حضراتِ اہل الرّائے سے مشورہ کرنا
حضرت عمر بن الخطّاب ؓ کا حضراتِ اہلِ رائے سے مشورہ کرنا
حضرت ابو جعفر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو ان کی صاحب زادی حضرت اُمّ کلثوم ؓ سے نکاح کا پیغام دیا تو حضرت علی نے کہا: میں نے یہ طے کر رکھا ہے کہ اپنی بیٹیوں کی شادی صرف جعفر کے بیٹوں سے ہی کروں گا۔ حضرت عمر نے فرمایا: اے علی! تم اس سے میری شادی کردو، کیوںکہ روئے زمین پر کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جو آپ کی اس بیٹی کے ساتھ اچھی زندگی گزار کر وہ اعلیٰ فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہو جو میں حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ (اور اس فضیلت کو حضرت عمر ؓ نے ا ٓگے جا کر بیان فرمایا ہے) اس پر حضرت علی ؓ نے فرمایا: اچھا! میں نے ( اس بیٹی کا آپ سے نکاح) کردیا۔
مہاجرین میں سے حضرت علی، حضرت زُبیر، حضرت طلحہ اورحضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ (حضرت عمر کے مشورے والے حضرات تھے اور یہ حضرات ہر وقت مسجدِ نبوی میں) قبرِ نبوی اور منبر شریف کے درمیان بیٹھے رہتے تھے۔ جب اَطرافِ عالم سے کوئی بات حضرت عمر کے پاس آیا کرتی تو وہ آکر ان کو بتایا کرتے اور اس کے بارے میں ان سے مشورہ کیاکرتے۔ چناںچہ حضرت عمر نے ان حضرات کو آکر کہا: مجھے نکاح کی مبارک باد دو۔ ان حضرات نے حضرت عمر کو مبارک باد دی اور پوچھا: اے امیر المؤمنین! (آپ نے) کس سے (نکاح کیاہے؟) حضرت عمر نے فرمایا: حضرت علی بن ابی طالب کی بیٹی سے۔ پھر انھیں سارا واقعہ تفصیل سے بتانے لگے اور فرمایا: حضور ﷺ نے فرمایاہے کہ میرے تعلق اور رشتہ کے علاوہ ہر تعلق اور رشتہ قیامت کے دن ٹوٹ جائے گا۔ حضور ﷺ کی صحبت تو مجھے حاصل ہے ہی، اب میں نے چاہا کہ (اس نکاح کے ذریعہ حضور ﷺ سے) میرا رشتہ کا تعلق بھی قائم ہو جائے۔1
حضرت عطاء بن یسار ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ حضرت ابنِ عباس ؓ کو بلایا کرتے تھے اور بدر والوں کے ساتھ ان سے بھی مشورہ کیا کرتے تھے۔ اور حضرت ابنِ عباس حضر ت عمر اور حضرت عثمان کے زمانے سے آخر دم تک فتویٰ کا کام انجام دیتے رہے۔ حضرت یعقوب بن زید ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ کو جب بھی کوئی اہم مسئلہ پیش آتا تو وہ حضرت ابنِ عباس سے مشورہ لیتے اور فرماتے: اے غوطہ لگانے والے! (یعنی ہر معاملہ کی گہرائی تک پہنچنے والے) غوطہ لگائو ( اور اس اہم مسئلہ میں اچھی طرح سوچ کر اپنی رائے پیش کرو)۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیںکہ میں نے ایسا کوئی آدمی نہیں دیکھا جو حضرت ابنِ عباس سے زیادہ حاضر دماغ، زیادہ عقل مند، زیادہ علم والا اور زیادہ بُرد بار ہو۔ میں نے حضرت عمر ؓ کو دیکھا ہے کہ وہ حضرت ابنِ عباس ؓکو پیچیدہ اورمشکل مسائل کے پیش آنے پر بلاتے اور فرماتے: یہ ایک پیچیدہ مسئلہ تمہارے سامنے ہے۔ پھر ابنِ عباس ہی کے مشورے پر عمل کرتے حالاںکہ ان کے چاروں طرف بدری حضرات مہاجرین واَنصار کا مجمع ہوتا۔1
حضرت ابنِ شہاب ؓ کہتے ہیں کہ جب بھی حضرت عمر ؓ کو کوئی مشکل مسئلہ پیش آتا تو آپ نوجوانوں کو بلاتے اور ان کی عقل وسمجھ کی تیزی کو اختیار کرتے ہوئے ان سے مشورہ لیتے۔2
