خُلَفَا اور اُمرَا کا احترام کرنا اور اُن کے احکامات کی تعمیل کرنا

خُلَفَا اور اُمرَا کا احترام کرنا اور اُن کے احکامات کی تعمیل کرنا

حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالد بن ولید بن مُغیرہ مخزومی کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا۔ اس جماعت میں اُن کے ساتھ حضرت عمار بن یاسر ؓ بھی تھے۔ چناںچہ یہ لوگ (مدینہ منوّرہ سے) روانہ ہوئے اور رات کے آخری حصے میں انھوں نے اس قوم کے قریب جا کر پڑائو ڈالا جس پر صبح حملہ کرنا تھا۔ کسی مخبر نے جا کر اس قوم کو صحابۂ کرام کے آنے کی خبر دی جس پر وہ لوگ بھاگ گئے اور محفوظ مقام پر پہنچ گئے، لیکن اس قوم کا ایک آدمی جو خود اور اس کے گھر والے مسلمان ہو چکے تھے وہیں ٹھہرا رہا۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا تو انھوں نے بھی سامانِ سفر باندھ لیا۔ اس نے گھر والوں سے کہا: میرے واپس آنے تک تم لوگ یہاں ہی ٹھہرو۔ پھر وہ حضرت عمارکے پاس آیا اور اس نے کہا: اے ابو الیَقْظَان! یعنی اے بیدار مغز آدمی! میں اور میرے گھر والے مسلمان ہوچکے ہیں، تو کیا اگرمیں یہاں ٹھہرا رہوں تو میرا یہ اِسلام مجھے کام دے گا، کیوںکہ میری قوم والوں نے تو جب آپ لوگوں کا سنا تو وہ بھاگ گئے؟ حضرت عمار نے اس سے کہا: تم ٹھہرے رہو تمہیں اَمن ہے۔ چناںچہ یہ آدمی اور اس کے گھر والے اپنی جگہ واپس آگئے۔ حضرت خالد نے صبح اس قوم پر حملہ کیا تو پتہ چلا کہ وہ لوگ تو سب جا چکے۔ البتہ وہ آدمی اور اس کے گھر والے وہاں ملے جنھیں حضرت خالدکے ساتھیوں نے پکڑ لیا۔ حضرت عمار نے حضرت خالد سے کہا: اس آدمی کو آپ نہیں پکڑ سکتے کیوںکہ یہ مسلمان ہے۔ حضرت خالدنے کہا: آپ کو اس سے کیا مطلب؟ امیر تو میں ہوں اور مجھ سے پوچھے بغیر کیا آپ پناہ دے سکتے ہیں؟ حضرت عمار نے کہا: ہاں! آپ امیر ہیں اور میں آپ سے پوچھے بغیر پناہ دے سکتا ہو ں، کیوںکہ یہ آدمی ایمان لا چکا ہے۔ اگریہ چاہتا تو یہاں سے جا سکتا تھا جیسے اس کے ساتھی چلے گئے، چوںکہ یہ مسلمان تھا اس وجہ سے میں نے اسے یہاں ٹھہرنے کو کہا تھا۔ اس پر ان دونوں حضرات میں بات بڑھ گئی اور ایک دوسرے کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ نکل گئے۔ جب یہ دونوں حضرات مدینہ پہنچ گئے تو دونوں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عمار نے اس آدمی کے تمام حالات سنائے۔ اس پر حضور ﷺ نے حضرت عمارکے اَمان دینے کو درست قرار دیا، لیکن آیندہ کے لیے امیر کی اجازت کے بغیر پناہ دینے سے منع کر دیا۔ اس پر ان دونوںحضرات میں حضور ﷺ کے سامنے ہی تیزم تازی ہوگئی۔ اس پر حضرت خالد نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے سامنے یہ غلام مجھے سخت الفاظ کہہ رہا ہے؟ اللہ کی قسم! اگر آپ نہ ہوتے تو یہ مجھے کبھی ایسے سخت الفاظ نہ کہتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے خالد! عمار کو کچھ مت کہو، کیوںکہ جو عمار سے بغض رکھے گا اس سے اللہ بغض رکھے گا او ر جو عمارپر لعنت کرے گا اس پر اللہ لعنت کرے گا۔ پھر حضرت عمار وہاں سے اٹھ کر چل دیے۔ (حضور ﷺ کے اس فرمان کا یہ اثر ہوا کہ) حضرت خالد بھی حضرت عمار کے پیچھے چل دیے اور اُن کا کپڑا پکڑ کر انھیں مناتے رہے یہاں تک کہ حضرت عمار ان سے راضی ہوگئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : {اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ}1 تم اللہ کا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو اور تم میں جو لوگ اہلِ حکومت ہیں اُن کا بھی۔ (حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں:) ان حاکموں سے مراد جماعتوں و لشکروں کے امیر ہیں۔ {فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ} 2 پھر اگر کسی امر میں تم باہم اختلاف کرنے لگو تو اس امر کو اللہ تعالیٰ اور رسول کی طرف حوالہ کر لیا کرو۔ ( حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: جب تم اپنے جھگڑے کو اللہ اور رسول ﷺ کی طرف لے جائو گے تو) پھر اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی اس جھگڑ ے کا فیصلہ کریں گے۔ {ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًا o}3 یہ امور سب بہتر ہیں اور ان کا انجام خوش ترہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس طرح کرنے سے انجام اچھا ہو گا۔1 حضرت عوف بن مالک اَشجْعی ؓ فرماتے ہیں: میں بھی ان مسلمانوں کے ساتھ سفر میں گیا جو غزوۂ مُوتہ میں حضرت زید بن حارثہ ؓ کے ساتھ تھے۔ یمن سے لشکر کی مدد کے لیے آنے والے ایک صاحب اس سفرمیںمیرے ساتھی بن گئے۔ اس کے پاس اس کی تلوار کے علاوہ اور کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ ایک مسلمان نے ایک اُونٹ ذبح کیا۔ میرے اس ساتھی نے اس مسلمان سے اُونٹ کی کھال کا ایک ٹکڑا مانگا، انھوں نے اسے ایک ٹکڑا دے دیا جسے لے کر اس نے ڈھال جیسا بنا لیا۔ پھر ہم وہاں سے آگے چلے۔ ہمارا رومی لشکروں سے مقابلہ ہوا۔ ان رومیوں میں ایک آدمی اپنے سرخ گھوڑے پر سوار تھا جس کی زین اور ہتھیار پر سونے کا پانی چڑھا ہوا تھا۔ وہ رومی مسلمانوں کو بڑے زور شور سے قتل کرنے لگا۔ مدد کے لیے آنے والا یمنی ساتھی اس کی تاک میں ایک چٹان کے پیچھے بیٹھ گیا۔ وہ رومی جوںہی اس کے پاس سے گزرا اس نے حملہ کر کے اس کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ وہ رومی زمین پر گر پڑا۔ اس کے اوپر چڑھ کر یمنی نے اسے قتل کردیا اور اس کے گھوڑے اور ہتھیار پر قبضہ کر لیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرما دی تو حضرت خالد بن ولید ؓ نے (جن کو آخر میں مسلمانوں نے امیر بنا لیا تھا) اس یمنی کو بلا کر اس سے مقتول رومی کا سارا سامان لے لیا۔ حضرت عوف کہتے ہیں کہ میں نے حضرت خالدکے پاس جا کر اُن سے کہا: اے خالد! کیا تمہیں معلوم نہیںہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قاتل کے لیے مقتول کے سامان کا فیصلہ کیا تھا؟ حضرت خالد نے کہا: مجھے معلوم ہے، لیکن مجھے یہ سامان بہت زیادہ معلوم ہو رہا ہے۔ میں نے کہا: یا توآپ یہ سامان اس یمنی کو واپس دے دیں، نہیں تو میں رسول اللہ ﷺ سے آپ کی شکایت کروں گا اور پھر آپ کو پتہ چل جائے گا۔ لیکن حضرت خالدنے وہ سامان واپس کرنے سے انکار کردیا۔ (اس سفر سے واپسی پر) ہم لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو میں نے اس یمنی کا قصہ اور جو کچھ حضرت خالدنے کیا تھا وہ سب حضور ﷺ کو بتا یا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے خالد! تم نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے وہ سامان بہت زیادہ معلوم ہوا۔ آپ نے فرمایا: اے خالد! تم نے اس سے جو کچھ لیا ہے وہ اسے واپس کردو۔ حضرت عوف کہتے ہیں: اس پر میں نے حضرت خالدسے کہا: اے خالد! لو میں نے تم سے جو کہاتھا وہ پورا کردیا نا،کہ حضور ﷺ سے شکایت کر کے تمہیں سزا دلوائوں گا؟ حضور ﷺ نے فرمایا: یہ کیا بات ہے؟ میں نے آپ کو ساری تفصیل بتائی۔ اس پر حضور ﷺ ناراض ہو گئے اور آپ نے فرمایا: اے خالد! وہ سامان واپس نہ کرو۔ (اور صحابہ ؓ سے متوجہ ہوکرفرمایا:) کیا تم میری وجہ سے میرے امیروں کو چھوڑ نہیں دیتے؟ (کہ ان کی بے اکرامی نہ کیاکرو، بلکہ ان کا احترام کیاکرو) ان کے اچھے کام تمہارے لیے مفید ہیں اور ان کے برے کا م کا وبال ان ہی پر ہوگا۔ یعنی اگر وہ اچھے اعمال کریں گے تو ان کا فائدہ تمہیںبھی ہو گا، اور اگر وہ غلط کام کریں گے تو اس کا خمیازہ ان کو ہی بھگتنا پڑے گا۔ تمہیں ہر حال میں ان کا اکرام کر نا چاہیے۔1 حضرت راشد بن سعد ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے پاس کچھ مال آیا۔ آپ اس مال کو لوگوں میں تقسیم کرنے لگے۔ آپ کے پاس لوگوں کا بڑا مجمع ہو گیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ مجمع کو چِیرتے ہوئے اُن کے پاس آپہنچے۔ حضرت عمر کو ڑا لے کر اُن پر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: تم تو اس طرح آگے آرہے ہو جیسے کہ تم زمین پر اللہ کے سلطان سے ڈرتے نہیں ہو ۔ میں بھی تمہیں بتانا چا ہتا ہوں کہ اللہ کا سلطان تم سے نہیں ڈرتاہے۔2 حضرت عبد اللہ بن یزید ؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرو بن عاص ؓ کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا۔ اس لشکر میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ بھی تھے۔ جب یہ حضرات لڑائی کی جگہ پہنچے تو حضرت عمرو نے لشکر کو حکم دیا کہ آگ بالکل نہ جلائیں۔ حضرت عمر کو اس پر غصہ آگیا اور انھوں نے جا کر حضرت عمرو سے اس بارے میں بات کرنے کا ارادہ کیا۔ تو حضرت ابو بکر نے انھیں ایسا کرنے سے روکا اور فرمایا: حضور ﷺ نے ان کو تمہارا امیر اس وجہ سے بنا یا ہے کہ وہ جنگی ضروریات کو خوب جانتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر ٹھنڈے پڑگئے (اور حضرت عمرو کے پاس نہ گئے)۔ 1 حضرت جُبَیْر بن نُفَیْرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عِیاض بن غَنَم اَشعری ؓ نے دارا شہر فتح ہو جانے کے بعد اس کے حاکم کو (کوڑوں سے) سزا دی۔ حضرت ہِشام بن حکیم ؓ ان کے پاس آئے اور (حاکم کو سزا دینے پر) ان کو سخت بات کہی۔ چند دن گزرنے کے بعد حضرت ہشام حضرت عیاض کے پاس معذرت کرنے کے لیے آئے اور حضرت عیاض سے (اپنی سختی کی وجہ بتاتے ہوئے) کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اسے ہو گا جو دنیا میں لوگوں کو سب سے زیادہ سخت عذاب دیتا تھا۔ حضرت عیاض نے ان سے کہا: اے ہشام! ہم نے بھی وہ سب کچھ (حضور ﷺ سے) سنا ہے جو آپ نے سنا ہے اور ہم نے بھی وہ سب کچھ دیکھا ہے جو آپ نے دیکھا ہے اور ہم بھی اسی ذاتِ اَقدس ﷺ کی صحبت میں رہے ہیں جن کی صحبت میں آپ رہے ہیں۔ اے ہشام! کیا آپ نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جو کسی بادشاہ کو نصیحت کرنا چاہتا ہو تو اسے علی الاعلان لوگوں کے سامنے نصیحت نہ کرے، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے علیحدگی میں لے جائے (اور تنہائی میں اسے نصیحت کرے)۔ اگر بادشاہ اس کی نصیحت قبول کرلے تو ٹھیک ورنہ اس نے اس بادشاہ کا حق ادا کردیا۔ اور اے ہشام! تم بہت بے باک ہو اور اللہ کے بادشاہ کے خلاف دلیری کرتے ہو، کیا تمہیں اس بات کا ڈر نہیں تھا کہ اللہ کا سلطان تمہیں قتل کر دیتا اور تم اللہ کے بادشاہ کے قتل کیے ہوئے کہلاتے۔2 حضرت زید بن وہب ؓ کہتے ہیں: حضرت حذیفہ ؓ کے زمانہ میں لوگوں نے ایک امیر کی کسی بات پر اعتراض کیا۔ ایک آدمی سب سے بڑی جامع مسجد میں داخل ہو ا اور لوگوں میں سے گزرتاہوا حضرت حذیفہ کے پاس پہنچ گیا۔ وہ ایک حلقہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ آدمی ان کے سر کے قریب کھڑ ے ہو کر کہنے لگا: اے رسول اللہ ﷺ کے صحابی! کیا آپ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہیں کرتے ہیں؟ حضرت حذیفہ نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور وہ آدمی جو کچھ چاہتا تھا اسے سمجھ گئے تو اس سے فرمایا: امر بالمعروف اور نہی عن المنکرواقعی بہت اچھا کام ہے، لیکن یہ سنّت میں سے نہیں ہے کہ تم اپنے امیر پر ہتھیار اٹھائو۔1 حضرت زِیاد بن کُسَیْب عدوی ؓ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عامر باریک کپڑے پہن کر اور بالوں میں کنگھی کر کے لوگوں میں بیان کیا کرتے تھے۔ ایک دن انھوں نے نماز پڑھائی اور پھر اندر چلے گئے اور حضرت ابو بکرہ ؓ منبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ مِرد اس ابو بلال نے کہا: کیا آپ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ لوگوں کے امیر باریک کپڑے پہنتے ہیں اور فاسق لوگوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں؟ حضرت ابو بکرہ نے اُن کی بات سن لی اور اپنے بیٹے اُصَیْلَع سے کہا: ابو بلال کو میرے پاس بلا کر لائو۔ وہ انھیں بلا کر لائے تو اُن سے حضرت ابو بکرہ نے فرمایا: غور سے سنو! تم نے ابھی امیر کے بارے میں جو کہاہے وہ میں نے سن لیا ہے، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو اللہ کے سلطان کا اکرام کرے گا اللہ اس کا اکرام کریںگے، اور جو اللہ کے سلطان کی اِہانت کرے گا اللہ اس کی اِہانت کریں گے۔2 حضرت علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک اَنصاری کو ایک جماعت کا امیر بنا کر بھیجا اور اس جماعت کو تاکید فرمائی کہ اپنے امیر کی بات سنیں اور مانیں۔ چناںچہ (اس سفر میں) امیر کو اُن کی کسی بات پر غصہ آگیا تو اس نے کہا: میرے لیے لکڑیاں جمع کرو۔ چناںچہ انھوں نے لکڑیاں جمع کیں۔ پھر اس امیرنے کہا: آگ جلائو۔ اس پر ان لوگوں نے آگ جلائی۔ پھر اس امیر نے کہا: کیا آپ لوگوں کو حضور ﷺ نے اس بات کا حکم نہیں دیا کہ آپ لوگ میری بات سنو اور مانو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! حکم دیا ہے۔ اس امیر نے کہا: تو پھر تم اس آگ میں داخل ہوجائو۔ (لوگوں کا امتحان لینا مقصود تھا) اس پر لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور یوں کہا: ہم تو آگ سے بھاگ کر حضور ﷺ کے پاس آئے تھے۔ (اتنی دیر میں) اس امیر کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور آگ بھی بجھ گئی۔ جب یہ لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں واپس پہنچے تو حضور ﷺ سے اس قصہ کا ذکر کیا۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: اگر یہ لوگ اس آگ میں داخل ہوجاتے تو کبھی اس سے باہر نہ نکل سکتے۔ (یعنی یہ بات نہیں تھی کہ امیر کے ماننے کی وجہ سے آگ ان کو نہ جلاتی اوریہ زندہ آگ سے باہر آجاتے بلکہ جل کر مرجاتے) امیر کی اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں ضروری ہے (گناہ کے کاموں میںاس کی اطاعت نہ کی جائے)۔ 1 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضورِ اقدس ﷺ اپنے کچھ صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں!معلوم ہے۔ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، میری اطاعت حقیقت میں اللہ کی اطاعت میں شامل ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں! معلوم ہے۔ ہم گواہی دیتے ہیں جس نے آپ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور آپ کی اطاعت اللہ کی اطاعت میں شامل ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی اطاعت میں یہ شامل ہے کہ تم میری اطاعت کرو، اور میری اطاعت میں یہ شامل ہے کہ تم اپنے امیروں کی اطاعت کرو۔ اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔1 حضرت اسماء بنتِ یزید ؓ فرماتی ہیںکہ حضرت ابوذر غِفَاری ؓ حضورِ اَقدس ﷺ کی خدمت کیا کرتے تھے۔ جب حضور ﷺ کی خدمت سے فارغ ہو جاتے تو مسجد میں آجایا کرتے۔ مسجد ہی ان کا گھر تھا، اسی میں وہ لیٹ جایا کرتے تھے۔ ایک رات حضور ﷺ مسجد میں تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت ابو ذر مسجد میں زمین پر لیٹے ہوئے سو رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے ان کو اپنے پائوں سے (اٹھانے کے لیے ہلکی سی) ٹھوکر ماری، وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا میں تمہیں مسجد میں سوتا ہوا نہیںدیکھ رہا ہوں؟ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اور کہاں سوئوں؟ اس مسجد کے علاوہ میرا اور کوئی گھر نہیں ہے۔ پھر حضور ﷺ اُن کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا: جب لوگ تم کو (کسی اجتماعی ضرورت کی وجہ سے) اس مسجد سے نکالیں گے تو تم کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا:میں ملکِ شام چلا جائوں گا، کیوںکہ شام (پہلے انبیا ؑ کی) ہجرت کی جگہ ہے اور وہاں ہی میدانِ حشر ہو گا اور وہ انبیاکی سر ز مین ہے (وہاں بہت نبی ہوئے) اور میں وہاں والوں میں سے بن جائوں گا (یعنی وہیں رہنے لگ جائوں گا)۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جب لوگ تمہیں ملکِ شام سے بھی نکال دیں گے تو پھر کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: میں اسی مسجد میں یعنی مدینہ میں واپس آجائوں گا، یہی میرا گھر اور میری منزل ہوگی۔ آپ نے فرمایا: جب لوگ تمہیں اس مسجد سے یعنی مدینہ سے دوبارہ نکال دیں گے تو پھر تمہارا کیا ہوگا؟ انھوںنے کہا: میں تلوار لے کر مرتے دم تک (اُن سے) لڑتا رہوں گا۔ حضور ﷺ انھیں دیکھ کر مسکرائے اور انھیں ہاتھ سے تھپکی دی اور فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتادوں؟ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! ضرور بتا دیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! حضور ﷺ نے فرمایا: وہ تمہیں آگے سے پکڑ کر جدھر لے جائیں تم اُدھرچلے جانا اور وہ پیچھے سے تمہیں جدھر کو چلائیں تم اُدھر کو چلے جانا، (یعنی جیسے وہ کہیں ویسے کرتے رہنا) یہاں تک کہ اسی حال میں آکر مجھ سے مل لینا۔1 ابنِ جریر نے اس جیسی حدیث خود حضرت ابو ذر ؓ سے نقل کی ہے۔ اس میں یہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: جب تمہیں (مدینہ سے) دوبارہ نکالا جائے گا تو تم کیا کرو گے؟ حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں تلوار لے کر نکالنے والوں کو ماروں گا۔ آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر مارا اور فرمایا: اے ابو ذر! تم (ان نکالنے والوں کو) معاف کر دینا، اور وہ تمہیں آگے سے پکڑ کر جہاں لے جائیں وہاں چلے جانا اور پیچھے سے تمہیںجدھر کو چلائیں تم اُدھر کو چلے جانا (یعنی اُن کی بات مانتے رہنا) چاہے تم کو یہ معاملہ ایک کالے غلام کے ساتھ کیوں نہ کرنا پڑے۔ حضرت ابو ذر کہتے ہیں: جب (امیر المؤمنین حضرت عثمان ؓ کے فرمان پر) میں رَبْذہ رہنے لگا تو ایک دفعہ نماز کی اِقامت ہوئی اور ایک کالا آدمی جو وہاں کے صدقات وصول کرنے پر مقرر تھا، نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھا۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگا اور مجھے آگے کرنے لگا۔ میں نے کہا: تم اپنی جگہ رہو، میں حضور ﷺ کی بات مانوںگا۔2 عبد الرزاق نے حضرت طائوس ؓ سے یہی حدیث نقل کی ہے اور اس میں یہ مضمون ہے کہ جب حضرت ابو ذر ؓ رَبْذہ گئے تو اُن کو وہاں حضرت عثمان ؓ کا ایک کالا غلام ملا۔ اس نے اَذان دی اور اِقامت کہی پھر حضرت ابو ذر سے کہا: اے ابو ذر! (نماز پڑھانے کے لیے) آگے بڑھیں۔ حضرت ابو ذر ؓ نے کہا:نہیں، مجھے تو حضور ﷺ نے حکم دیا ہے کہ میں امیر کی بات سنوں اور مانوں چاہے وہ کالا غلام ہی کیوں نہ ہو۔ چناںچہ وہ غلام آگے بڑھا اور حضرت ابو ذر ؓ نے اس کے پیچھے نماز پڑھی۔3 ابنِ ابی شیبہ اور ابنِ جریر اور بیہقی اورنُعیم بن حماد وغیرہ حضرات حضرت عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: اپنے امیر کی بات سنو اور مانو چاہے تم پر کان کٹا حبشی غلام ہی کیوں نہ امیر بنا دیا گیا ہو۔ اگر وہ تمہیں تکلیف پہنچائے تو اسے برداشت کرو، اور اگر وہ تمہیں کسی کام کا حکم دے تو اسے مانو، اور اگر وہ تمہیں کچھ نہ دے تو صبر کرو، اور اگر وہ تم پر ظلم کرے تو بھی صبر کرو، اور اگر وہ تمہارے دین میں سے کم کرنا چاہے تو اس سے کہہ دو جان حاضر ہے دین نہیں۔(میں جان دے سکتا ہوں لیکن دین میں کمی برداشت نہیں کرسکتا) چاہے کچھ بھی ہو جائے تم جماعت سے جدا نہ ہونا۔1 حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: حضرت علقمہ بن علاثہ رات کے وقت حضرت عمر ؓ سے ملے۔ حضرت عمر (شکل وصورت اور قد میں) حضرت خالد بن ولید ؓ کے مشابہ تھے۔ (حضرت علقمہ ان کو حضرت خالد سمجھے) اور ان سے کہا: اے خالد! تمہیں اس آدمی نے (یعنی حضرت عمر نے) معزول کر دیا۔ انھوں نے تنگ نظری کی وجہ سے ایسا کیا ہے۔ میں اور میرا چچا زاد بھائی ان سے کچھ مانگنے کے لیے ان کے پاس جانا چاہتے تھے، لیکن اب جب کہ انھوں نے آپ کو اَمارت سے ہٹا دیا ہے تو اب میں ان سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ حضرت عمر نے (ان کے آیندہ کے ارادے معلوم کرنے کے لیے حضرت خالد جیسی آواز بنا کر) ان سے کہا: اور کوئی بات؟ پھر اب تمہارا کیا ارادہ ہے؟ حضرت علقمہ نے کہا: ہمارے اُمرا کا ہم پر حق ہے (کہ ہم ہر حال میں ان کے فرماںبردار اور وفادار رہیں) ہم ان کا حق ادا کرتے رہیں گے اور اپنا اجر و ثواب اللہ سے لیں گے۔ ( صحابۂ کرام نے ناگواریوں میں ایک دوسرے سے جڑنا سیکھا ہوا تھا) جب صبح ہوئی (اور حضرت عمر کے پاس حضرت علقمہ اور حضرت خالد اکٹھے ہوئے تو) حضرت عمر نے حضرت خالد سے کہا: آج رات علقمہ نے تم کو کیا کہا تھا؟ حضرت خالدنے کہا: اللہ کی قسم! انھوں نے مجھے کچھ نہیں کہا۔ حضرت عمر نے کہا: اچھا! تم قسم بھی کھاتے ہو۔ ابو نضرہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت علقمہ حضرت خالد ؓ سے کہنے لگے: اے خالد! چھوڑو (قسم نہ کھائو اور اِنکار نہ کرو)۔ سیف بن عمرو کی روایت میں یہ مضمون بھی ہے کہ حضرت عمر نے کہا: یہ دونوں سچے ہیں، دونوں نے ٹھیک کہاہے۔ ابنِ عائذ کی روایت میں یہ مضمون بھی ہے کہ حضرت عمر نے حضرت علقمہ کی فریاد سنی اور ان کی ضرورت پوری کردی۔ زُبیر بن بکّار کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمر نے (رات کو) جب یہ پوچھا تھا کہ تمہارا اب کیا ارادہ ہے؟ تو حضرت علقمہ نے کہاتھا: بات سننے اور ماننے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمرنے فرمایا: میرے پیچھے جتنے آدمی ہیں وہ سب تمہارے ان اچھے جذبات پر ہوں تو مجھے یہ اتنے اور اتنے مال یعنی ساری دنیا کے مال سے زیادہ محبوب ہے۔1 حضرت ابنِ ابی مُلیکہ ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ ایک کوڑھی عورت کے پاس سے گزرے جو کہ بیت اللہ کا طواف کر رہی تھی۔ آپ نے اس سے فرمایا: اے اللہ کی بندی! لوگوں کو تکلیف نہ پہنچائو۔ اگر تم اپنے گھر میں بیٹھی رہو تو یہ زیادہ اچھا ہے۔ چناں چہ (اس نے بیت اللہ کے طواف کے لیے حرم شریف آنا چھوڑ دیا اور) اپنے گھر میں بیٹھ گئی۔ کچھ عرصہ کے بعد ایک آدمی اس عورت کے پاس سے گذرا اور اس سے کہا: جس امیر المؤمنین نے تمہیں طواف کرنے سے روکا تھا ان کا انتقال ہو گیا، لہٰذا اب تم جا کر طواف کرلو۔ اس عورت نے کہا: میں ایسی نہیں ہوں کہ اُن کی زندگی میں تو ان کی بات مانوں اور ان کے مرنے کے بعد ان کی نافرمانی کروں۔2 ایک صاحب کہتے ہیں: میں حضرت علی ؓ کے زمانہ میں (ایک علاقہ کا) چودھری تھا۔ حضرت علی نے ہمیں ایک کام کا حکم دیا۔ (کچھ عرصہ کے بعد) حضرت علی نے فرمایا: میں نے تمہیں جس کام کا حکم دیا تھا کیا تم نے وہ کام کرلیا ہے؟ ہم نے کہا: نہیں۔ حضرت علی نے فرمایا: اللہ کی قسم! تمہیں جو حکم دیا جائے اسے ضرور پورا کرو، نہیں تو تمہاری گردنوںپریہود و نصاریٰ سوار ہوجائیں گے۔3