حضرات خُلَفَائے کرام کا دیگر خُلَفَاواُمرا کو وصیّت کرنا

حضرت علی بن ابی طالب ؓ کا اپنے امیروں کو وصیت کرنا

حضرت مہاجر عامری ؓ کہتے ہیں: حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے اپنے ایک ساتھی کو ایک شہر کا گورنر بنا رکھا تھا۔ اسے یہ خط لکھا: اَمابعد! تم اپنی رعایا سے زیادہ دیر غائب نہ رہو (جب کسی ضرورت کی وجہ سے ان سے الگ ہونا پڑے تو ان کے پاس جلدی واپس آجاؤ) کیوںکہ امیر کے رعایا سے الگ رہنے کی وجہ سے لوگ تنگ ہوں گے اور خود امیر کو لوگوں کے حالات تھوڑے معلوم ہوسکیں گے، بلکہ جن سے الگ رہے گا ان کے حالات بالکل معلوم نہ ہوسکیں گے۔ (جب امیر لوگوں کے ساتھ میل جول نہیں رکھے گا بلکہ الگ رہے گا تو اسے سنی سنائی باتوں پر ہی کام چلا نا پڑے گا، اس طرح سارا دار ومدار سنانے والوں پر آجائے گا اور سنانے والوں میں غلط لوگ بھی ہوسکتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ) پھر اس کے سامنے بڑی چیز کو چھوٹا اور چھوٹی چیز کو بڑا، اور اچھی چیز کو برا اور بری چیز کو اچھا بنا کر پیش کیا جائے گا اور یوں حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہوجائے گا۔ اور امیر بھی انسان ہی ہے۔ لوگ اس سے چھپ کر جو کام کر رہے ہیں وہ ان کو نہیں جانتا ہے۔ اور انسان کی ہربات پر ایسی نشانیاں نہیں پائی جاتی ہیں جن سے پتہ چل سکے کہ اس کی یہ بات سچی ہے یا جھوٹی۔ لہٰذا اب اس کا حل یہی ہے کہ امیر اپنے پاس لوگوں کی آمد ورفت کو آسان اور عام رکھے (جب لوگ اس کے پاس زیادہ آئیں گے تو اسے حالات زیادہ معلوم ہوسکیں گے او ر پھر یہ فیصلہ صحیح کرسکے گا)۔ اور اس طرح یہ امیر ہر ایک کو اس کا حق دے سکے گا اور ایک کا دوسرے کو دینے سے محفوظ رہے گا۔ لہٰذا تم ان دو قسم کے آدمیوں میں سے ایک قسم کے ضرور ہوگے: یا تو تم سخی آدمی ہوگے اور حق میں خرچ کرنے میں تمہارا ہاتھ بہت کھلا ہوگا۔ اگر تم ایسے ہو اور تم نے لوگوں کو دینا ہی ہے اور ان سے اچھے اخلاق سے پیش آنا ہی ہے تو پھر تمہیں لوگوں سے الگ رہنے کی کیا ضرورت؟ اور اگر تم کنجوس ہو، اپنا سب کچھ روک کر رکھنے کی طبیعت رکھتے ہو تو پھرتولوگ چند دن تمہارے پاس آئیں گے اور جب انھیں تم سے کچھ ملے گا نہیں تو وہ خود ہی مایوس ہو کر تمہارے پاس آنا چھوڑ دیں گے، اس صورت میں بھی تمہیں ان سے الگ رہنے کی ضرورت نہیںہے۔ اور ویسے بھی لوگ تمہارے پاس اپنی ضرورتیں ہی لے کر آتے ہیں کہ یا توکسی ظالم کی شکایت کریں گے یا تم سے انصاف کے طالب ہوں گے۔ اور یہ ضرورتیں ایسی ہیں کہ ان کے پورا کرنے میں تم پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔ (لہٰذا لوگوں سے الگ رہنے کی ضرورت نہیں ہے) اس لیے میں نے جو کچھ لکھا ہے اس پر عمل کرکے اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ اور میں تمہیں صرف وہی باتیں لکھ رہا ہوں جن میں تمہارا فائدہ ہے اور جن سے تمہیں ہدایت ملے گی اِن شاء اللہ۔ 1 حضرت مدائنی ؓ کہتے ہیں: حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے اپنے ایک امیر کو یہ خط لکھا: ٹھہرو اور یوں سمجھو کہ تم زندگی کے آخری کنارے پر پہنچ گئے ہو۔ تمہاری موت کا وقت آگیا ہے، اور تمہارے اعمال تمہارے سامنے اس جگہ پیش کیے جارہے ہیں جہاں دنیا کے دھوکہ میں پڑا ہوا ہائے حسرت پکارے گا، اور زندگی ضائع کرنے والا تمنا کرے گا کہ کاش! میں توبہ کرلیتا، اور ظالم تمنا کرے گا کہ اسے (ایک دفعہ پھر دنیا میں) واپس بھیج د یا جائے (تاکہ وہ نیک عمل کرکے آئے اور یہ جگہ میدانِ حشر ہے)۔ 1 قبیلہ ثَقِیف کے ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے مجھے عُکبرا شہر کا گورنر بنایا۔ اور وہاں کے مقامی لوگ جو کہ ذمی تھے، وہ میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو حضرت علی نے مجھ سے فرمایا: عراق کے دیہاتی لوگ دھوکہ باز ہوتے ہیں، خیال رکھنا کہیں تمہیں دھوکہ نہ دے دیں۔ لہٰذا ان کے ذمہ جو حق ہے وہ ان سے پورا وصول کرنا۔ پھر مجھ سے فرمایا: شام کو میرے پاس آنا۔ چناںچہ جب میں شام کو خدمت میں حاضر ہوا تو مجھ سے فرمایا: میں نے صبح تم کو جو کہا تھا وہ ان لوگوں کو سنانے کے لیے کہاتھا۔ رقم کی وصولی کے لیے ان میں سے کسی کو کوڑا نہ مارنا اور نہ (دھوپ میں) کھڑا کرنا اور ان سے (شرعی حق کے بغیر اپنے لیے) بکری اور گائے نہ لینا۔ ہمیں تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ان سے عفو لیں۔ اور جانتے ہو کہ عفو کسے کہتے ہیں؟ جسے وہ آسانی سے دے سکے (اور وہ اس کی ضرورت سے زائد ہو)۔ 2 اور ’’بیہقی‘‘کی روایت میں یہ مضمون بھی ہے کہ ان کا غلّہ اور گرمی سردی کے کپڑے اور ان کے کھیتی اور باربرداری کے کام آنے والے جانور نہ بیچنا، اور پیسوں کی وصولی کے لیے کسی کو (دھوپ میں) کھڑا نہ کرنا۔ اس امیر نے کہا: پھر تو میں جیسا آپ کے پاس سے جا رہا ہوں ایسا ہی خالی ہاتھ واپس آجاؤں گا۔ حضرت علی نے فرمایا: (کوئی بات نہیں) چاہے تم جیسے جارہے ہو ویسے ہی واپس آجاؤ۔ تیرا ناس ہو! ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے کہ ہم ان سے ضرورت سے زائد مال ہی لیں۔3