صحابۂ کرام ؓکا باہمی اتحاد اور اتفاق رائے کا اہتمام کرنا
خلافت کا بوجھ کون اٹھائے ؟ یعنی خلیفہ میں کن صفات کا ہو نا ضروری ہے
حضرت عاصم ؓ کہتے ہیں: حضرت ابو بکر ؓ نے اپنی بیماری میں لوگوں کو جمع کیا، پھر ایک آدمی کو حکم دیا جو آپ کو اُٹھا کر منبر پر لے گیا۔ چناںچہ یہ آپ کا آخری بیان تھا۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا:
اے لوگو! دنیاسے بچ کررہو اور اس پر بھروسہ نہ کرو۔ یہ بہت دھوکہ باز ہے۔ اور آخرت کو دنیا پر ترجیح دو اور اس سے محبت کرو، کیوںکہ ان دونوں میں سے کسی ایک سے محبت کرنے سے ہی دوسرے سے بُغض پیدا ہوتاہے۔ اور ہمارے تمام معاملات امرِ خلافت کے تابع ہیں۔ اس امرِ خلافت کے آخری حصہ کی اصلاح اسی طریقہ سے ہو گی جس طریقہ سے اس کے ابتدائی حصہ کی ہوئی تھی۔ اس امرِ خلافت کا بوجھ وہی اٹھا سکتا ہے جو تم میں زیادہ طاقت والا ہو اور اپنے نفس پر سب سے زیادہ قابو پانے والا ہو۔ سختی کے موقع پر خوب سخت اور نرمی کے موقع پر خوب نرم ہو۔ اور شوریٰ والے اہلِ رائے کی رائے کو خوب جانتا ہو۔ لایعنی میں مشغول نہ ہوتا ہو۔ جو بات ابھی پیش نہ آئی ہو اس کی وجہ سے غمگین و پریشان نہ ہو۔ علم سیکھنے سے شرماتا نہ ہو۔ اچانک پیش آجانے والے کام سے گھبرا تانہ ہو۔ مال کے سنبھالنے میں خوب مضبوط ہو اور غصہ میں آکر کمی زیادتی کر کے مال میں خیانت بالکل نہ کرے۔ اورآیندہ پیش آنے والے امور کے لیے تیاری رکھے۔ اور احتیاط اور چوکناپن اور اطاعتِ خداوندی سے بر وقت آراستہ ہو۔ اور ان تما م صفات کے حامل حضرت عمر بن خطّاب ہیں۔
یہ بیان فر ماکر حضرت ابو بکر ؓ منبر سے نیچے تشریف لے آئے ۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عمر ؓ کی ایسی خدمت کی کہ ان کے گھر والوں میں کوئی بھی ویسی نہ کرسکا۔ اورمیں نے ان کے ساتھ شفقت کا ایسا معاملہ کیا کہ ان کے گھر والوں میں سے کوئی بھی ویسا نہ کرسکا۔ ایک دن میں ان کے گھر میں ان کے ساتھ تنہائی میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ مجھے اپنے پاس بٹھا یا کرتے تھے اور میر ا بہت اِکرام فرمایاکرتے تھے۔ اتنے میں انھوں نے اتنے زور سے آہ بھری کہ مجھے خیال ہوا کہ اس سے ان کی جان نکل جائے گی۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ نے یہ آہ کسی چیز سے گھبرا کر بھری ہے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں! گھبرا کر بھری ہے۔ میں نے پوچھا: وہ کیا چیز ہے؟ انھوں نے فرمایا: ذرا نزدیک آجائو۔ چناںچہ میں اُن کے بالکل قریب ہو گیا تو فرمایا: میں کسی کو اس امرِ خلافت کا اہل نہیں پا رہا ہوں۔ میں نے کہا: فلاںاور فلاں، فلاںاورفلاں، فلاں اورفلاں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ اور حضرت ابنِ عباس نے ان کے سامنے چھ اہلِ شوریٰ کے نام گنائے۔ جواب میں حضرت عمر ؓ نے ان چھ میں سے ہر ایک کے بارے میں کچھ نہ کچھ بات فرمائی۔ پھر فرمایا: اس امرِ خلافت کی صلاحیت صرف وہی آدمی رکھتا ہے جو مضبوط ہو، لیکن سخت اور درشت نہ ہو، نرم ہو لیکن کمزور نہ ہو، سخی ہو لیکن فضول خرچ نہ ہو، احتیاط سے خرچ کرنے والا ہو لیکن کنجوس نہ ہو۔ 2
