وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا اور وہ میرے اہل میں میرا قائم مقام ہوگا۔ ایک آدمی نے کہا: آپ تو سمندر ہیں آپ کی ان ذمہ داریوں کو کون نبھاسکتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے اس بات کو تین مرتبہ پیش فرمایا۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ آپ نے یہ بات اپنے گھر والوں پر بھی پیش کی، اس پر حضرت علی نے کہا: میں تیار ہوں ۔2 حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے بنو عبدالمطّلب کو جمع کیا یا آپ نے اُن کو بلایا۔ اور یہ ایسے لوگ تھے کہ ان میں سے ہر ایک سالم بکرا کھا جاتا تھااور تین صاع یعنی ساڑھے دس سیر تک پی جاتا تھا، لیکن آپ نے اُن کے لیے مد (چودہ چھٹانک ) کھانا تیار کیا۔ انھوں نے خوب سیر ہوکر کھانا کھایا، کھانا اتنا ہی رہا جتنا پہلے تھا اس میں کوئی کمی نہیں آئی، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے اسے ہاتھ ہی نہ لگا ہو۔ پھر آپ نے ایک چھوٹا پیالہ منگوایا جسے انھوں نے پیا تو وہ سیراب ہوگئے اور وہ مشروب ویسے ہی باقی رہا جیسے کسی نے اسے ہاتھ ہی نہ لگایا ہو یا اسے کسی نے پیا ہی نہ ہو۔ اور آپ نے فرمایا: (اے بنو عبدالمطّلب!) مجھے تمہاری طرف خاص طور سے اور تمام انسانوں کی طرف عام طور سے بھیجا گیا ہے اور تم میرا یہ معجزہ دیکھ چکے ہو (کہ تم سب نے سیر ہوکر کھایا اورپیا اور کھانے اور پینے میں کوئی کمی نہیں آئی)۔ تم میں سے کون میرا بھائی اور میرا ساتھی بننے پر مجھ سے بیعت کرتا ہے؟ حضرت علی فرماتے ہیں کہ کوئی بھی کھڑا نہ ہوا تو میں کھڑا ہوگیا حالاں کہ میں اُن سب میں چھوٹا تھا۔ آپ نے (مجھ سے) فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ آپ نے ان سے تین مرتبہ یہ مطالبہ کیا، ہر دفعہ میں ہی کھڑا ہوتا رہا اور آپ مجھے فرمادیتے کہ بیٹھ جاؤ۔ تیسری مرتبہ آپ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا(یعنی مجھے بیعت کیا)۔ 1 حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَO} نازل ہوئی تو حضورﷺ نے فرمایا: اے علی! بکری کی ایک دستی کا سالن بنالو اور ایک صاع (یعنی ساڑھے تین سیر) آٹے کی روٹیاں تیار کرلو اور بنی ہاشم کو میرے پاس بلا لاؤ، اس وقت بنی ہاشم کی تعداد چالیس یا اُنتالیس تھی۔ حضرت علی فرماتے ہیں :(بنی ہاشم کے جمع ہونے کے بعد) حضورﷺ نے کھانا منگواکر ان کے سامنے رکھ دیا، ان سب نے خوب سیر ہوکر کھایا، حالاں کہ ان میں بعض ایسے بھی تھے جو اکیلا ہی سالم بکرا بمعہ شوربے کے کھاجائے۔ پھر آپ نے ان کو دودھ کا ایک پیالہ دیا، سب نے اس کو پیا اور سب سیراب ہوگئے تو ان میں سے ایک نے کہا :ہم نے آج جیسا جادو کبھی نہیں دیکھا۔ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کہنے والا ابولہب تھا۔ (دوسرے دن) حضورﷺ نے فرمایا :اے علی! بکری کی ایک دستی کا سالن بنالو اور ایک صاع یعنی ساڑھے تین سیر آٹے کی روٹیاں تیار کرلو اور دودھ کا ایک بڑا پیالہ تیار کرلو۔ حضرت علی فرماتے ہیں: میں نے یہ سارا نتظام کرلیا۔ انھوں نے پہلے دن کی طرح سے خوب کھایا اور خوب پیا اور پہلے دن کی طرح کھانا اور دودھ بچ گیا (ان میں برکت ہوگئی)۔ اس دن بھی ایک آدمی نے کہا: ہم نے آج جیسا جادو کبھی نہیں دیکھا۔(تیسرے دن) حضورﷺ نے پھر فرمایا: اے علی! بکری کی ایک دستی کا سالن بنالو اور ایک صاع آٹے کی روٹیاں تیار کرلو اور دودھ کا ایک بڑا پیالہ تیار کرلو۔ چناں چہ میں نے سب کچھ تیار کرلیا ۔ آپ نے فرمایا: اے علی! بنی ہاشم کو میرے پاس بلا لاؤ۔ میں ان سب کو بلا لایا۔ ان سب نے کھایا اور پیا۔ حضورﷺ نے اُن کے کچھ کہنے سے پہلے ہی گفتگو شروع فرمادی اور فرمایا: تم میں سے کون ایسا ہے جو میرے قرضہ کی ادائیگی کی ذمہ داری لیتا ہے؟ حضرت علی فرماتے ہیں: میں بھی چپ رہا اور باقی لوگ بھی چپ رہے۔آپ نے دوبارہ یہی بات ارشاد فرمائی تو میں نے کہا :یارسول اللہ !میں تیار ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم اے علی! تم اے علی! یعنی اس کام کے لیے تم ہی مناسب ہو۔ 2 ابنِ ابی حاتم نے بھی اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ہے اور اس میں یہ مضمون ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کون میرے قرضے کی ادائیگی کی ذمہ داری لیتا ہے اور میرے بعد میرے اہل میں میرا قائم مقام بننے کے لیے تیار ہے؟ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ سب لوگ خاموش رہے اور حضرت عباسؓ اس ڈر کی وجہ سے خاموش رہے کہ حضورﷺکے قرضہ کو ادا کرنے کے لیے کہیں ان کو سارا مال نہ خرچ کرنا پڑجائے۔ حضرت علی فرماتے ہیں: میں اس وجہ سے خاموش رہا کہ حضر ت عباس مجھ سے عمر میں بڑے ہیں اور پھرخاموش ہیں۔ پھر آپ نے یہی بات دوبارہ فرمائی۔ حضرت عباس پھر خاموش رہے۔ جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے کہا :یا رسول اللہ ! میں تیار ہوں۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں: (میں اس ذمہ داری کے لیے تیار تو ہوگیا) لیکن میری شکل و صورت سب سے خستہ تھی اور میری آنکھیں چندھیائی ہوئی تھیں، پیٹ بڑا تھا، ٹانگیں پتلی تھیں ۔ 1 یہی حدیث مجمع پر دعوت پیش کرنے کے باب میں حضرت ابنِ عباس ؓ کی روایت سے ایک اور طرح صفحہ ۱۱۸ پر گزری ہے۔