صحابۂ کرام ؓکا باہمی اتحاد اور اتفاق رائے کا اہتمام کرنا
حضراتِ صحابۂ کرام ؓ کا امرِ خلافت میں حضرت ابو بکر ؓ کو مقدم سمجھنا
حضرت مسلم ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر ؓ نے حضرت ابو عبیدہ ؓ کو پیغام بھیجا کہ آئو، میں تمہیں (حضور ﷺ کا) خلیفہ بنا دوں، کیوںکہ میں نے حضور ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر امّت کے لیے ایک امین ہو تا ہے اور آپ اس امّت کے امین ہیں۔ حضرت ابو عبیدہ نے کہا: میں اس آدمی سے آگے نہیں بڑھ سکتا جسے حضور ﷺ نے (نماز میں) ہمارا امام بننے کا حکم دیا ہو (اور وہ خود آپ ہی ہوں)۔1
حضرت ابو البَخْترِی ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو عبیدہ ؓ سے فرمایا: تم اپنا ہاتھ آگے بڑھائو تاکہ میں تم سے بیعت ہو جائوں، کیوںکہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آپ اس امّت کے امین ہیں۔ حضرت ابو عبیدہ نے کہا: میں اس آدمی سے آگے نہیں بڑھ سکتا ہوں جسے حضور ﷺ نے (نماز میں) ہمارے امام بننے کا حکم دیا ہو اور انھوں نے حضور ﷺ کے انتقال تک ہماری امامت کی ہو (اور وہ حضرت ابو بکر ؓ ہیں، لہٰذا میں خلیفہ نہیں بن سکتا)۔ 2
ابنِ سعد اور ابنِ جریر نے حضرت ابراہیم تیمی سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اوراس میں یہ مضمون بھی ہے کہ حضرت ابو عبیدہ ؓ نے (حضرت عمر ؓ سے) کہا: جب سے تم اسلام لائے ہو میں نے اس سے پہلے تم سے عاجزی اور غفلت کی بات نہیں دیکھی ہے۔ کیا تم مجھ سے بیعت ہونا چاہتے ہو؟ حالاںکہ آپ لوگوں میں وہ صاحب موجودہیں جو صدّیقِ (اکبر) ہیں اور جو (غارِ ثور میں) دو میں سے دوسرے تھے یعنی حضور ﷺ کے غار کے ساتھی۔
اور خَیْثمہ اَطرابلسی حضرت حمران سے نقل کرتے ہیںکہ حضرت عثمان بن عفان ؓ نے فرمایاکہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ تمام لوگوں سے زیادہ امرِخلافت کے حق دار ہیں، کیوںکہ وہ صدّیق بھی ہیں اور (ہجرت کے موقع پر غارِثور کے) حضور ﷺ کے ساتھی بھی ہیں اور حضور ﷺ کے صحابی بھی ہیں۔1
حضرت سعد بن ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف ؓ فرماتے ہیںکہ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ حضرت عمر ؓ کے ساتھ تھے اور حضرت محمد بن مَسْلَمہ ؓ نے حضرت زُبیر ؓ کی تلوار توڑ دی۔ پھر حضرت ابو بکر ؓ نے کھڑے ہو کر لوگوں میں بیان فرمایااور ان کے سامنے اپنا عذر پیش کیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! کسی دن یا کسی رات بھی یعنی زندگی بھر کبھی بھی میرے دل میں امارت کی تمنا پیدا نہیں ہوئی اور نہ اس کی خواہش ہوئی اور نہ میں نے کبھی اللہ سے امارت کو چھپ کر یا علی الاعلان مانگا۔ لیکن مجھے (مسلمانوں میں) فتنہ (پیدا ہوجانے) کا ڈر ہوا (کہ اگر میں امارت قبول نہ کرتا تو مسلمانوں میں جوڑ باقی نہ رہتا بلکہ ان میں توڑ پیدا ہو جاتا) اور میرے لیے امارت میں راحت کا کوئی سامان نہیں ہے۔ اور ایک بہت بڑے امر (یعنی امرِ خلافت) کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی گئی ہے جو میری قوت اور طاقت سے باہر ہے۔ ہاں! اللہ تعالیٰ قوت عطا فرماوے (تو پھر وہ ذمہ داری ٹھیک طرح سے ادا ہو سکتی ہے)۔ اور میں دل سے یہ چاہتا ہوں کہ لوگوں میں سے جو سب سے زیادہ قوی آدمی ہے وہ آج میری جگہ اس امارت پر آجائے۔ حضراتِ مہاجرین نے حضرت ابو بکر ؓ کی اس بات کو اور اُن کے عذر کو قبول کرلیا، البتہ حضرت علی اور حضرت زُبیر ؓ نے فرمایاکہ ہمیں تو صرف اس بات پر غصہ آیا تھا کہ ہمیں مشورہ میں شریک نہیں کیا گیا، ورنہ ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد لوگوں میں خلافت کے سب سے زیادہ حق دار حضرت ابو بکر ہیں۔ یہ حضور ﷺ کے غار کے ساتھی ہیں اور (قرآن کے الفاظ کے مطابق) یہ {ثَانِیَ اثْنَیْنِ} دو میں سے دوسرے ہیں۔ ہم ان کی شرافت اور بزرگی کو خوب پہچانتے ہیں، اور حضور ﷺ نے اپنی زندگی میں انھیں لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیاتھا۔1
