حضرات خُلَفَائے کرام کا دیگر خُلَفَاواُمرا کو وصیّت کرنا
حضرت عمر بن خطّاب ؓکا حضرت عَلَاء بن حَضْرَمی ؓ کو وصیت کرنا
حضرت شعبی ؓکہتے ہیں: حضرت علاء بن حضرمی ؓ بحرین میں تھے وہاں حضرت عمر ؓ نے ان کو یہ خط لکھا:
تم حضرت عتبہ بن غَزْوان کے پاس چلے جاؤ۔ میں نے تم کو ان کے کام کا ذمہ دار بنایا ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم ایسے آدمی کے پاس جا رہے ہو جو اُن مہاجرینِ اوّلین میں سے ہے جن کے لیے اللہ کی طرف سے پہلے ہی بھلائی مقدر ہوچکی ہے۔ میں نے ان کو اَمارت سے اس لیے نہیں ہٹایا کہ وہ پاک دامن، قوی اور سخت لڑائی لڑنے والے نہیں تھے (بلکہ یہ تمام خوبیاں ان میں ہیں) بلکہ میں نے ان کو اس لیے ہٹایا ہے کہ میرے خیال میں تم اس علاقہ کے مسلمانوں کے لیے ان سے زیادہ مفید رہو گے۔ لہٰذا تم ان کا حق پہچاننا۔ تم سے پہلے میں نے ایک آدمی کو امیر بنایا تھا لیکن وہ وہاں پہنچنے سے پہلے ہی انتقال کرگیا۔ اگر اللہ چاہیں گے تو تم وہاں کے امیر بن سکو گے، اور اگر اللہ یہ چاہیں کہ عتبہ ہی امیر رہے (اور تمہیں موت آجائے) تو پھر ایسا ہی ہوگا، کیوںکہ پید اکرنا اور حکم دینا ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ ہی آسمان سے کوئی فیصلہ اُتارتے ہیں اور پھر اپنی صفتِ حفاظت سے اس کی حفاظت فرماتے ہیں (اسے ضائع نہیں ہونے دیتے بلکہ وہ فیصلہ پورا ہو کر رہتا ہے)۔ اور تم تو صرف اس کام کو دیکھو جس کے لیے تم پیدا کیے گئے ہو، اس کے لیے پوری محنت وکوشش کرو۔ اور اس کے علاوہ اور تمام کاموں کو چھوڑ دو، کیوںکہ دنیا کے ختم ہونے کا وقت مقرر ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ تم دنیا کی ان نعمتوں میں مشغول ہو کر جو کہ ختم ہونے والی ہیں آخرت کے اس عذاب سے غافل نہ ہوجانا جو باقی رہنے والا ہے۔ اللہ کے غصہ سے بھاگ کر اللہ کی طرف آجاؤ۔ اور اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہیں اس کے حکم اور علم میں پوری فضیلت جمع فرما دیں۔ ہم اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے اس کی اِطاعت کرنے پر مدد اور اس کے عذاب سے نجات مانگتے ہیں۔1