صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا مال تقسیم کرنا اور سب کو برابر برابر دینا

حضرت سہل بن ابی حثمہؓ اور دیگر حضرات فرماتے ہیں: حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا بیت المال (مدینہ کے محلہ)سُنح میں تھا جو کہ لوگوں میں مشہور ومعروف تھا اور کوئی آدمی اس کا پہرہ نہیں دیا کرتا تھا۔ تو ان سے عرض کیا گیا: اے خلیفۂ رسول اللہ! کیا آپ بیت الما ل کے پہرہ کے لیے کسی کو مقرر نہیں فرماتے؟ انھوں نے فر ما یا: بیت الما ل کے بارے میں کسی قسم کا خطر ہ نہیں ہے (اس لیے پہر ہ دار مقرر کرنے کی ضرورت نہیں)۔ میں نے کہا: کیوں؟ انھوں نے فرمایا: اسے تالا لگا ہو اہے ۔ ان کا معمول یہ تھا کہ جو کچھ اس بیت الما ل میں آتا وہ سارا لوگوں کو دے دیتے یہاں تک کہ بیت المال میں کچھ نہ بچتا۔ پھر جب حضرت ابو بکر سُنح محلہ سے مدینہ منوّرہ منتقل ہوگئے تو انھوں نے وہاں اس گھر میں اپنا بیت المال بھی منتقل کر لیا جس میں وہ رہا کر تے تھے۔ ان کے پاس قَبَلِیّہ وادیوں کی کا نو ں سے او ر قبیلہ جُہَیْنہ کی کانو ں سے بہت ما ل آیا کر تا تھا۔ اور ان کے زمانۂ خلافت میں قبیلہ بنو سُلَیْم کی کان بھی کھل گئی تھی وہاں سے بھی زکوٰ ۃ کا مال آنے لگا تھا۔ یہ سب کچھ بیت المال میں رکھا جا تا تھا۔ اور حضرت ابو بکر سونے چاندی کے ٹکڑ ے کر وا کر لوگوں میںتقسیم کر دیا کرتے تھے، ہر سو آدمیوں کو ایک مقدار دیا کرتے تھے (جسے وہ آپس میں تقسیم کر لیتے) تمام لوگوں میں وہ مال برابر تقسیم فرماتے۔ آزاد، غلام، مرد،عورت،چھوٹے اوربڑے سب کو برابر حصہ ملا کرتا تھا۔ اور بعض دفعہ اس مال سے اُونٹ، گھوڑے اور ہتھیار خرید کر اللہ کے راستہ میں جانے والوں کو دے دیا کر تے۔ ایک سال گرم اُونی چادریں خریدی تھیں جو دیہات سے لائی گئی تھیںاور سردی کے موسم میں مدینہ کی بیوہ عورتوں میں انھوں نے یہ چادریں تقسیم کی تھیں۔ جب حضرت ابو بکر کا انتقال ہوا اور وہ دفن ہوگئے تو حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو بکر کے مقرر کردہ بیت المال کے نگرانوں کو بلایا اور ان کو لے کر حضرت ابوبکرکے بیت المال میں گئے۔ ان کے ساتھ حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت عثمان بن عفّان ؓ اور دیگر حضرات بھی تھے۔ ان حضرات نے جاکر بیت المال کو کھولا تو اس میںنہ کوئی دینا ر ملا اور نہ کوئی درہم۔ البتہ مال رکھنے کا ایک موٹاکھردرا کپڑا ملا،ا سے جھاڑا تو اس میں سے ایک درہم ملا ۔ یہ دیکھ کر ان حضرات نے حضرت ابوبکرکے لیے یہ دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نازل فرمائے! اور مدینہ منوّرہ میں درہم ودینا ر تولنے والا ایک آدمی تھا جو حضورﷺ کے زمانے میں تولنے کا کام کیا کر تا تھا اور حضرت ابو بکر کے پاس جو مال آتا تھا وہ اسے بھی تولتا تھا۔ اس سے پوچھا گیا کہ حضرت ابو بکر کے پاس جو مال آیا اس کی کل مقدارکتنی ہوگی؟ اس نے کہا: دولاکھ۔1 حضرت اسماعیل بن محمد ؓ کہتے ہیں: حضرت ابو بکر ؓ نے ایک مرتبہ کچھ مال لوگوں میں تقسیم کیا اور سب کو برابر حصہ دیا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اے خلیفۂ رسول اللہ! آپ اہلِ بدر اور دوسرے لوگوں کو برابر رکھ رہے ہیں۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: دنیا تو گزار ے کی چیز ہے اور بہترین گزار ے کی چیز وہ ہے جو درمیانی درجہ کی ہو (لہٰذا اس دنیا میں تو میںنے سب کو برابر رکھا ہے)۔ اور اہلِ بدر کو دوسرے لوگوں پر جو فضیلت حاصل ہے اس کا اثر اجر وثواب میں ظاہر ہوگا (کہ آخرت میں ان کا اجر وثواب برابر نہیں ہوگا، بلکہ اہلِ بدر کا اجر وثواب دوسروں سے زیادہ ہوگا)۔1 حضرت ابنِ ابی حبیب ؓ اور دیگر حضرات کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر ؓ کی خدمت میں عر ض کیا گیا کہ وہ (سب میں مال برابر تقسیم نہ کریں بلکہ) مال کی تقسیم میں لوگوں میں درجات مقرر کریں (اور جس کے دینی فضائل جتنے زیادہ ہوں اس کو اتنا زیادہ مال دیں)۔ ا س پر انھوں نے فرمایا: لوگوں کے دینی فضائل کا بدلہ تو اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) عطا فر ما ئیں گے۔ دنیاوی ضروریات میں سب کے درمیا ن برابر ی کرنا ہی بہتر ہے۔2 حضرت اسلم ؓ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر ؓکو خلیفہ بنایا گیا تو انھوں نے لوگوں میں مال برابر تقسیم کیا۔ تو ان سے بعض صحابہ نے عر ض کیا کہ اے خلیفۂ رسول اللہ! اگر آپ حضراتِ مہاجرین اور اَنصار کو دوسروں پر فضیلت دیں (اور ان کو دوسروں سے زیادہ دیں) تو یہ زیادہ اچھا ہوگا۔ انھوں نے فرمایا: تم لوگ چاہتے ہو کہ مال زیادہ دے کر ان کے دینی فضائل ان سے خرید لوں؟ (یہ ہر گز مناسب نہیں ہے) مال کی تقسیم میں ان سب کو برابر رکھنا ایک کو دوسرے پر تر جیح دینے سے بہتر ہے۔ حضرت غفرہ ؓ کے آزاد کردہ غلا م حضرت عمر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: جب حضرت ابو بکر ؓ پہلی مر تبہ مال تقسیم کر نے لگے تو اُن سے حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے کہا: حضرات مہاجرینِ اوّلین اور اسلام میں سبقت رکھنے والوں کو زیادہ دیں۔ توحضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: کیا میں ان سے ان کے اسلام میں پہل کرنے کی نیکی کو (دنیا کے بدلے میں) خرید لوں؟ (نہیں، ایسے نہیں ہوسکتا) چناںچہ انھوں نے مال تقسیم کیا اور سب کو برابر دیا۔3 حضرت غفرہ ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت عمر ؓ کہتے ہیں: جب حضورﷺ کا انتقال ہوگیا تو بحرین سے مال آیا توحضرت ابو بکر ؓ نے اعلان فرمایا کہ جس آدمی کا حضور ﷺ کے ذمّہ قرضہ ہو یا حضور ﷺ نے اسے کچھ دینے کا وعدہ فرما رکھا ہو وہ کھڑا ہو کر لے لے۔ چناںچہ حضرت جا بر ؓ نے کھڑ ے ہو کر کہا: حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا اگر میرے پاس بحرین سے مال آئے گا تو میں تمہیں تین مر تبہ اتنا دوں گا۔ اور دونوں ہاتھوں سے لپ بھر کر اشارہ فرمایا تھا۔ حضرت ابو بکرنے ان سے فرمایا: اٹھو اور خود اپنے ہاتھ سے لے لو۔ چناںچہ انھوں نے ایک مر تبہ لپ بھر کر لیا اسے گِنا گیا تو وہ پانچ سو درہم تھے۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: انھیں مزید ایک ہزار گن کر دے دو (تاکہ تین لپیں ہوجائیں)۔ اس کے بعد لوگوں میں دس دس در ہم تقسیم کیے اور فرمایا: یہ تو وہ وعدے پورے ہو رہے ہیں جو حضور ﷺ نے لوگوں سے کیے تھے۔ اگلے سال اس سے بھی زیادہ مال آیا تو لوگوں میں بیس بیس درہم تقسیم کیے اور پھر بھی کچھ مال بچ گیا تو غلاموں میں پانچ پانچ درہم تقسیم کیے اور فرمایا: یہ تمہارے غلام تمہاری خدمت کر تے ہیں اور تمہارے کام کر تے ہیں اس لیے ہم نے ان کو بھی کچھ دے دیاہے۔ اس پر لوگوں نے عر ض کیا: اگر آپ حضراتِ مہاجرین واَنصار کو دوسروں سے زیادہ دیں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا،کیوںکہ یہ پرانے ہیں اور حضور ﷺ کے ہاںان حضرات کا خاص مقام تھا۔ حضرت ابو بکر نے کہا: ان لوگوں نے جو کچھ کیا ہے ا س کا بدلہ تو اللہ تعالیٰ ہی ان کو دیں گے۔ یہ مال ومتاع تو بس گزار ے کی چیزہے، اسے برابر تقسیم کرنا کم زیادہ دینے سے بہتر ہے۔ آپ نے اپنے زمانۂ خلافت میں اسی اصول پر عمل فرمایا۔ آگے اسی طرح کی حدیث ذکر کی جیسے آگے آئے گی (صفحہ ۲۰۷ پر)۔ حضرت علی ؓ کا عدل وانصاف اور برابر تقسیم کرنا گزر چکا ہے۔ اس میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ حضرت علی نے ایک عربی عورت اور ایک آزاد کردہ باندی کو برابر دیا۔ اس پر اس عر بی عورت نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے اس کو جتنا دیا ہے مجھے بھی اتنا ہی دیا ہے، حالاںکہ میں عربی ہوں اور یہ آزاد کر دہ باندی ہے۔ حضرت علی نے فرمایا: میں نے اللہ کی کتاب میں بہت غور سے دیکھا تو اس میں مجھے اولادِ اسماعیل ؑ کو اولادِ اسحاق ؑ پر کوئی فضیلت نظر نہیں آئی۔1