صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کا مال خرچ کرنے کا شوق

حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا کہ آپ اسے کچھ عطا فرما دیں۔ آپ نے فرمایا: تمہیں دینے کے لیے اس وقت میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ تم ایسا کرو کہ میری طرف سے کوئی چیز اُدھار پر خرید لو، جب میرے پاس کچھ آئے گا تو میں وہ اُدھار ادا کر دوں گا۔ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کو دوسروں کو دینے کا بہت زیادہ شوق تھا) اس پر حضرت عمر نے (از راہِ شفقت) کہا: یا رسول اللہ! آپ اسے پہلے دے چکے ہیں (اب مزید دینے کے لیے کیوں اس کا اُدھار اپنے ذمہ لے رہے ہیں؟) جو آپ کے بس میں نہیں ہے اس کا اللہ نے آپ کو مکلف نہیں بنایا۔ آپ کو حضرت عمر کی یہ بات پسند نہ آئی۔ ایک اَنصاری نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ خرچ کریںاور عرش والے سے کمی کا ڈر نہ رکھیں۔ اس پر حضور ﷺ مسکرائے۔ اَنصاری کی اس بات پر خوشی اور مسکراہٹ کے آثار حضور ﷺ کے چہرے پر نظر آنے لگے اور حضور ﷺ نے فرمایا: اسی کا مجھے (اللہ کی طرف سے) حکم دیا گیا ہے۔1 حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: ایک آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے حضور ﷺ سے مانگا، حضور ﷺ نے اسے دے دیا۔ پھر ایک اور آدمی نے آکر حضور ﷺ سے مانگا، حضور ﷺ نے اس سے وعدہ فرمایا (کیوںکہ دینے کے لیے حضور ﷺ کے پاس کچھ تھا نہیں)۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے کھڑے ہو کر (از راہ ِشفقت) عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ سے فلاں نے مانگا آپ نے اسے دیا، پھر فلاں نے مانگا آپ نے اسے بھی دیا، (پھر دینے کو کچھ نہیں رہا ) پھر فلاں نے مانگا آپ نے اس سے دینے کا وعدہ فرما لیا، پھر فلاں نے مانگا آپ نے اس سے بھی وعدہ فرمالیا۔ (مطلب یہ تھا کہ آپ کے پاس ہوا کرے تو ضرور دیا کریں اور نہ ہوا کریں تو انکار فرما دیا کریں اور اس سے آیندہ دینے کا وعدہ نہ کیا کریں) ایسا معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کو حضرت عمر کی یہ بات اچھی نہیں لگی۔ پھر حضرت عبد اللہ بن حُذافہ سہمی ؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپ خرچ کریں اور عرش والے سے کمی کا ڈر نہ رکھیں۔ آپ نے فرمایا: مجھے اسی کا حکم دیا گیاہے۔1 حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ حضرت بلال ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو آپ نے دیکھا کہ ان کے پاس کھجور کے چند ڈھیر ہیں۔ آپ نے پوچھا: اے بلال! یہ کیا ہے؟ انھوں نے عرض کیا: آپ کے مہمانوں کے لیے یہ انتظام کیا ہے (کہ جب بھی وہ آئیں تو ان کے کھلانے کا سامان پہلے سے موجود ہو)۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ دوزخ کی آگ کا دھواں تم تک پہنچ جائے؟ (یعنی اگر تم ان کے خرچ کرنے سے پہلے ہی مرگئے تو پھر ان کے بارے میں اللہ کے ہاں سوال ہوگا) اے بلال! خرچ کرو اور عرش والے سے کمی کا ڈر نہ رکھو۔2 حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ کے پاس تین پرندے ہدیہ میں آئے۔ آپ نے ایک پرندہ اپنی خادمہ کو دیا۔ اگلے دن وہ پرندہ لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں آئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: کیا میں نے تجھے منع نہیں کیا تھا کہ اگلے دن کے لیے کچھ نہ رکھا کرو؟ جب اگلا دن آئے گا تو اس دن کی روزی بھی اللہ پہنچائے گا۔ (لہٰذا آج جو کچھ پاس ہے وہ سارا ہی آج خرچ کر دیا کرو۔