حضراتِ اہل الرّائے سے مشورہ کرنا

حضور ﷺ کا اپنے صحابہ ؓ سے مشورہ کرنا

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ کو ابو سفیان (کے لشکر) کے آنے کی خبر ملی تو حضور ﷺ نے اپنے صحابہ سے مشورہ فرمایا۔ حضرت ابو بکر ؓ نے کچھ بات فرمائی، حضور ﷺ نے ان سے اعراض فرمالیا۔ پھر حضرت عمر ؓ نے کچھ بات فرمائی، حضور ﷺ نے ان سے بھی اعراض فرمالیا۔ آگے حدیث کا اور مضمون بھی ہے جو کہ جہاد کے باب کے شروع میں حصہ اول صفحہ ۵۱۲ پرگزر چکاہے۔1 امام احمد اور امام مسلم بدر کے واقعہ میں حضرت عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں۔ اس میں یہ مضمون بھی ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابو بکر، حضرت علی اور حضرت عمر ؓ سے مشورہ لیا (کہ بدر کے قیدیوں کے ساتھ کیا کیا جائے؟) توحضرت ابوبکرنے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ لوگ (ہمارے) چچا کے بیٹے، خاندان کے لوگ اور بھائی ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں (اور انھیں چھوڑ دیں) تو ہم ان سے جو فدیہ لیں گے وہ کفار سے مقابلہ کے لیے ہماری قوت کا ذریعہ بنے گا اور ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے دے تو پھر یہ ہمارے دست وبازو بن جائیں گے۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا: اے ابن الخطّاب! تمہاری کیا رائے ہے؟ میںنے عرض کیا: اللہ کی قسم! جو حضرت ابو بکر ؓ کی رائے ہے وہ میری رائے نہیں ہے، بلکہ میری رائے تو یہ ہے کہ فلاں آدمی جو میرا قریبی رشتہ دار ہے وہ میرے حوالہ کردیں میں اس کی گردن اڑا دوں، اور عقیل کو حضرت علی کے حوالہ کردیں وہ عقیل کی گردن اڑا دیں، اور فلاں آدمی جو حضرت حمزہ ؓ کے بھائی ہیں یعنی حضرت عباس وہ حضرت حمزہ کے حوالہ کردیں حضرت حمزہ ان کی گردن اڑادیں، تا کہ اللہ تعالیٰ کو پتہ چل جائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکوں کے بارے میں کسی قسم کی نرمی نہیں ہے۔ یہ لوگ قریش کے سردار اور امام اور قائد ہیں۔ حضور ﷺ نے حضرت ابو بکر کی رائے کو پسند فرمایااور میری رائے آپ کو پسند نہ آئی اور ان قیدیوں سے فدیہ لے لیا۔ اگلے دن میں حضور ﷺ اور حضرت ابو بکر کی خدمت میں گیا تو وہ دونوں رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے بتائیں کہ آپ اور آپ کے ساتھی کیوں رو رہے ہیں؟ اگر (رونے کی وجہ معلوم ہونے پر) مجھے بھی رونا آگیا تو میں بھی رونے لگ جائوں گا، اور اگر رونا نہ آیا تو آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے میں بھی بہ تکلّف رونے کی صورت بنا لوں گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: میں اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ تمہارے ساتھیوں نے ان قیدیوں سے جو فدیہ لیا ہے اس کی وجہ سے اللہ کا عذاب اس درخت سے بھی زیادہ قریب آگیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اُتاری ہے: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ اَسْرٰی}1 جس کا ترجمہ یہ ہے: نبی کی شان کے لایق نہیں کہ ان کے قیدی باقی رہیں ( بلکہ قتل کر دیے جائیں) جب تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون ریزی نہ کر لیں۔ تم تو دنیا کا مال واسباب چاہتے ہو اور اللہ تعالیٰ آخرت (کی مصلحت) کو چاہتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ بڑے زبر دست بڑی حکمت والے ہیں۔2 امام احمد حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے صحابۂ کرام ؓ سے جنگِ بدر کے موقع پر قیدیوں کے بارے میں مشورہ فرمایا تو ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان لوگوں پر قابو دے دیا ہے۔ (بتائو اب ان کے ساتھ کیاکرناچاہیے؟) حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان لوگوں کی گردنیں اڑا دیں۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے حضرت عمر کی طرف سے چہرہ پھیر لیا۔ حضور ﷺ نے دوبارہ متوجہ ہو کر فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان لوگوں پر قابو دے دیاہے اور یہ لوگ کل تمہارے بھائی ہی تھے (لہٰذا ان کے ساتھ نرمی کا برتائو ہونا چاہیے)۔ حضرت عمر نے دوبارہ وہی رائے پیش کی، حضور ﷺ نے ان کی طرف سے چہرہ پھیر لیا۔ حضور ﷺ نے پھر متوجہ ہو کر وہی بات ارشاد فرمائی۔ اس مرتبہ حضرت ابو بکر ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری رائے یہ ہے کہ آپ ان کو معاف کر دیں اور ان سے فدیہ قبول فرما لیں۔ (یہ سن کر) حضور ﷺ کے چہرۂ مبارک سے غم اور پریشانی کا اثر دور ہو گیا۔ پھر آپ نے ان کو معاف فرما دیا اور ان سے فدیہ لینا قبول فرمالیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {لَوْلَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَا اَخَذْتُمْ}1 اگر خدا تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہو چکتا تو جو امر تم نے اختیار کیا ہے اس کے بارے میں تم پر کوئی بڑی سزا واقع ہوتی۔2 (حضور ﷺ کا فدیہ لینے کی رائے کی طرف رجحان صرف صلہ رحمی اور رحم دلی کی وجہ سے تھا۔ البتہ بعض صحابہ ؓ نے صرف مالی فوائد کو سامنے رکھ کر یہ رائے دی تھی، اور اکثر صحابہ ؓ نے دوسری دینی مصلحتوں اور اخلاقی پہلو کے ساتھ مالی ضروریات کو بھی ملحوظ رکھتے ہوئے یہ رائے دی تھی۔ اور فدیہ لے کر چھوڑ دینا اس وقت کے حالات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ہاں غلطی قرار دیا گیا، اور یہ غلطی تھی تو ایسی کہ ان لوگوں کو سخت سزادی جاتی جنھوں نے دنیوی سامان کا خیال کر کے ایسا مشورہ دیا تھا، مگر سزا دینے سے وہ چیز مانع ہے جو اللہ پہلے سے لکھ چکا اور طے کرچکا ہے۔ اوروہ کئی باتیں ہو سکتی ہیں: ! مجتہد کو اس قسم کی اجتہادی خطا پر عذاب نہیں ہوگا۔ @ اہلِ بدر کی خطائوں کو اللہ معاف فرما چکا ہے۔ # ان قیدیوں میں سے بہت سوں کی قسمت میں اسلام لا نا لکھا گیا تھا وغیرہ۔) حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جنگِ بدر کے دن حضورِ اَقدس ﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا: تم ان قیدیوں کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ حضرت ابو بکر ؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! یہ لوگ آپ کی قوم اور آپ کے خاندان کے ہیں، ان کو (معاف فرما کر دنیا میں) باقی رکھیں اور ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرمائیں، شاید اللہ تعالیٰ ان کو (کفر وشرک سے) توبہ کی توفیق دے دے۔ اور پھر حضرت عمر ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انھوں نے آپ کو (مکہ سے) نکالا اور آپ کو جھٹلا یا۔ آپ ان کو اپنے پاس بلائیں اور ان سب کی گردنیں اُڑا دیں۔ اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ نے یہ رائے پیش کی کہ یا رسول اللہ! آپ گھنے درختوں والا جنگل تلاش کریں، پھر ان لوگوں کو اس جنگل میں داخل کر کے اوپر سے آگ جلا دیں۔ حضور ﷺ نے (سب کی رائے سنی اور) کوئی فیصلہ نہ فرمایا اور (اپنے خیمہ) میں تشریف لے گئے۔ (لوگ آپس میں باتیں کرنے لگے) بعض نے کہا: آپ حضرت ابو بکر کی رائے پر عمل کریں گے اور بعض نے کہا: آپ حضرت عمر کی رائے پر عمل کریں گے اوربعض نے کہا: آپ حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی رائے پر عمل کریں گے۔ پھر آپ لوگوں کے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے دلوں کو اپنے بارے میں اتنا نرم فرما دیتے ہیں وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہو جاتے ہیں اور بعض لوگوں کے دلوں کو اپنے بارے میں اتنا سخت فرما دیتے ہیں وہ پتھرسے بھی زیادہ سخت ہو جاتے ہیں۔ اور اے ابو بکر! تمہاری مثال حضرت ابراہیم ؑ جیسی ہے کیوںکہ انھوںنے فرمایاتھا: {فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ ج وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ o}1 پھر جو شخص میری راہ پر چلے گا وہ تو میرا ہی ہے۔