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں انھوں نے اتنے زور سے سانس لیا کہ میں سمجھا کہ اُن کی پسلیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے کسی بڑی پریشانی کی وجہ سے اتنا لمبا سانس لیا ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں! کسی بڑی پریشانی کی وجہ سے لیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں اپنے بعد یہ امرِ خلافت کس کے سپر د کروں؟ پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: شاید تم اپنے ساتھی (حضرت علی ؓ) کو اس امرِ خلافت کا اہل سمجھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں! بے شک وہ اس امرِ خلافت کے اہل ہیں، کیوںکہ وہ شروع میں مسلمان ہوئے تھے اور بڑے فضل وکمال والے ہیں۔ انھوں نے فرمایا: بے شک وہ ایسے ہی ہیں جیسے تم نے کہا، لیکن وہ ایسے آدمی ہیںکہ ان میں دِل لگی اور مذاق کی عادت ہے۔ پھر ان کا تذکرہ کرتے رہے اور پھر فرمایا: اس امرِ خلافت کی صلاحیت صرف وہ آدمی رکھتا ہے جو مضبوط ہو لیکن درشت نہ ہو، اور نرم ہو لیکن کمزور نہ ہو، اور سخی ہو لیکن فضول خرچ نہ ہو، اور احتیاط سے خرچ کرنے والا ہو لیکن کنجوس نہ ہو۔ حضرت ابنِ عباس ؓ فرمایاکرتے تھے کہ یہ تمام صفات تو صرف حضرت عمر ؓ ہی میں پائی جاتی تھیں۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر ؓ کی خدمت کیا کر تا تھا، ان سے ڈرا بھی بہت کرتا تھا اور ان کی تعظیم بھی بہت کیا کرتا تھا۔ میں ایک دن ان کی خدمت میں ان کے گھر حاضر ہوا وہ اکیلے بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے اتنے زور سے سانس لیا کہ میں سمجھا کہ ان کی جان نکل گئی ہے۔ پھر انھوں نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر بہت لمبا سانس لیا۔ میں نے ہمت سے کام لیا اور کہا: میںان سے اس بارے میں ضرور پوچھوں گا۔ چناںچہ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے کسی بڑی پریشانی کی وجہ سے اتنا لمبا سانس لیا ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! مجھے سخت پریشانی ہے اور وہ یہ ہے کہ مجھے کوئی بھی اس امرِ خلافت کا اہل نہیں مل رہا ہے۔ پھر فرمایا: شاید تم یوں کہتے ہوگے کہ تمہارے ساتھی یعنی حضرت علی ؓ اس امرِ خلافت کے اہل ہیں؟ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! انھیں ہجرت کی سعادت بھی حاصل ہے اور وہ حضور ﷺ کے صحبت یافتہ بھی ہیں اورحضور ﷺ کے رشتہ دار بھی ہیں۔ کیا وہ ان تمام اُمور کی وجہ سے خلافت کے اہل نہیں ہیں؟ حضرت عمر نے فرمایا: تم جیسے کہہ رہے ہو وہ ایسے ہی ہیں، لیکن ان کی طبیعت میں مزاح اور دِل لگی ہے۔ پھر وہ حضرت علی ؓ کا تذکرہ فرماتے رہے۔
پھر یہ فرمایاکہ خلافت کی ذمہ داری صرف وہی شخص اٹھا سکتاہے جو نرم ہو لیکن کمزور نہ ہو۔اور مضبوط ہو لیکن سخت نہ ہو۔ اورسخی ہو لیکن فضول خرچ نہ ہو۔ اوراحتیاط سے خرچ کرنے والا ہو لیکن کنجوس نہ ہو۔ اور پھر فرمایا: اس خلافت کو سنبھالنے کی طاقت صرف وہی آدمی رکھتا ہے جو بدلہ لینے کے لیے دوسروں سے حسنِ سلوک نہ کرے، اور ریا کاروں کی مشابہت اختیار نہ کرے، اور لالچ میں نہ پڑے۔ اور اللہ کی طرف سے سونپی ہوئی خلافت کی ذمہ داری کی طاقت صرف وہی آدمی رکھتا ہے جو اپنی زبان سے ایسی بات نہ کہے جس کی وجہ سے اپناعزم توڑنا پڑے اوراپنی جماعت کے خلاف بھی حق کا فیصلہ کرسکے۔2
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں: اس امرِ خلافت کا ذمہ دار اس شخص کو ہی بننا چاہیے جس میں یہ خوبیاں پائی جاتی ہوں: نرمی ہو لیکن کمزوری نہ ہو، مضبوطی ہو لیکن درشتی نہ ہو، احتیاط سے خرچ کرتا ہو لیکن کنجوسی نہ ہو اورسخاوت ہولیکن فضول خرچی نہ ہو۔ اگر اس میں ان میں اسے ایک خوبی بھی نہ ہوئی تو باقی تینوں خوبیاں بے کارہو جائیںگی۔1
حضرت عمر ؓ فر ما تے ہیں: اللہ کے اس کام کو ٹھیک طرح سے وہی کر سکتا ہے جو بد لہ لینے کے لیے دوسروں سے حسنِ سلوک نہ کرے، اور ریاکاروںکی مشابہت اختیارنہ کرے، اورلالچ میںنہ پڑے۔ اس میںاپنی عزّت بنانے کا جذبہ نہ ہو، اور تیزی اور غصہ کے باوجود حق کو نہ چھپائے۔2
