حضورِ اکرم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کا عدل واِنصاف

حضرت عثمان ذو النورین ؓ کا عدل واِنصاف

حضرت ابو الفرات ؓ کہتے ہیں: حضرت عثمان ؓ کا ایک غلام تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا: میں نے ایک دفعہ تمہارا کان مروڑا تھا لہٰذا تم مجھ سے بدلہ لے لو۔ چناںچہ اس نے آپ کا کان پکڑ لیا تو آپ نے اس سے فرمایا: زور سے مروڑ، دنیا میں بدلہ دینا کتنا اچھا ہے! اب آخرت میں بدلہ نہیں دینا پڑے گا۔2 حضرت نافع بن عبد الحارث ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو جمعہ کے دن دار النّدوۃ تشریف لے گئے۔ (جہاں قریش مشور ہ کیا کرتے تھے اور بعد میں یہ جگہ مسجدِ حرام میں شامل کر دی گئی) آپ کا ارادہ یہ تھا کہ یہاں سے مسجدِحرام جانا نزدیک پڑے گا۔ آپ نے وہاں کمرے میں ایک کھونٹی پر اپنی چادر لٹکا دی۔ اس پر حرم کا ایک کبوتر آبیٹھا۔ آپ نے اسے اُڑا دیا تو ایک سانپ اس کی طرف لپکا اور اسے مار ڈالا۔ جب آپ نمازِجمعہ سے فارغ ہوگئے تو میں اور حضرت عثمان بن عفان ؓ ان کے پاس آئے۔ آپ نے کہا: آج مجھ سے ایک کام ہوگیا ہے، تم دونوں اس کام کے ارے میں میرے متعلق فیصلہ کرو۔ آج میں اس گھر میں داخل ہوا۔ میرا ارادہ یہ تھا کہ یہاں سے مسجدِ حرام جانا نزدیک پڑے گا۔ میں نے اپنی چادر اس کھونٹی پر لٹکا دی تو اس پر حرم کا ایک کبوتر آبیٹھا، مجھے ڈر ہوا کہ یہ بِیٹ کرکے کہیں چادر کو خراب نہ کر دے اس لیے میں نے اسے اُڑا دیا۔ وہ اُڑ کراس دوسری کھونٹی پر آبیٹھا۔ وہاں لپک کر ایک سانپ نے اسے پکڑ لیا اور اسے مار ڈالا۔ اب میرے دل میں یہ خیال آرہا ہے کہ وہ پہلی کھونٹی پر محفوظ تھا وہاں سے میں نے اسے اُڑا دیا، وہ اڑ کر اس دوسری کھونٹی پر آگیا جہاں اسے موت آگئی۔یعنی میں ہی اس کے قتل کا سبب بنا ہوں۔ یہ سن کر میں نے حضرت عثمان سے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر آپ امیر المؤمنین پر دو دانت والی سفید بکری دینے کا فیصلہ کردیں؟ انھوں نے کہا: میری بھی یہی رائے ہے۔ چناںچہ حضرت عمر ؓ نے اس طرح کی بکری دینے کا حکم دیا۔1