3 آنے والے دنوں کے لیے ذخیرہ کر کے رکھنا جائز ہے، لیکن جو کچھ پاس ہے اسے فوراً خرچ کر دینا اور آیندہ کے لیے اللہ پر توکل کرنا درجۂ کمال ہے) حضرت علی ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ نے لوگوں سے کہا: ہمارے پاس اس مال میں سے کچھ بچ گیا ہے (میں اسے کہاں خرچ کروں؟) لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ ہمارے اجتماعی کاموں میں ہر وقت مشغول رہتے ہیں، جس کی وجہ سے آپ کو اپنے اہل وعیال کو دیکھنے کی، اور اپنے پیشہ اور کاروبار میں لگنے کی فرصت نہیں ملتی، اس لیے یہ مال آپ لے لیں۔ حضرت عمر نے مجھ سے کہا: آپ کیاکہتے ہو؟ میں نے کہا: لوگوں نے آپ کو مشورہ دے ہی دیا ہے۔ انھوں نے کہا: نہیں، آپ اپنے دل کی بات کہیں۔ اس پر میں نے کہا: آپ اپنے یقین کو گمان میں کیوں بدلتے ہیں؟ ( آپ کویقین ہے کہ یہ مال آپ کا نہیں ہے، تو پھر آپ کیوں لوگوں سے مشورہ لے کر اور مسلمانوں کا یہ مال خود لے کر اپنے یقین کو گمان میں بدل رہے ہیں؟) حضرت عمر نے کہا: آپ جو کہہ رہے ہیں آپ کو اس کی دلیل دینی ہوگی۔ میں نے کہا: ہاں! میں اس کی دلیل ضرور دوں گا۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ حضورِ اقدس ﷺ نے آپ کو لوگوں سے زکوٰۃ لینے کے لیے بھیجا تھا۔ جب آپ حضرت عباس بن عبد المطّلب ؓ کے پاس زکوٰۃ لینے گئے تھے تو انھوں نے آپ کو زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا تھا، جس پر آپ دونوں میں کچھ بات ہوئی تھی؟ پھر آپ نے مجھ سے کہا تھا: میرے ساتھ حضور ﷺ کے پاس چلو تاکہ ہم حضور ﷺ کو بتائیں کہ حضرت عباس نے ایسے کیا ہے۔ چناںچہ ہم دونوں حضور ﷺ کی خدمت میں گئے تو ہم نے دیکھا کہ آپ کی طبیعت پر گرانی ہے تو ہم واپس آگئے۔ اگلے دن ہم پھر آپ کی خدمت میں گئے تو آپ ہشاش بشاش تھے۔ آپ نے حضور ﷺ کو بتایا کہ حضرت عباس نے اس طرح کیا ہے۔ اس پر حضور ﷺ نے آپ کو کہا تھا: کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی طرح ہوتا ہے؟ اور ہم نے حضور ﷺ کو بتایا کہ ہم پہلے دن آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے تو آپ کی طبیعت پر گرانی تھی اور اگلے دن حاضر ہوئے تو آپ ہشاش بشاش تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تم پہلے دن جب میرے پاس آئے تھے تو میرے پاس صدقہ کے دو دیناربچے ہوئے تھے، اس وجہ سے تمہیں میری طبیعت پر گرانی نظر آئی۔ اور اگلے دن جب تم میرے پاس آئے تو میں وہ دینار خرچ کرچکا تھا اس وجہ سے تم نے مجھے ہشاش بشاش پایا۔ حضرت عمر نے کہا: (اے علی!) تم نے ٹھیک کہا: اللہ کی قسم! تم نے پہلے مجھے کہا: اپنے یقین کو گمان میں کیوں بدلتے ہو؟ اور پھر مجھے یہ سارا قصہ سنایا میں ان دونوں باتوں پر تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں۔1 حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ کے پاس مال آیا۔ آپ نے اسے مسلمانوں میں تقسیم کیا لیکن اس میں سے کچھ مال بچ گیا۔ آپ نے اس کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا۔ لوگوں نے کہا: اگر آپ اسے آیندہ پیش آنے والی ضرورت کے لیے رکھ لیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ حضرت علی ؓ بالکل خاموش تھے انھوں نے کچھ نہ کہا۔ حضرت عمر نے کہا: اے ابو الحسن! کیا ہوا، آپ اس بارے میں کچھ نہیںکہہ رہے ہیں؟ انھوں نے کہا: لوگوں نے اپنی رائے بتا تو دی ہے۔ حضرت عمر نے کہا: نہیں، آپ کو بھی اپنا مشورہ ضرور دینا ہوگا۔ حضرت علی نے کہا: اللہ تعالیٰ (قرآن مجید میں خرچ کرنے کی جگہیں بتا کر) اس مال کی تقسیم (بتانے) سے فارغ ہوچکے ہیں (آپ کو یہ بچا ہوا مال بھی وہاں ہی خرچ کرنا چاہیے)۔ پھر حضرت علی نے یہ قصہ بیان کیا کہ حضورِ اَقدس ﷺ کے پاس بحرین سے مال آیا تھا، (حضور ﷺ نے اسے تقسیم کرنا شروع کیا، لیکن) ابھی آپ اس کی تقسیم سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ رات آگئی (تو آپ نے وہ رات مسجد میں گزاری اور) ساری نمازیں مسجد میں پڑھائیں (یعنی سارا دن مسجد میں بیٹھ کر تقسیم کرتے رہے گھر نہ گئے)۔ میں نے دیکھا کہ جب تک آپ نے یہ سارا مال تقسیم نہیں کرلیا آپ کے چہرے پر پریشانی اور فکر کے آثار رہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: اب تو یہ بقیہ مال آپ کو ہی تقسیم کرنا ہوگا۔ چناںچہ حضرت علی نے اسے تقسیم کیا۔ حضرت طلحہ فرماتے ہیں: مجھے اس میں سے آٹھ سو درہم ملے۔2 حضرت اُمّ سَلَمہ ؓ فرماتی ہیں: ایک مرتبہ حضورِ اَقدس ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو آپ کے چہرۂ مبارک کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ کسی درد کی وجہ سے نہ ہو۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو کیا ہوا؟ آپ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا: ان سات دینار کی وجہ سے جو کل ہمارے پاس آئے ہیں، اور آج شام ہوگئی ہے اور وہ ابھی تک بستر کے کنارے پر پڑے ہوئے ہیں۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ وہ سات دینار ہمارے پاس آئے اور ہم ابھی تک ان کو خرچ نہیں کرسکے۔1 حضرت سہل بن سعد ؓ فرماتے ہیں: حضورِ اَقدس ﷺ کے پاس سات دینار تھے جو آپ نے حضرت عائشہ ؓ کے پاس رکھوائے تھے۔ جب آ پ زیادہ بیمار ہوئے تو آپ نے فرمایا: اے عائشہ ! یہ سونا علی کے پاس بھجوادو۔ اس کے بعد آپ بے ہوش ہوگئے تو حضرت عائشہ ؓ آپ کے سنبھالنے میں ایسی مشغول ہوئیں کہ وہ دینار بھجوا نہ سکیں۔ یہ بات حضور ﷺ نے کئی مرتبہ ارشاد فرمائی، لیکن ہر مرتبہ آپ فرمانے کے بعد بے ہوش ہوجاتے اور حضرت عائشہ ؓ آپ کے سنبھالنے میں مشغو ل ہوجاتیں اور وہ دینار نہ بھجوا پاتیں۔ آخر حضور ﷺ نے وہ دینار خود حضرت علی کو بھجوائے اور انھوں نے انھیں صدقہ کردیا۔ پیر کی رات کو شا م کے وقت حضور ﷺ پر نزع کی کیفیت طاری ہونے لگی تو حضرت عائشہ نے اپنا چراغ اپنے پڑوس کی ایک عورت کے پاس بھیجا (جو کہ حضور ﷺ کی زوجۂ محترمہ تھیں ) اور ان سے کہا: ہمارے اس چراغ میں اپنے گھی کے ڈبے میں سے کچھ گھی ڈال دو، کیوںکہ حضور ﷺ پر نزع کی کیفیت طاری ہوچکی ہے۔2 حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: حضور ﷺ نے اپنے مرض الوفات میں مجھے حکم دیا کہ جو سونا ہمارے پاس ہے میں اسے صدقہ کر دوں۔ (لیکن میں حضور ﷺ کی خدمت میں مشغول رہی اور صدقہ نہ کرسکی) پھر آپ کو افاقہ ہوا۔ آپ نے فرمایا: تم نے اس سونے کا کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے دیکھا کہ آپ بہت زیادہ بیمار ہوگئے ہیں اس لیے میں آپ کی خدمت میں ایسے لگی کہ بھول گئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: وہ سونا لے آؤ۔ چناںچہ حضرت عائشہ حضور ﷺ کی خدمت میں سات یا نو دینار لائیں۔ ابو حازم راوی کو شک ہوا کہ دینار کتنے تھے؟ جب حضرت عائشہ لے آئیں تو حضور ﷺ نے فرمایا: اگر محمد ( ؑ) کی اللہ سے ملاقات اس حال میں ہوتی (یعنی اگر ان کا انتقال اس حال میں ہوتا) کہ یہ دینار ان کے پاس ہوتے تو محمد ( ؑ) کیا گمان کرسکتے؟ (یعنی ان کو بہت ندامت ہوتی) اگر محمد ( ؑ) کی اللہ سے ملاقات اس حال میں ہوتی کہ یہ دینار ان کے پاس ہوتے تو یہ دینار محمد ( ؑ) کے بھروسے کو اللہ پر نہ رہنے دیتے۔1 حضرت عبید اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں: مجھ سے حضرت ابو ذر ؓ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں حضورِ اَقدس ﷺ کے ساتھ آپ کا دستِ مبارک پکڑے ہوئے تھا۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ذر! مجھے یہ بات پسند نہیںکہ مجھے اُحد پہاڑ کے برابر سونا اور چاندی مل جائے، اور میں اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کر دوں اور مرتے وقت میرے پاس اس میں سے ایک قیراط (دینار کا بیسواں حصہ) ہی بچا ہوا ہو۔ (یعنی میں چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرے پاس دینار اور درہم میں سے کچھ بھی نہ ہو) میںنے کہا: (آپ قیراط فرما رہے ہیں) یاقنطار؟ (یعنی چار ہزار دینار) آپ نے فرمایا: میں کم مقدار کہنا چاہتا ہوںاور تم زیادہ کہہ رہے ہو۔ میں آخرت چاہتا ہوں اور تم دنیا۔ ایک قیراط۔(یعنی قِنطار نہیںبلکہ قیراط) یہ بات آپ نے مجھ سے تین بار فرمائی۔2 حضرت ابو ذر ؓ حضرت عثمان بن عفان ؓ کے پاس آئے (اور انھوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی) حضرت عثمان نے ان کو اجازت دی (وہ اندر آگئے)۔ ان کے ہاتھ میں لاٹھی تھی۔ حضرت عثمان نے کہا: اے کعب! حضرت عبد الرحمن (بن عوف ؓ) کا انتقال ہوا ہے اور وہ بہت سا مال چھوڑ کر گئے ہیں، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ حضرت کعب نے کہا: اگر وہ اس مال کے بارے میں اللہ کا حق یعنی زکوٰۃ اد اکرتے رہے ہیں تو ان کا مواخذہ نہیں ہوگا۔ یہ سن کر حضرت ابو ذر نے اپنی لاٹھی اٹھا کر حضرت کعب کو ماری اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس پہاڑ کے برابر مجھے سونا مل جائے اور میں اسے خرچ کر دوں اور وہ خرچ کرنا اللہ کے ہاں قبول بھی ہوجائے اور میں اپنے پیچھے چھ اُوقیہ یعنی دو سو چالیس درہم چھوڑ جاؤں۔ پھر انھوںنے حضرت عثمان کو مخاطب کرکے تین مرتبہ فرمایا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے یہ حدیث حضور ﷺ سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں سنی ہے ۔1 حضرت غَزْوان بن ابی حاتم ؓ سے بھی یہ واقعہ بہت لمبا منقول ہے اور اس میں یہ مضمون ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے حضرت کعب ؓ سے فرمایا: اے ابو اسحاق! آپ ذرا یہ بتائیں کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے (اور وہ مال آدمی کے پاس ہو دوسروں پر خرچ نہ کیا ہوتو کیا) اس مال والے پر اس مال کے بارے میں جرمانے اور سزا کا خطرہ ہے؟ حضرت کعب نے کہا: نہیں۔ حضرت ابو ذر ؓ کے پاس ایک لاٹھی تھی، انھوں نے کھڑے ہو کر وہ لاٹھی حضرت کعب کے دونوں کانوں کے درمیان سر پر ماری اور پھر فرمایا: اے یہودی عورت کے بیٹے! آپ یہ سمجھتے ہیںکہ جب اس نے زکوٰۃ ادا کر دی تو اب اس کے مال میں کسی کا کوئی حق باقی نہ رہا؟ حالاںکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ}2 اور اپنے سے مقدم رکھتے ہیں اگرچہ اُن پر فاقہ ہی ہو ۔ اوردوسری جگہ فرماتے ہیں: {وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا o}3 اور وہ لوگ محض خدا کی محبت سے غریب اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں ۔ اور تیسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَالَّذِیْنَ فِیْ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ o لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ o}1 اور جن کے مالوں میں سوالی اور بے سوالی سب کا حق ہے۔ اس طرح کی اور آیات حضرت ابو ذر ؓ ذکر کرتے رہے۔2 حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں: ایک دن حضورﷺ نے ہمیں (اللہ کے راستہ میں) صدقہ کرنے کا حکم فرمایا۔ اس دن میرے پاس کافی مال تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا: اگر میں (نیکی میں) حضرت ابو بکر ؓ سے آگے بڑھ سکتا ہوں تو آج کے دن ہی بڑھ سکتا ہوں۔ (یعنی میں ان سے آگے بڑھنے کی کوشش تو بہت مرتبہ کرچکا ہوں، لیکن کبھی ان سے آگے بڑھ نہیں سکا آج بڑھ سکتا ہوں) چناںچہ میںنے اپنا آدھا مال لاکر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ حضور ﷺ نے پوچھا: تم اپنے گھر والوں کے لیے کیاچھوڑ کر آئے ہو؟ میں نے کہا: میں ان کے لیے بھی کچھ چھوڑ آیا ہوں۔ حضور ﷺ نے پھر فرمایا: ان کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ میں نے کہا: جتنا میں لایا ہوں اتنا ہی گھر والوں کے لیے چھوڑ کر آیا ہوں۔ حضرت ابو بکر کے پاس (گھر میں) جو کچھ تھا وہ سب کچھ لے آئے۔ حضور ﷺ نے ان سے پوچھا: اے ابو بکر! تم اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟ حضرت ابو بکر نے کہا: میں ان کے لیے اللہ ورسول ﷺ (کی رضامندی) چھوڑ کر آیا ہوں۔ یہ جواب سن کر میں نے اپنے دل میں کہا: میں کبھی بھی کسی چیز میں حضرت ابو بکر سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔3 حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت عثمان ؓ سے کہا: اے مال والو! نیکیاں تو تم لے گئے ہو کہ تم لوگ صدقہ کرتے ہو، غلاموں کو آزاد کرتے ہو، حج کرتے ہو اور اللہ کے راستہ میں مال خرچ کرتے ہو۔ حضرت عثمان نے فرمایا: اور تم لوگ ہم پر رشک کرتے ہو۔ اس آدمی نے کہا: ہم لوگ آپ لوگوں پر رشک کرتے ہیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا: اللہ کی قسم! کوئی آدمی تنگ دستی کی حالت میں ایک درہم خرچ کرے وہ ہم مال داروں کے دس ہزار سے بہتر ہے، کیوںکہ ہم بہت زیادہ میں سے تھوڑا سا دے رہے ہیں۔1 حضرت عبید اللہ بن محمد بن عائشہ ؓ کہتے ہیں: ایک سائل امیر المؤمنین حضرت علی ؓ کے پاس آکھڑا ہوا۔ حضرت علی نے حضرت حسن ؓ یا حضرت حسین ؓ سے کہا: اپنی والدہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو: میں نے آپ کے پاس چھ درہم رکھوائے تھے ان میں سے ایک درہم دے دو۔ وہ گئے اور انھوں نے واپس آکر کہا: امی جان کہہ رہی ہیں وہ چھ درہم تو آپ نے آٹے کے لیے رکھوائے تھے۔ حضرت علی نے کہا: کسی بھی بندے کا ایمان اس وقت تک سچا ثابت نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کو جو چیز اس کے پاس ہے، اس سے زیادہ اعتماد اس چیز پر نہ ہوجائے جو اللہ کے خزانوں میں ہے۔ اپنی والدہ سے کہو کہ چھ درہم بھیج دیں۔ چناںچہ انھوںنے چھ درہم حضرت علی کو بھجوادیے جو حضرت علی نے اس سائل کو دے دیے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت علی نے اپنی نشست بھی نہیں بدلی تھی کہ اتنے میں ایک آدمی ان کے پاس سے ایک اُونٹ لیے گزرا جسے وہ بیچنا چاہتا تھا۔ حضرت علی نے کہا: یہ اُونٹ کتنے میں دوگے؟ اس نے کہا: ایک سو چالیس درہم میں۔ حضرت علی نے کہا: اسے یہاں باندھ دو، البتہ اس کی قیمت کچھ عرصہ کے بعد دیں گے۔ وہ آدمی اونٹ وہاں باندھ کر چلا گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: یہ اُونٹ کس کا ہے؟ حضرت علی نے کہا: میرا۔ اس آدمی نے کہا: کیا آپ اسے بیچیں گے؟ حضرت علی نے کہا: ہاں۔ اس آدمی نے کہا: کتنے میں؟ حضرت علی نے کہا: دوسو درہم میں۔ اس نے کہا: میں نے اس قیمت میں یہ اُونٹ خرید لیا۔ اور حضرت علی کو دو سو درہم دے کر وہ اُونٹ لے گیا۔ حضرت علی نے جس آدمی سے اونٹ اُدھار خریدا تھا اسے ایک سو چالیس درہم دیے اور باقی ساٹھ درہم لا کر حضرت فاطمہ ؓ کو دیے۔ انھوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ حضرت علی نے کہا: یہ وہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی ہم سے وعدہ کیا ہے: {مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا}2 جو شخص نیک کام کرے گااس کو اس کے دس حصے ملیںگے۔3 حضرت اُبی ؓ فرماتے ہیں: حضورِ اَقدس ﷺ نے مجھے زکوٰۃ وصول کرنے بھیجا۔ میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا۔ جب اس نے اپنے سارے جانور جمع کر دیے تو میں نے دیکھا کہ ان جانوروں میں اس پر صرف ایک سالہ اونٹنی واجب ہوتی ہے۔ میں نے کہا: تم ایک سالہ اونٹنی دے دو کیوںکہ زکوٰۃ تم پر اتنی ہی بنتی ہے۔ اس آدمی نے کہا: یہ کم عمر اونٹنی نہ تو دودھ دے سکتی ہے اور نہ سواری کے کام آسکتی ہے، البتہ یہ اونٹنی جو ان اور خوب موٹی تازی ہے تم اسے لے لو۔ میں نے کہا: جس جانور کے لینے کا مجھے حکم نہیں ملا میں اسے نہیں لے سکتا۔ البتہ حضور ﷺ تمہارے قریب ہی ہیں، اگر تم مناسب سمجھو تو تم مجھے جو دینا چاہتے ہو وہ خود جاکر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کردو۔ اگر وہ قبول فرما لیں گے تو میں بھی قبو ل کرلوں گا، اگر انھوں نے قبول نہ فرمایاتو پھر میں نہیں لے سکتا۔ اس نے کہا: چلو ایسے کرلیتا ہوں۔ چناںچہ وہ میرے ساتھ چل پڑا اور اپنے ساتھ وہ اُونٹنی بھی لے لی جو مجھے پیش کی تھی۔ پھر ہم لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کا قاصد مجھ سے میرے جانوروں کی زکوٰۃ لینے آیا تھا اوراللہ کی قسم! اس سے پہلے نہ تو حضور ﷺ (میرے جانوروں کی زکوٰۃ لینے) آئے اور نہ حضور ﷺ کا قاصد۔ چناںچہ آپ کے قاصد کے سامنے میں نے اپنے سارے جانور جمع کر دیے۔ آپ کے قاصد نے بتایا کہ مجھ پر زکوٰۃ میں صرف ایک سالہ اُونٹنی واجب ہے جو کہ نہ دودھ دیتی ہے اور نہ سواری کے کام آسکتی ہے، اس لیے میں نے آپ کے قاصد کے سامنے ایک جوان موٹی تازی اونٹنی پیش کی کہ اسے لے لے، لیکن انھوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔ یا رسول اللہ! وہ اونٹنی یہ ہے، میں اسے لے کر آپ کی خدمت میں آیا ہوں۔ توحضور ﷺ نے اس سے فرمایا: واجب تو تم پر وہی ایک سالہ اونٹنی ہے، تم اپنی مرضی سے اس سے بہتر جانور دینا چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی بہتر جزا عطا فرمائے! ہم اسے قبول کرتے ہیں۔ اس نے (خوشی میں) دوبارہ کہا: یارسول اللہ! وہ اونٹنی یہ ہے، میں آپ کے پاس اسے لایا ہوںآپ اسے لے لیں۔ چناںچہ حضور ﷺ نے اسے لینے کا حکم فرما دیا اور اس کے لیے اس کے جانوروں میں برکت کی دعا فرمائی۔1 حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عائشہ اور حضرت اسماء ؓ سے زیادہ سخی کوئی عورت نہیں دیکھی۔ البتہ ان دونوں کی سخاوت کا طریقہ الگ الگ تھا۔ حضرت عائشہ تھوڑی تھوڑی چیز جمع کرتی رہتیں، جب کافی چیزیں جمع ہوجاتیں تو پھر ان کو تقسیم فرما دیتیں۔ اور حضرت اَسماء تو اگلے دن کے لیے کوئی چیز نہ رکھتیںیعنی جو کچھ تھوڑا بہت آتا اسی دن تقسیم کر دیتیں۔1 حضرت عبد الرحمن بن کعب بن مالک ؓ کہتے ہیں: حضرت معاذ بن جبل ؓ بہت سخی، نوجوان اور بہت خوب صورت تھے، اور اپنی قوم کے نوجوانوں میں سب سے زیادہ فضیلت والے تھے۔ وہ کوئی چیز بچا کر نہیں رکھتے تھے۔ چناںچہ وہ قرض لیتے رہے (اور دوسروں پر خرچ کرتے رہے) یہاں تک کہ سارا مال قرضہ میں گھر گیا۔ اس پر وہ حضور ﷺ کی خدمت میں گئے اور حضور ﷺ سے عرض کیا کہ وہ قرض خواہوں سے کہیں کہ وہ میرا قرض معاف کر دیں۔ (چناںچہ حضور ﷺ نے ان کی سفارش فرمائی) لیکن قرض خواہوں نے انکار کردیا۔ اگر یہ قرض خواہ کسی کے کہنے کی وجہ سے کسی کا قرضہ معاف کرنے والے ہوتے تو حضور ﷺ کی وجہ سے ضرور معاف کر دیتے۔ آخر حضور ﷺ نے ان کا قرض اد اکرنے کے لیے ان کا سارا مال بیچ دیا، یہاں تک کہ حضرت معاذ وہاں سے خالی ہاتھ اُٹھے ان کے پاس کوئی چیز نہ بچی۔ جب فتحِ مکہ کا سال آیا تو حضور ﷺ نے ان کو یمن کے ایک حصہ کا گورنر بناکر بھیج دیا تاکہ ان کے نقصان کی تلافی ہوسکے۔ حضرت معاذ یمن میں گورنر بن کر ٹھہرے رہے۔ اور وہ سب سے پہلے آدمی ہیں جنھوں نے اللہ کے مال سے یعنی زکوٰۃ کے مال سے تجارت کی۔ چناںچہ یہ یمن میں ٹھہر کر تجارت کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس مال جمع ہوگیا اور اتنے عرصہ میں حضور ﷺ کا بھی انتقال ہوگیا۔ جب یہ (مدینہ) واپس آئے تو حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو بکر ؓ سے کہا: اس آدمی یعنی حضرت معاذ کے پاس قاصد بھیجیں اور جتنے مال سے ان کا گزر اوقات ہوسکے اتنا مال ان کے پاس رہنے دیں باقی سارا مال ان سے لے لیں۔ حضرت ابو بکر نے کہا: حضور ﷺ نے ان کو (یمن) بھیجا ہی اس لیے تھا تاکہ ان کے نقصان کی تلافی ہوجائے، لہٰذا میں تو ان سے از خود کچھ نہیں لوں گا۔ ہاں اگر یہ خود کچھ دیں تو لے لوں گا۔ جب حضرت ابو بکر نے حضرت عمرکی بات نہ مانی تو حضرت عمر حضرت معاذ کے پاس خود چلے گئے، ان سے اپنی اس بات کا تذکرہ کیا۔ حضرت معاذ نے کہا: حضور ﷺ نے مجھے تو اپنے نقصان کی تلافی کے لیے ہی بھیجا تھا، لہٰذا میں تو آپ کی با ت ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ (زکوٰۃ کا مال لے کر انھوں نے تجارت کی تھی اس سے جو نفع ہوا وہ انھوں نے رکھ لیا اور اصل زکوٰۃ کا مال واپس کر دیا اس لیے یہ نفع ان کا ہی تھا، لیکن حضرت عمرکا مطلب یہ تھا کہ چوںکہ اجتماعی مال اس نفع کا ذریعہ بنا ہے اس لیے سارا نفع نہ رکھیں، بلکہ بقدرِ ضرورت رکھ کر باقی نفع بیت المال میں جمع کرادیں، یہ فضیلت کی بات تھی۔ کچھ عرصہ کے بعد) حضرت معاذ کی حضرت عمر سے ملاقات ہوئی تو ان سے حضرت معاذ نے کہا: میں نے آپ کی بات مان لی جیسے آپ کہہ رہے ہیں میں ویسے کرلیتا ہوں۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بہت زیادہ پانی میں ہوں اور ڈوبنے سے ڈر رہا ہوں۔ اور اے عمر! پھر آپ نے مجھے ڈوبنے سے بچایا۔ پھر حضرت معاذحضرت ابو بکر کے پاس آئے اور ان کو سارا قصّہ سنایا (اور اپنا سارا مال لا کر ان کو دے دیا) اور قسم کھا کر ان سے کہاکہ انھوں نے ان سے کچھ نہیں چھپایا۔ چناںچہ اپنا کوڑا بھی سامنے لاکر رکھ دیا۔ حضرت ابو بکر نے کہا: اللہ کی قسم! میں تم سے یہ مال نہیں لوں گا، میں نے تم کو یہ ہدیہ کر دیا ہے۔ حضرت عمر نے کہا: اب حضرت معاذ کا یہ مال لینا ٹھیک ہے، کیوںکہ انھوں نے تو یہ سارا مال بیت المال کو دے دیا جس سے یہ مال ان کے لیے حلال اور پاکیزہ ہوگیا، اس کے بعد حضرت ابوبکر نے ان کو ہدیہ کیا ہے۔ اس کے بعد حضرت معاذ ؓ ملکِ شام چلے گئے۔1 حضرت ابنِ کعب بن مالک ؓ فرماتے ہیں: حضرت معاذ بن جبل ؓ ایک جوان، نہایت خوب صورت، بہت سخی آدمی تھے۔ اپنی قوم کے بہترین نوجوانوں میں سے تھے۔جو آدمی بھی ان سے کوئی چیز مانگتا وہ فوراً اسے دے دیتے۔ اسی وجہ سے (کہ وہ قرضہ لے کر دوسروں کو دے دیتے) ان پر اتنا قرضہ ہوگیا کہ ان کا سارا مال قرضہ میں گھر گیا۔ آگے پچھلی حدیث جیسی ذکر کی۔1 حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: حضرت معاذ بن جبل ؓ لوگوںمیں سب سے زیادہ خوب صورت چہرے والے، سب سے زیادہ اچھے اَخلاق والے اور سب سے زیادہ کھلے ہاتھ والے یعنی سخی تھے۔ اسی سخاوت کی وجہ سے بہت سا قرضہ اُٹھا لیا۔ (چوںکہ سارا دوسروں پر خرچ کر دیتے تھے اس لیے قرض ادا کرنے کے لیے ان کے پا س کچھ تھا نہیں)۔ آخر قرض خواہ ان کے پیچھے پڑگئے تو یہ ان سے چھپ کر کئی دن اپنے گھر بیٹھے رہے۔ (تھک ہار کر) ان کے قرض خواہ مدد لینے کے لیے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ نے قاصد بھیج کر حضرت معاذ کو بلایا۔ حضرت معا ذ حضور ﷺ کے پاس آئے تو وہ قرض خواہ بھی ان کے ساتھ آگئے اور انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں ان سے ہمارا حق دلوادیں۔ حضور ﷺ نے (قرض معاف کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے) فرمایا: جو معا ذ کا قرضہ معاف کرے اللہ اس پر رحم فرمائے۔ یہ دعا سن کر کچھ قرض خواہوں نے قرضہ معاف کر دیا، لیکن باقی قرض خواہوں نے معاف کرنے سے اِنکار کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے معاذ! ان (کا قرضہ اد ا کرنے) کے لیے تم صبر سے کام لو، یعنی سارا مال بھی دینا پڑے تو تم دے دواور صبر سے کام لو۔ آخر حضور ﷺ نے حضرت معاذ کا سارا مال ان کے قرض خواہوں کو دے دیا۔ انھوں نے آپس میں تقسیم کیا تو ہرایک کو اس کے سات حصوں میں سے پانچ حصے ملے۔ اس پر ان قرض خواہوں نے حضور ﷺ سے کہا: (ہمارا باقی قرضہ ادا کرنے کے لیے) انھیں (غلام بنا کر) بیچ دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اب انھیں چھوڑ دو، اب ان سے باقی قرضہ وصول کرنے کے لیے تمہارے پاس کوئی راستہ نہیں رہا۔ اس کے بعد حضرت معاذ بنو سَلِمہ کے ہاں چلے گئے۔ وہاں ان سے ایک آدمی نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! چوںکہ تم بالکل فقیر ہوگئے ہو اس لیے تم جاکر حضور ﷺ سے کچھ مانگ لو۔ انھوں نے کہا: میں حضور ﷺ سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ حضرت معاذ کچھ دن اسی طرح رہے پھر حضور ﷺ نے ان کو بلا کر یمن بھیج دیا اور فرمایا: ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے نقصان کی تلافی کر دے اور تمہارے قرض کو ادا کروادے۔ چناںچہ حضرت معاذ یمن چلے گئے اور وہیں رہے یہاں تک کہ حضور ﷺ کا انتقال ہوگیا۔ جس سال حضرت ابو بکر ؓ نے حضرت عمر بن خطّاب ؓ کو امیرِ حج بنا کر بھیجا، اس سال حضرت معاذ بھی حج کے لیے آئے۔ آٹھ ذی الحجہ کو دونوں کی حج پر ملاقات ہوئی۔ دونوں ایک دوسرے سے گلے ملے، پھر دونوں نے ایک دوسرے سے حضور ﷺ کے بارے میں تعزیت کی۔ پھر دونوں زمین پر بیٹھ کر آپس میں باتیں کرنے لگے اور پھر حضرت عمر نے حضرت معاذ کے پاس چند غلام دیکھے۔1 حضرت عبد اللہ (بن مسعود) ؓ فرماتے ہیں: جب حضورِ اَقدس ﷺ کا انتقال ہوگیا اور لوگوں نے حضرت ابو بکر ؓ کو خلیفہ بنالیا اور حضور ﷺ نے (اپنی زندگی میں) حضرت معاذ ؓ کو یمن بھیجا تھا تو حضرت ابو بکر نے حضرت عمر ؓ کو امیرِ حج بناکر بھیجا۔ وہاں مکّہ میں حضرت عمر کی حضرت معاذ سے ملاقات ہوئی۔ حضرت معاذ کے ساتھ بہت سے غلام تھے۔ حضرت عمر نے پوچھا: یہ لوگ کون ہیں؟ حضرت معاذ نے کہا: یہ تو یمن والوں نے مجھے ہدیہ کیے ہیں اور یہ حضرت ابو بکر کے لیے ہیں۔ حضرت عمر نے ان سے کہا: تمہارے لیے میری رائے یہ ہے کہ تم ان سب غلاموں کو حضرت ابو بکر کے پاس لے جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: حضرت معاذ ؓ کی اگلے دن حضرت عمر سے پھر ملاقات ہوئی توحضرت معاذ نے ان سے کہا: اے ابن الخطّاب! آج رات میں نے خواب دیکھا کہ میں آگ میں کود نا چاہتا ہوں اور آپ مجھے کمر سے پکڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے اب تو میری یہی رائے ہے کہ میں آپ کی بات مان لوں۔ چناںچہ ان غلاموں کو لے کر حضرت ابو بکر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے کہا: یہ غلام تو مجھے ہدیہ میں ملے ہیں اور یہ غلام آپ کے لیے ہیں۔ حضرت ابو بکر نے کہا: ہم تمہارے ہدیہ کی تمہارے لیے منظوری دیتے ہیں۔ اور پھر حضرت معاذ وہاں سے نمازکے لیے باہر نکلے (اور انھوں نے نماز پڑھائی) تو انھوں نے دیکھا کہ وہ سب ان کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں۔ حضرت معاذ نے پوچھا: تم کس لیے نماز پڑھتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کے لیے۔ اس پر حضرت معاذ نے کہا: اب تو تم لوگ بھی اللہ کے ہوگئے ہو۔ اور یہ کہہ کر ان سب کو آزاد کر دیا۔1