امام بیہقی نے حضرت ابنِ سیرین سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ کا مزاج مشورہ کر کے چلنے کا تھا۔ چناںچہ بعض دفعہ مستورات سے بھی مشورہ لے لیا کرتے اور ان مستورات کی رائے میں ان کو کوئی بات اچھی نظر آتی تو اس پر عمل کرلیتے۔3
حضرت محمد، حضرت طلحہ اور حضرت زِیاد ؓ کہتے ہیں کہ (یکم محرم ۱۴ھ کو) حضرت عمر ؓ لشکر لے کر (مدینہ سے) نکلے اور ایک پانی پر پڑائو کیا جس کا نام صِرار تھا۔ (یہ پانی مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر تھا) اور لشکر کو بھی وہاں ٹھہرالیا۔ لوگوں کو پتہ نہیں چل رہا تھا کہ حضرت عمر آگے چلیں گے یا (مدینہ ہی) ٹھہریں گے۔ اور لوگ جب کوئی بات حضرت عمر سے پوچھنا چاہتے تو حضرت عثمان یا حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کے واسطے سے پوچھتے۔ اور حضرت عمر کے زمانے میں ہی حضرت عثمان کا لقب ردیف پڑگیاتھا۔ اور عربوں کی زبان میں ردیف اسے کہتے ہیں جو کسی آدمی کے بعد اس کا قائم مقام ہو اور موجودہ امیر کے بعد اس کے امیر بننے کی امید ہو۔ اور جب یہ دونوں حضرات لوگوں کی وہ بات حضرت عمرسے پوچھنے کی ہمت نہ پاتے تو پھر لوگ حضرت عباس ؓ کو واسطہ بنا تے۔ چناںچہ حضرت عثمان نے حضرت عمر سے پوچھا: آپ کو کیا خبر پہنچی ہے اور آپ کا کیا ارادہ ہے؟ اس پر حضرت عمرنے اعلان کروادیا: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ (اے لوگو! نماز کے عنوان پر جمع ہوجائو)۔ چناںچہ لوگ حضرت عمر کے پاس جمع ہوگئے۔ انھوں نے لوگوں کو (سفر کی) خبر دی،پھر دیکھنے لگے کہ اب لوگ کیا کہتے ہیں؟ تو اکثر لوگوں نے کہا: آپ بھی چلیں اور ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلیں۔ چناںچہ حضرت عمر نے لوگوں کی اس رائے سے اتفاق کیا اور ان کی رائے کو یوں ہی چھوڑ دینا مناسب نہ سمجھا، بلکہ یہ چاہا کہ ان کو اس رائے سے نرمی اور حکمت عملی کے ساتھ ہٹائیں گے (اگر ضرورت پیش آگئی تو)۔ اور فرمایا: خود بھی تیا ر ہو جائو اور دوسروں کو بھی تیار کرو۔ میں بھی (آپ لوگوں کے ساتھ) جائوں گا، لیکن اگر آپ لوگوں کی رائے سے زیادہ اچھی رائے کوئی اور آگئی تو پھر نہیں جائوں گا۔
پھر آپ نے آدمی بھیج کر اہل الرائے حضرات کو بلایا۔ چناںچہ حضور ﷺ کے چیدہ چیدہ صحابہ اور عرب کے چوٹی کے لوگ جمع ہو گئے۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا: میرا خیال ہے کہ میں بھی اس لشکر کے ساتھ چلا جائوں۔ آپ لوگ اس بارے میں اپنی رائے مجھے دیں۔ وہ حضرات سب جمع ہو گئے اور ان سب نے یہی رائے دی کہ حضرت عمر حضورِ اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے کسی آدمی کو (اپنی جگہ) بھیج دیں اور خود حضرت عمر یہاں (مدینہ) ہی ٹھہرے رہیںاور اس آدمی کی مدد کے لیے لشکر بھیجتے رہیں۔ پھر اگر حسبِ منشا فتح ہوگئی تو پھر حضرت عمر کی اور لوگوں کی مراد پوری ہو جائے گی ورنہ حضرت عمر دوسرے آدمی کو بھیج دیں گے اور اس کے ساتھ دوسرا لشکر روانہ کر دیں گے۔ اس طرح کرنے سے دشمن کو غصہ آئے گا اور مسلمان غلطی کرنے سے بچ جائیں گے، اور پھر اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو گا اور اللہ کی مدد آئے گی۔ پھر حضرت عمرنے اعلان کروایا: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ۔ چناںچہ حضرت عمر کے پاس مسلمان جمع ہو گئے۔ حضرت عمر نے مدینہ میں اپنی جگہ حضرت علی ؓ کو خلیفہ مقرر کیا تھا، انھیںبلانے کے لیے حضرت عمر نے آدمی بھیجا وہ بھی آگئے۔ حضرت طلحہ ؓکو حضرت عمر نے مقدمۃ الجیش پر مقرر فرما کر آگے بھیجا ہوا تھا انھیں بھی آدمی بھیج کربلایاوہ بھی آگئے۔ اس لشکر کے میمنہ اور مَیسرہ پر حضرت زُبیر اور حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کومقرر کیا ہوا تھا۔
