خُلَفَا اور اُمرَا کا احترام کرنا اور اُن کے احکامات کی تعمیل کرنا

جو تکلیف عام مسلمانوں پر آئے اس میں امیر کا مسلمانوں کی رعایت کرنا

حضرت ابو موسیٰ ؓکہتے ہیں:جب امیر المؤمنین (حضرت عمر ؓ) نے یہ سنا کہ شام میں لوگ طاعون میں مبتلا ہو رہے ہیں ، تو انھوں نے حضرت ابو عبیدہ بن جرّ اح ؓکو یہ خط لکھا: مجھے ایک کام میں تمہاری ضرورت پیش آگئی ہے، میں تمہارے بغیر اس کام کو نہیں کرسکتا۔ اس لیے میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں اگر تمہیں میرا یہ خط رات کو ملے تو صبح ہونے سے پہلے، اور اگر دن میں ملے توشام ہونے سے پہلے تم سوار ہو کر میری طرف چل پڑو۔ حضرت ابو عبیدہ نے (خط پڑھ کر) کہا: امیر المؤمنین کو جو ضرورت پیش آئی ہے میں اسے سمجھ گیا۔ جو آدمی اب دنیا میں رہنے والا نہیں ہے وہ اسے باقی رکھنا چاہتے ہیں۔ (یعنی حضرت عمر ؓ چاہتے ہیںکہ میں طاعون کی وبا والا علاقہ چھوڑ کر مدینہ چلا جاؤں اور اس طرح موت سے بچ جاؤں، لیکن میں موت سے بچنے والا نہیں ہوں) حضرت ابو عبیدہ نے حضرت عمر کو جواب میں یہ لکھا کہ میں مسلمانوں کے ایک لشکر میں ہوں، جان بچانے کے لیے میں انھیں چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ اور جو ضرورت آپ کو پیش آئی ہے میں اسے سمجھ گیا ہوں۔ آپ اسے باقی رکھنا چاہتے ہیں جو اب دنیا میں باقی رہنے والا نہیں ہے۔ لہٰذا جب میرا یہ خط آپ کی خدمت میں پہنچ جائے تو آپ مجھے اپنی قسم کے پورا کرنے سے معاف فرما دیں اور مجھے یہاں ہی ٹھہرنے کی اجازت دے دیں۔ جب حضرت عمر نے ان کا خط پڑھا تو ان کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں او ر رونے لگے تو حاضرینِ مجلس نے کہا: کیاحضرت ابو عبیدہ کا انتقال ہوگیا؟ حضرت عمرنے فرمایا: نہیں، لیکن یوں سمجھو کہ ہوگیا۔ پھرحضرت عمر نے حضرت ابو عبیدہ کو خط لکھا کہ اُردن کا سارا علاقہ وبا سے متاثر ہوچکا ہے اور جابیہ شہر وبا سے محفوظ ہے اس لیے آپ مسلمانوں کو لے کر وہاں چلے جائیں۔ حضرت ابو عبیدہ نے یہ خط پڑھ کر فرمایا: امیر المؤمنین کی یہ بات تو ہم ضرور مانیں گے۔ حضرت ابو موسیٰ کہتے ہیںکہ حضرت ابو عبیدہ نے مجھے حکم دیا کہ میں سوار ہوکر لوگوں کو ان کی قیام گاہوں میں ٹھہراؤں۔ اتنے میں میری بیوی کو بھی طاعون ہوگیا۔ میں (حضرت ابو عبیدہ کو بتانے کے لیے) ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت ابو عبیدہ خود جا کر لوگوں کو اُن کی قیام گاہوں میں ٹھہرانے لگے، پھرخود ان کو طاعون ہوگیا جس میں ان کا انتقال ہوگیا اور پھر طاعون کی وبا ختم ہوگئی۔ حضرت ابو الْمُوجّہ ؓ کہتے ہیں: حضرت ابو عبیدہ کے ساتھ چھتیس ہزار کا لشکر تھا جن میں سے صرف چھ ہزار زندہ بچے (باقی تیس ہزار کا اس طاعون میں انتقال ہوگیا)۔ حضرت سفیان بن عیینہ نے اس سے مختصر روایت نقل کی ہے۔1 حاکم نے اسی روایت کو حضرت سفیان کے واسطہ سے نقل کیا ہے، اس میں یہ ہے کہ حضرت ابو عبیدہ ؓ نے (حضرت عمر ؓ کا خط پڑھ کر) کہا: اللہ تعالیٰ امیر المؤمنین پر رحم فرمائے! وہ ان لوگوں کو بچانا چاہتے ہیں جو اب بچنے والے نہیں ہیں۔ پھر انھوں نے حضرت عمر کو یہ خط لکھا کہ میرے ساتھ مسلمانوں کا ایک لشکر ہے جن میں طاعون کی بیماری پھیلی ہوئی ہے۔ میں اپنی جان بچانے کے لیے ان کو چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔2 ابنِ اسحاق نے حضرت طارق کے واسطہ سے اسی روایت کو نقل کیا ہے، اس میں یہ ہے کہ اے امیر المؤمنین! آپ کو جس وجہ سے میری ضرورت ہے وہ میں سمجھ گیا ہوں۔ میرے ساتھ مسلمانوں کا ایک لشکر ہے، میں اپنی جان بچانے کے لیے ان کو نہیں چھوڑ سکتا ہوں۔ لہٰذا جب تک اللہ تعالیٰ میرے اور ان کے بارے میں فیصلہ نہ کر دے میں ان سے جدا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اے امیر المؤمنین! آپ اپنی قسم کے پورا کرنے سے مجھے معاف فرمائیں اور مجھے اپنے لشکر میں رہنے دیں۔1