حضرت سفیان بن ابی العَوْجاء ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ فرمایا: خدا کی قسم! مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ ہوں؟ اگر میں بادشاہ ہوں تو یہ بڑے (خطرے کی) بات ہے۔ (حاضرین میں سے) ایک نے کہا: ان دونوں میں تو بڑا فرق ہے۔ خلیفہ تو ہر چیزحق کی وجہ سے لیتا ہے اور پھر اسے حق میں ہی خرچ کر تاہے، اور اللہ کے فضل سے آپ ایسے ہی ہیں۔ اور بادشاہ لوگوں پر ظلم کرتاہے، ایک سے زبردستی لیتا ہے اور دوسرے کو ناحق دیتا ہے۔ (یہ سن کر) حضرت عمر ؓ خاموش ہو گئے۔3
حضرت سلمان ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے اُن سے پوچھا کہ میں بادشاہ ہوںیا خلیفہ؟ حضرت سلمان نے ان سے کہا: اگر آپ نے مسلمانوں کی زمین سے ایک درہم یا اس سے کم وبیش (ظلماً) لیا ہے اور پھر اسے نا حق خرچ کیاہے توآپ بادشاہ ہیں خلیفہ نہیں ہیں۔ اس پر حضرت عمر رو پڑے۔4
قبیلۂ بنو اَسد کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر ؓ کی مجلس میں موجو د تھا۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا جن میں حضرت طلحہ، حضرت سلمان، حضرت زُبیر اور حضرت کعب ؓ بھی تھے۔ فرمایا کہ میں تم سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنے لگا ہوں، تم مجھے غلط جواب نہ دینا ورنہ مجھے اور اپنے آپ کو ہلاک کردو گے۔ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ؟ حضرت طلحہ اورحضرت زُبیرنے فرمایا: آپ ہم سے ایسی بات پوچھ رہے ہیں جسے ہم جانتے نہیں ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ خلیفہ اور بادشاہ میں کیا فرق ہے؟ حضرت سلمان نے کہا: میں پورے انشراحِ صدر کے ساتھ گواہی دیتا ہوں کہ آپ خلیفہ ہیں اور بادشاہ نہیں ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: اگر تم یہ بات کہہ رہے ہو تو تمہیں ایسے فیصلہ کن انداز میں یہ بات کہنے کا حق ہے، کیوںکہ تم حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اُن کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے۔ پھر حضرت سلمان نے کہا: میں نے یہ بات اس وجہ سے کہی ہے کہ آپ رعایا میں انصاف کرتے ہیں اور ان میں (ہر چیز برابر) تقسیم کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ایسی شفقت ومحبت کا معاملہ کرتے ہیں جیسے کوئی آدمی اپنے گھر والوں کے ساتھ کرتا ہے، اور آپ ہر فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق کرتے ہیں۔
اس پر حضرت کعب نے فرمایا: میرا خیال نہیں تھا کہ اس مجلس میں میرے علا وہ بھی کوئی آدمی ایسا ہے جو خلیفہ اور بادشاہ کے فرق کو جانتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت سلمان کو حکمت اور علم سے بھر ا ہوا ہے۔ پھر حضرت کعب نے فرمایا: میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ آپ خلیفہ ہیں اور بادشاہ نہیں ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: آپ یہ گواہی کس بنیادپر دے رہے ہیں؟ حضرت کعب نے کہا: میں آپ کا ذکر اللہ کی کتاب (یعنی تورات) میںپاتاہوں۔ حضرت عمر نے پوچھا: کیا اس میں میرا ذکر میرے نام کے ساتھ ہے؟ حضرت کعب نے کہا:نہیں، بلکہ آپ کا ذکر آپ کی صفات کے ساتھ ہے۔ چناںچہ تورات میں اس طرح ہے کہ پہلے نبوت ہو گی پھر نبوت کے طریقے پر خلافت اور رحمت ہو گی، پھر نبوت کے طریقے پر خلافت اور رحمت ہوگی۔ اس کے بعد ایسی بادشاہت ہو گی جس میں کچھ ظلم بھی ہو گا۔1