حضرت عمر نے لوگوں میں کھڑے ہو کر یہ بیا ن کیا:
بے شک اللہ عزّوجل نے مسلمانوں کو اسلام پر جمع فرما دیا اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت پیدا کردی اور اسلام کی وجہ سے ان کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔ اور مسلمان آپس میں ایک جسم کی طرح ہیں۔ ایک عضو کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ باقی تمام اَعضا کو بھی پہنچتی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو ایک جسم کے اَعضاکی طرح ہونا چاہیے (کہ ایک مسلمان کی تکلیف سے سب کو تکلیف ہو)۔ اور مسلمانوں کا ہر کام حضراتِ اہلِ شوریٰ کے مشورے سے طے ہونا چاہیے۔ عام مسلمان اپنے امیر کے تابع ہیں۔ اور ا ہلِ شوریٰ جس چیز پر اتفاق کرلیں اور اسے پسند کرلیں تو تمام مسلمانوں کے لیے اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اور جو مسلمانوں کا امیر بنے وہ ان اہلِ شوریٰ کاتابع ہے۔ اسی طرح جنگی تدابیر میں جو اہلِ شوریٰ کی رائے ہو اور جس تدبیر پر اہلِ شوریٰ راضی ہو ں اس میں تمام مسلمان ان کے تابع ہیں۔ اے لوگو! میں بھی تم میں سے ایک آدمی تھا، (اور میرا بھی تمہارے ساتھ جانے کا ارادہ تھا) لیکن تمہارے اہلِ شوریٰ نے مجھے جانے سے روک دیا ہے۔ اب میری بھی یہ ہی رائے ہے کہ میں (مدینہ ہی) ٹھہروں اور (اپنی جگہ) کسی دوسرے کو (امیر بنا کر) بھیج دوں۔ اور میں جن کو آگے بھیج چکا تھا یا پیچھے (مدینہ) چھوڑ آیا تھا (اور جو یہاں موجود تھے) میں ان سب سے اس بارے میں مشورہ کر چکا ہوں۔
حضرت عمر پیچھے مدینہ میں حضرت علی کو اپنا خلیفہ بنا کر آئے تھے اور مقدمۃ الجیش پر امیر بنا کر حضرت طلحہ کو آگے اَعْوَص مقام پر بھیج رکھا تھا۔ چناںچہ حضرت عمرنے ان دونوں کو بھی بلا کر اس مشورہ میں شریک کیا تھا۔1
ابنِ جریر حضرت عمر بن عبد العزیز ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر ؓکو حضرت ابو عبید بن مسعود ؓ کے شہید ہونے کی اطلاع ملی اور یہ پتہ چلا کہ اہلِ فارس کسریٰ کے خاندان کے ایک آدمی (کی اَمارت) پر جمع ہو رہے ہیں، تو حضرت عمرنے اعلان کر کے حضراتِ مہاجرین اور اَنصار کو جمع فرمایا اور ان کو اپنے ساتھ لے کر (مدینہ سے) باہر نکلے یہاں تک کہ صِرَار مقام پر پہنچ گئے۔ آگے مختصر حدیث ذکر کی جیسے کہ پہلے گزر چکی ہے۔
امام طبرانی حضرت محمد بن سلام بِیکِنْدی ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن معد یکرب ؓ نے زمانۂ جاہلیت میں بہت سے کارنامے کیے تھے اور انھوں نے اسلام کا زمانہ بھی پایا ہے۔ حضور ﷺ کی خدمت میں وفد کے ہمراہ آئے تھے۔ اور حضرت عمر بن الخطّاب ؓ نے ان کو حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے پاس قادسیّہ بھیجا تھا اور وہاں انھوں نے اپنی بہادری کے بڑے جوہر دکھا ئے تھے۔ حضرت عمر نے حضرت سعدکو خط میں یہ لکھا تھا کہ میں تمہاری مدد کے لیے دو ہزار آدمی بھیج رہا ہوں: ایک حضرت عمرو بن معدیکرب اور دوسرے حضرت طُلَیحہ بن خُوَیْلد اسدی ؓ ہیں۔ (یعنی یہ دونوں اتنے بہادر ہیںکہ ان میں سے ہر ایک ہزار آدمیوں کے برابرہے) ان دونوں سے جنگی امور میں مشورہ کرتے رہنا، لیکن ان کو کسی کا ذمہ دار نہ بنانا۔1