اور جو شخص (اس باب میں) میرا کہنا نہ مانے سو آپ تو کثیر المغفرت کثیر الرحمت ہیں۔ اور اے ابو بکر! تمہا ری مثال حضرت عیسیٰ ؑ جیسی ہے کیوںکہ انھوں نے فرمایا: {اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ ج وَاِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ o}2 اور اگر آپ ان کو سزا دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں، اور اگر آپ ان کو معاف فرما دیں تو آپ زبر دست حکمت والے ہیں۔ اوراے عمر! تمہاری مثال حضرت نوح ؑ جیسی ہے کیوںکہ انھوں نے فرمایا تھا: {رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰـفِرِیْنَ دَیَّارًا o}1 اے ربّ!نہ چھوڑیو زمین پر منکروں کا ایک گھر بسنے والا۔ اور اے عمر! تمہاری مثال حضرت موسیٰ ؑ جیسی ہے کیوںکہ انھوں نے فرمایاتھا: {رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰی اَمْوَالِھِمْ وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ o}2 اے ہمارے ربّ! ان کے مالوں کو نیست و نا بود کر دیجیے اور ان کے دلوں کو زیادہ سخت کر دیجیے (جس سے ہلا کت کے مستحق ہو جائیں) سویہ ایمان نہ لانے پاویں یہاں تک کہ عذابِ اَلیم (کے مستحق ہوکر) اس کو دیکھ لیں۔ (پھر حضور ﷺ نے فرمایا:) چوںکہ تم ضرورت مند ہو اس وجہ سے ان قیدیوں میں سے ہر قیدی یا تو فدیہ دے گا یا پھر اس کی گردن اُڑا دی جائے گی۔ حضرت عبد اللہ (بن مسعود ؓ) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس حکم سے سہیل بن بیضا کو مستثنیٰ قرار دیا جائے، کیوںکہ میں نے ان کو اسلام کا بھلائی کے ساتھ تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔ (یہ سن کر) حضور ﷺ خاموش رہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیںکہ اس دن جتنا مجھے اپنے اوپر آسمان سے پتھروں کے برسنے کا ڈر لگا اتنا مجھے کبھی نہیں لگا۔ (ڈر اس وجہ سے تھا کہ کہیں حضور ﷺ سے نامناسب بات کی فرمایش نہ کردی ہو) آخر حضور ﷺ نے فرما ہی دیا کہ سہیل بن بیضا کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ نے {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ اَسْرٰی}سے لے کر دو آیتیںنازل فرمائیں۔3 حضرت زُہری ؓ کہتے ہیںکہ جب مسلمانوں پر (غزوۂ خندق کے موقع پر) مصیبت سخت ہو گئی تو حضور ﷺ نے قبیلۂ غَطَفان کے دو سرداروں عیینہ بن حصن اورحارث بن عوف مُرِّی کو بلا بھیجا۔ اور ان کو مدینہ کا تہائی پھل اس شرط پر دینے کا ارادہ فرمایا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو آپ کے اور آپ کے صحابہ کے مقابلہ سے واپس لے جائیں۔ چناںچہ آپ کے اور ان کے درمیان صلح کی بات شروع ہوگئی حتیٰ کہ انھوں نے صلح نامہ بھی لکھ لیا، لیکن ابھی تک گواہیاں نہیں لکھی گئی تھیں اور صلح کا مکمل فیصلہ نہیں ہوا تھا صرف ایک دوسرے کو آمادہ کرنے کی باتیں چل رہی تھیں۔ جب آپ نے اس طرح صلح کرلینے کا پختہ فیصلہ فرما لیا تو آپ نے حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ ؓ کو بلا کر اس صلح کا ان سے تذکرہ فرمایا اور ان دونوں سے اس بارے میں مشورہ کیا۔ تو ان دونوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ صلح کا کام آپ کو پسند ہے اس لیے آپ اس کو کر رہے ہیں، یا اللہ نے آ پ کو اس صلح کرنے کا حکم دیا ہے جس پر عمل کرنا ہمارے لیے ضروری ہے، یا یہ صلح ہمارے فائدے کے لیے کر رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میںیہ صلح تمہارے فائدے کے لیے کر رہا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں یہ صلح اس وجہ سے کرنا چاہتاہوں کیوںکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ سارے عرب والے ایک کمان سے تم پر تیر چلا رہے ہیں، یعنی سارے تمہارے خلاف متحد ہو گئے ہیں اور ہر طرف سے کھلم کھلا تمہاری دشمنی کر رہے ہیں، تو میں نے یہ سوچا کہ (یوں صلح کر کے) ان کی طاقت کو کچھ تو توڑ دوں۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اور یہ لوگ پہلے اللہ کے ساتھ شریک کرنے اور بتوں کی عبادت میں اکٹھے تھے۔ ہم اللہ کی عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ ہم اللہ کو پہچانتے بھی نہیںتھے۔ تو اس زمانے میں ہماری ایک کھجور بھی زبردستی کھا لینے کا ان میں حوصلہ نہیں تھا۔ ہاں! ہمارے مہمان بن جاتے یا ہم سے خر ید لیتے تو پھر یہ ہماری کھجور کھا سکتے تھے۔ تو اب جب کہ اللہ نے ہمیں اسلام کا شرف عطا فرمایا اور ہمیں اسلام کی ہدایت دی اور آپ کے ذریعہ اسلام دے کر ہمیں عزّت عطا فرما دی تواب ہم خود اپنے پھل انھیں دے دیں؟ (یہ ہر گز نہیں ہو سکتا) اللہ کی قسم! ہمیںاس صلح کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! ہم ان کو تلوار کے علاوہ اور کچھ نہیں دیں گے یہاں تک کہ اللہ ہی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: تم جانو اور تمہا را کام (تمہا ری رائے صلح کرنے کی نہیں ہے تو پھر ہم نہیں کرتے)۔ چناںچہ حضرت سعد بن معاذ ؓ نے وہ صلح نامہ لیا اور اس میں جو کچھ لکھا ہواتھا وہ مٹا دیا اور کہاکہ وہ ہمارے خلاف اپنا سارا زور لگاکردیکھ لیں۔1 حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حارث حضور ﷺ کی خدمت میں (غزوۂ خندق کے موقع پر) آ کر کہنے لگا: ہمیں مدینہ کی آدھی کھجوریں دے دو ورنہ میں آپ کے خلاف مدینہ کو سوار اور پیدل لشکر سے بھر دوں گا۔ حضورﷺ نے فرمایا: میں حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت سعد بن معاذ سے مشورہ کر کے بتاتا ہوں۔ (آپ نے جا کر ان دونوں حضرات سے مشورہ کیا) ان دونوں نے کہا: نہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔ اللہ کی قسم! ہم تو زمانۂ جاہلیت میں کبھی ایسی ذلّت والی بات پر راضی نہیں ہوئے تو اب جب کہ اللہ نے ہمیں اسلام سے نواز دیا ہے تو اس ذلت والی بات پر ہم کیسے راضی ہو سکتے ہیں۔ حضور ﷺ نے واپس آ کر حارث کو یہ جواب بتایا۔ اس نے کہا: اے محمد! آپ نے (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ!) بد عہدی کی۔2 طبرانی نے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ حارث غَطفانی نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: ہمیں مدینہ کی آدھی کھجوریں دے دو۔ حضور ﷺ نے فرمایا: سعد نامی لوگوں سے مشورہ کر کے بتاتا ہوں۔ چناںچہ آپ نے حضرت سعد بن معاذ، حضرت سعد بن عبادہ، حضرت سعد بن الربیع، حضرت سعد بن خیثمہ اور حضرت سعد بن مسعود ؓ کو بلا کر فرمایا: مجھے معلوم ہے سارے عرب کے لوگ تم کو ایک کمان سے تیر مار رہے ہیں، یعنی وہ سب تمہارے خلاف متحد ہو چکے ہیں، اور حارث تم سے مدینہ کی آدھی کھجوریں مانگ رہا ہے۔ تو اگر تم چاہو تو اس سال اسے آدھی کھجوریں دے دو، آیندہ تم دیکھ لینا۔ ان حضرات نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ آسمان سے وحی آئی ہے؟ پھر تو اس کے آگے سرِ تسلیم خم ہے، یایہ آپ کی اپنی رائے ہے تو ہم آپ کی رائے پر عمل کریں گے، لیکن اگر آپ ہم پر شفقت کی وجہ سے یہ فرما رہے ہیں تو اللہ کی قسم! آپ دیکھ ہی چکے ہیں کہ ہم اور یہ برابر ہیں۔ یہ ہم سے ایک کھجور بھی زبردستی نہیں لے سکتے، ہاں خرید کر یا مہمان بن کر لے سکتے ہیں۔ (ان حضرات سے) حضور ﷺ نے فرمایا: ہاں! میں تو شفقت کی وجہ سے کہہ رہا تھا۔ (اور پھر حارث سے کہا:) تم سن رہے ہو کہ یہ حضرات کیا کہہ رہے ہیں؟ حارث نے کہا: اے محمد! آپ نے ( معاذاللہ!) بد عہدی کی ہے۔1 حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضورِ اَقدس ﷺ مسلمانوں کے اس طرح کے امور کے بارے میں رات کے وقت حضرت ابو بکر ؓ سے (مشورہ کے لیے) گفتگو فرماتے اور میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا۔2