صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

حضرت عمر ؓ کا لوگوں کو وظیفے دینے کے لیے رجسٹر بنانا

حضرت ابو ہریرہ ؓ فر ماتے ہیں: میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے ہاں سے آٹھ لاکھ درہم لے کر حضرت عمر بن خطّاب ؓ کی خدمت میں حاضر ہو ا۔ تو حضرت عمر نے مجھ سے پوچھا: کیا لے کر آئے ہو؟ میں نے کہا: آٹھ لاکھ درہم۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا: تیرا بھلا ہو! کیا یہ پاکیزہ مال ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ حضرت عمر نے یہ ساری رات جاگ کر گزاری۔ جب فجر کی اذان ہوگئی تو ان سے ان کی بیوی نے کہا: آپ آج رات کیوں نہیں سوئے؟ حضرت عمر نے کہا: عمر بن خطّاب کیسے سوسکتا ہے جب کہ اس کے پاس لوگوں کے لیے اتنا زیادہ مال آیا ہے کہ ابتدا ئے اسلام سے لے کر آج تک کبھی اتنا نہیں آیا۔ اگر عمر کو اس حال میں موت آجائے کہ یہ مال اس کے پاس رکھا ہوا ہو اور اس نے اسے صحیح مصرف میں خرچ نہ کیا ہو تو وہ کیسے اللہ کی گرفت سے بچ سکتا ہے۔ جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ کے پاس حضور ﷺ کے چند صحابہ ؓ جمع ہوئے۔ آپ نے ان سے فرمایا: آج رات لوگوں کے لیے اتنا زیادہ مال آیا ہے کہ ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک کبھی اتنا نہیں آیا۔ اس مال کے تقسیم کرنے کے بارے میں ایک بات میرے ذہن میں آئی ہے۔ آپ لوگ بھی مجھے اس بارے میں مشورہ دیں۔ میرا یہ خیال ہے کہ میںلوگوں میں ناپ کر تقسیم کروں۔ ان حضرات نے کہا: اے امیر المؤ منین! ایسا نہ کریں کیوںکہ لوگ اسلام میں داخل ہوتے رہیں گے اور آنے والا مال بہ تدریج زیادہ ہوتا جائے گا (اس لیے یہ یاد رکھنا مشکل ہوگا کہ کس کو دیا ہے اور کس کو نہیں دیا ہے) بلکہ آپ ایک رجسٹر میں لوگوں کے نام لکھ لیں اور اس کے مطابق لوگوں کو مال دیتے رہیں۔ پھرجب بھی لوگو ں کی تعداد بڑھی اورمال کی مقدار بھی زیادہ ہوئی تو آپ اس رجسٹر کے مطابق لوگوں کو دیتے رہنا۔ حضرت عمر نے فرمایا: (اچھا، چلو رجسٹر بنالیتے ہیں، لیکن) اس کا مشورہ دو کہ کس سے دینا شروع کروں؟ ان حضرات نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ اپنے آپ سے شروع کریں، کیوںکہ آپ ہی خلیفہ اور متولّی ہیں۔ اور ان میں سے بعض حضرات نے کہا: امیر المؤمنین ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ حضرت عمر نے کہا: نہیں، ایسے نہیں، بلکہ میں تو حضور ﷺ سے شروع کروں گا۔ پھر جو حضور ﷺ کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہیں ان کو دوں گا، پھر ان کے بعد جو رشتہ دار ہیںان کو دوں گا۔ چناںچہ انھوںنے اسی ترتیب پر رجسٹر بنوایا۔ پہلے بنو ہاشم اور بنو مُطَّلِب کے نام لکھوائے اور ا ن سب کو دیا۔ پھر بنو عبدِ شمس کو دیا، پھر بنو نو فل بن عبدِ مناف کو دیا۔ بنو عبدِ شمس کو پہلے اس لیے دیا کیوںکہ عبدِ شمس ہاشم کے ماں جائے بھائی تھے (اور نوفل نہیں تھا، اس لیے عبدِ شمس زیادہ قریبی ہوا)۔ 1 حضرت جُبَیر بن حُویرث ؓ فر ماتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے مسلمانوں سے رجسٹر بنانے کے بارے میں مشورہ کیا تو ان سے حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے کہا: (آپ رجسٹر نہ بنائیں بلکہ) ہر سال جتنا مال اکٹھا ہوجایا کر ے وہ سارا مسلمانوں میں تقسیم کر دیا کریں اور اس میں سے کچھ نہ بچایا کریں۔ حضرت عثمان بن عفان ؓ نے کہا: میرا خیال یہ ہے کہ بہت زیادہ مال آرہا ہے جو تمام لوگوں کو دیا جاسکتا ہے۔ اگر لینے والوں کی تعداد کو شمار نہیں کیا جائے گا تو آپ کو پتہ نہیں چلے گا کہ کس نے لیا اور کس نے نہیں لیا، اور مجھے ڈر ہے کہ اس طرح تقسیم کا معاملہ بے قابو ہوجائے گا۔ حضرت ولید بن ہشام بن مُغیرہ ؓ نے کہا: میں شام گیا ہوں میں نے وہاں کے بادشاہوں کو دیکھا ہے انھوں نے رجسٹر بھی بنائے ہوئے ہیں اور اپنی فوج بھی باقاعدہ مرتب ومنظم بنا رکھی ہے۔ آپ بھی رجسٹر بنالیں اور باقاعدہ فوج تیار کرلیں۔ حضرت عمر نے حضرت ولید کی اس رائے کو قبو ل فر مالیا اور حضرت عقیل بن ابی طالب، حضرت مخرمہ بن نوفل اور حضرت جُبَیر بن مُطْعِم ؓ کو حضرت عمر نے بلا کران سے فرمایا: رجسٹر میں لوگوں کے نام ان کے درجوں کے مطابق لکھ دو۔ یہ تینوں حضرات قریش کے نسب کو اچھی طرح جانتے تھے۔ چناںچہ انھوں نے رجسٹر میں نام لکھنے شروع کیے۔ پہلے بنو ہاشم کا نام لکھا، پھر حضرت ابو بکر ؓ اور ان کی قوم کا نام لکھا، اس کے بعد حضرت عمر اور ان کی قوم کا نام لکھا۔ انھوں نے خلافت کی ترتیب کا لحاظ کرتے ہوئے ایسا کیا۔ جب حضرت عمر نے رجسٹر دیکھا تو فرمایا: اللہ کی قسم! دل تو میرا بھی یہی چاہتا ہے کہ ترتیب یہی ہوتی، لیکن تم لوگ حضور ﷺ کے رشتہ دار وں سے شروع کرو اور جو رشتہ میں حضور ﷺ سے جتنا زیادہ قریب ہو اس کا نام اتنا پہلے لکھو۔ بس اس رشتہ داری کے لحاظ سے تم لوگ نام لکھتے جاؤ، اس میں جہاں عمر کا نام آجائے وہاں اس کا بھی نام لکھ دو۔1 حضرت اسلم ؓ کہتے ہیں: (جب تینو ں حضرات نے بنو ہاشم کے بعد حضرت ابو بکر ؓ اور ان کی قوم اور پھر حضرت عمر اور ان کی قوم کے نام رجسٹر میں لکھے اور اس پر حضرت عمر نے انکار فرمایا تو حضرت عمر کی قوم) بنو عدی حضرت عمرکے پاس آئے اور کہنے لگے: آپ حضور ﷺ کے خلیفہ ہیں۔ حضرت عمرنے فرمایا: نہیں، بلکہ یوں کہو کہ آپ ابو بکر کے خلیفہ ہیں اور ابو بکر حضور ﷺ کے خلیفہ ہیں۔ بنو عدی نے کہا: اچھایو ںہی سہی، لیکن آپ اپنا نام وہاں ہی رہنے دیں جہاں ان تینو ں حضرات نے لکھا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: واہ واہ اے بنو عدی! تم یہ چاہتے ہو کہ میری پیٹھ پر سوار ہو کر (دوسروں سے پہلے) کھالو اور یوں میں اپنی نیکیاں تم لوگوں کی وجہ سے بر باد کر دوں۔ نہیں، اللہ کی قسم! ایسے نہیں ہوگا (بلکہ حضور ﷺ کی رشتہ دار ی کو بنیاد بنا کر مال تقسیم کیا جائے گا) چاہے تمہارے نام لکھنے کی باری رجسٹر میں سب سے اخیر میں آئے۔ میرے دو ساتھی (یعنی حضور ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق ؓ) ایک راستہ پر چلے ہیں۔ اگر میں ان کا راستہ چھوڑ دوں گا تو میں ان دونوں کی منزل پر نہیں پہنچ سکوں گا (آخرت میں وہ دونوں کہیں اور ہوں گے اور میں کہیں اور)۔ اللہ کی قسم! ہمیں دنیا میں جو عزّت ملی ہے اور آخرت میں ہمیںاپنے اعمال پر اللہ سے ثواب ملنے کی جو اُمید ہے یہ سب کچھ حضرت محمد ﷺ کی برکت سے ہے، وہی ہمارے لیے باعثِ شرف ہیں۔ آپ کی قوم تمام عرب میں سب سے زیادہ عزّت والی ہے۔ پھر آپ کے بعد جو رشتہ میں آپ سے جتنا زیادہ قریب ہے وہ اتنی ہی زیادہ عزّت والا ہے۔اور حضور ﷺ ہی کی برکت سے آج تمام عربوں کو عزّت ملی ہے۔ اب اگر ہم میں سے کسی کا رشتہ بہت سی پشتوں کے بعد آپ سے ملے اور اس ملنے میں حضرت آدم ؑ تک چند پشتیں باقی رہ جائیں تو بھی اسی کی رعایت کی جائے گی۔ لیکن اس خاندانی شرافت اور حضور ﷺ کے رشتہ کی وجہ سے اس دنیاوی اِعزاز کے باوجود اللہ کی قسم! اگر عجمی لوگ قیامت کے دن نیک اعمال لے کر آئیں اور ہم نیک اعمال کے بغیر پہنچیں تو وہ عجمی لوگ ہم سے زیادہ حضور ﷺ کے قریب ہوں گے۔ لہٰذا کوئی بھی آدمی صرف رشتہ داری پر نگاہ نہ رکھے، بلکہ اللہ کے ہاں جو اُجور ودرجات ہیں انھیں حاصل کر نے کے لیے نیک عمل کرے، کیوںکہ جو اپنے اعمال میں پیچھے رہ گیا وہ اپنے نسب کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔1