حضورِ اکرم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کا عدل واِنصاف

حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ کا عدل واِنصاف

حضرت ابنِ عمر ؓ خیبر کے متعلق لمبی حدیث بیان کرتے ہیں، اس میں یہ مضمون بھی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ ہر سال اہلِ خیبر کے پاس جا کر درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں اور بیلوں پر لگے ہوئے انگوروں کا اندازہ لگاتے کہ یہ کتنے ہیں؟ پھر جتنے پھل کا ان کو اندازہ ہوتا اس کے آدھے پھل کی ان پر ذمہ داری ڈال دیتے کہ اتنے کا آدھا پھل تمہیں دینا ہوگا۔ خیبر والوں نے حضور ﷺ سے ان کے اندازہ لگانے میں سختی کرنے کی شکایت کی اور وہ لوگ ان کو رشوت دینے لگے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے دشمنو! مجھے حرام کھلاتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں تمہارے پاس اس آدمی کی طرف سے آیا ہوں جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، اور تم لوگ مجھے بندروں اور خنزیروں سے بھی زیادہ برے لگتے ہو، لیکن تمہاری نفرت اور حضور ﷺ کی محبت مجھے تمہارے ساتھ ناانصافی کرنے پر آمادہ نہیںکرسکتی۔ ان لوگوں نے کہا:اسی انصاف کی برکت سے زمین آسمان قائم ہیں۔1