حضرت سُوید بن غَفَلہؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سفیان ؓ حضرت علی اور حضرت عباس ؓ کے پاس (اُن کے گھر ) گئے اور یوں کہا: اے علی! اور اے عباس! (یہ بتائو کہ) یہ خلافت کا کام کیسے قریش کے سب سے زیادہ کم عزّت اور سب سے زیادہ چھوٹے خاندان میں چلا گیا؟ اللہ کی قسم! اگر تم چاہو تومیں (ابو بکر ؓ کے خلاف) سوار اور پیادہ لشکر سے سارا مدینہ بھر دوں۔ حضرت علی نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! میں تو نہیں چاہتا کہ تم (ابو بکر کے خلاف) سوار اور پیادہ لشکر سے سارا مدینہ بھر دو۔ اور اے ابو سفیان! اگر ہم حضرت ابو بکر کو اس خلافت کا اہل نہ سمجھتے تو ہم ہر گز اُن کے لیے خلافت کو نہ چھوڑتے۔ بے شک مومن تو ایسے لوگ ہیں کہ سب ایک دوسرے کا بھلا چاہنے والے ہوتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں اگرچہ اُن کے وطن اور جسم دور ہوں۔ اور منافقین ایسے لوگ ہیںجو ایک دوسرے کو دھوکہ دینے والے ہوتے ہیں۔2
حضرت ابو احمد دَہقان نے اسی کے ہم معنیٰ روایت ذکر کی ہے، جس میں مزید یہ مضمون بھی ہے کہ منافقوں کے بدن اور وطن اگر چہ قریب ہوں، لیکن وہ ایک دوسرے کو دھوکہ دینے والے ہوتے ہیں۔ اور ہم تو حضرت ابو بکر ؓ سے بیعت ہو چکے ہیں اور وہ اس کے اہل ہیں۔3
حضرت ابنِ اَبجر ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی بیعت ہوگئی تو حضرت ابو سفیان ؓ نے حضرت علی ؓ کو آکر کہا: کیا تم لوگوں پر اس خلافت کے بارے میں قریش کا ایک کم درجہ کا گھرانہ غالب آگیا؟ غورسے سنو! اللہ کی قسم! اگر تم چاہو تو میں (ابو بکر ؓ کے خلاف) سوار اور پیادہ لشکر سے سارا مدینہ بھر دوں۔ حضرت علی نے فرمایا: تم زندگی بھر اِسلام اور اہلِ اسلام سے دشمنی کرتے رہے، لیکن اس سے اسلام اور اہلِ اسلام کا کچھ بھی نقصان نہیں ہوا۔ ہم حضرت ابو بکر کو خلافت کا اہل سمجھتے ہیں۔1
حضرت مُرَّہ طیّب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سفیان بن حرب ؓ نے حضرت علی ؓ کے پاس آکر کہاکہ یہ کیا ہواکہ خلافت قریش کے سب سے کم درجہ والے اور سب سے کم عزّت والے آدمی یعنی حضرت ابو بکر ؓکو مل گئی؟ اللہ کی قسم! اگر تم چاہو تو میں سارے مدینہ کو ابو بکر کے خلاف سوار اور پیادہ لشکرسے بھر دوں۔ حضرت علی نے فرمایا: اے ابو سفیان! تم اسلام اور اہلِ اسلام کی بہت دشمنی کر چکے ہو، لیکن تمہاری دشمنی سے اسلام اور اہلِ اسلام کا کچھ بھی نقصان نہیں ہوا۔ ہم نے حضرت ابو بکر کو اس (امرِ خلافت) کا اہل پایا(تبھی تو ہم ان سے بیعت ہوئے)۔2
حضور ﷺ کے پہرے دار حضرت صخر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں حضرت خالد بن سعید بن العاص ؓ یمن میں تھے اور جب حضور ﷺ کا انتقال ہوا اس وقت بھی حضرت خالدیمن میں ہی تھے۔ حضور ﷺ کے انتقال کے ایک ماہ بعد حضرت خالد (مدینہ منورہ) آئے۔ انھوں نے دِیباج کا ریشمی جُبّہ پہن رکھا تھا۔ ان کی حضرت عمر بن خطّاب اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے ملاقات ہوئی۔ حضرت عمر نے آس پاس کے لوگوں کو بلند آواز سے کہا: اس کے جُبّہ کو پھاڑ دو۔ کیا یہ ریشم پہن رہا ہے؟ حالاںکہ زمانۂ اَمن میں ہمارے مردوں کے لیے اس کا استعمال درست نہیں ہے۔ چناںچہ لوگوں نے اُن کا جُبّہ پھاڑ دیا۔ اس پر حضرت خالد نے کہا: اے ابوالحسن! اے بنو عبدِمناف! کیا امرِ خلافت میں تم لوگ مغلوب ہوگئے ہو؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا: کیاتم اسے ایک دوسرے پر غلبہ پانے کی کوشش سمجھتے ہو یا خلافت؟ حضرت خالد نے کہا: اے بنو عبدِ مناف! تم سے زیادہ حق دار آدمی اس امرِخلافت پر غالب نہیں آسکتا۔ (حضرت ابو بکر صدیق تو بنو عبدِ مناف میں سے نہیں ہیں اس لیے وہ کیسے خلیفہ بن گئے؟ چوںکہ حضرت خالد کی یہ بات مسلمانوں میں اختلاف کا سبب بن سکتی تھی اس وجہ سے سمجھانے کے لیے) حضرت عمرنے حضرت خالدسے کہا: اللہ تیرے دانتوں کو توڑ کر گرا دے! اللہ کی قسم! تم نے جو بات کہی ہے جھوٹے آدمی اس کے بارے میں سوچ بچار کرتے رہیں گے اور پھر صرف اپنا ہی نقصان کریں گے۔1
حضرت خالد بن سعید بن العاص ؓکی صاحب زادی حضرت اُمّ خالد کہتی ہیں: حضرت ابو بکر ؓکی بیعت ہوجانے کے بعد میرے والد یمن سے مدینہ آئے تو انھوں نے حضرت علی اور حضرت عثمان ؓ سے کہا: اے بنو عبدِ مناف! کیا تم اس بات پر راضی ہوگئے ہو کہ دوسرے لوگ اس امرِخلافت میں تمہارے والی بنیں؟ یہ بات حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو بکر کو پہنچائی، لیکن حضرت ابو بکر نے اس سے کوئی اثر نہ لیا۔ البتہ حضرت عمرنے حضرت خالد کی اس بات سے اثر لے کر اسے دل میں بٹھا لیا۔ چناںچہ حضرت خالدنے حضرت ابو بکر سے تین ماہ تک بیعت نہ کی۔ اس کے بعد ایک مرتبہ دوپہر کے وقت حضرت ابو بکر کا حضرت خالد کے پاس سے گزر ہوا۔ حضرت خالد اس وقت اپنے گھر میں تھے۔ حضرت ابو بکرنے اُن کو سلام کیا۔ حضرت خالد نے ان سے کہا: کیاآپ چاہتے ہیں کہ میں آپ سے بیعت ہو جائوں؟ حضرت ابو بکر نے (اپنی طرف متوجہ نہ کیا بلکہ عام مسلمانوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے) کہا: جس صلح میں تمام مسلمان داخل ہوئے ہیں میں چاہتا ہوں تم بھی اس میں داخل ہو جائو۔ حضرت خالد نے کہا: آج شام کا آپ سے وعدہ ہے، میں آپ سے شام کو بیعت ہو جائوں گا۔ چناںچہ شام کو حضرت خالد آئے اس وقت حضرت ابو بکر منبر پر بیٹھے ہوئے تھے، حضرت خالد ان سے بیعت ہو گئے۔
ان کے بارے میں حضرت ابو بکر ؓکی رائے اچھی تھی اور حضرت ابو بکر ان کی تعظیم کرتے تھے۔ چناںچہ جب حضرت ابو بکر شام کی طرف لشکر روانہ فرمانے لگے تو انھوں نے حضرت خالد کو مسلمانوں کا امیر بنا کر انھیں امارت کا جھنڈا دے دیا۔ حضرت خالد وہ جھنڈا لے کر اپنے گھر گئے۔ (جب حضرت عمر ؓکو اس کا پتہ چلا تو) حضرت عمر نے ( اس بارے میں) حضرت ابو بکر سے گفتگو کی اور کہاکہ آپ حضرت خالد کو امیر بنا رہے ہیں، حالاںکہ انھوںنے ہی (آپ کے خلیفہ بننے کے خلاف) وہ بات کہی تھی۔ حضرت عمر بار بار حضرت ابو بکر کو اپنی بات کہتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابو بکر نے ( اُن کی رائے کو قبول کرلیا اور حضرت خالد کو امارت سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔ اوراس کے لیے) حضرت ابو اَرویٰ دوسی کو (حضرت خالد کے پاس) یہ پیغام دے کر بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ آپ سے کہہ رہے ہیں ہمارا (امارت والا) جھنڈا ہمیںواپس کر دو۔ چناںچہ انھوں نے وہ جھنڈا نکال کر حضرت ابو اَرویٰ کو دے دیااورکہاکہ نہ تمہارے امیر بنانے سے ہمیں کوئی خوشی ہوئی تھی اور نہ اب تمہارے معزول کرنے سے ہمیں کوئی رنج وصدمہ ہوا ہے، اور قابلِ ملامت توآپ کے علاوہ کوئی اور ہے۔ (یہ حضرت عمر ؓکی طرف اشارہ ہے) حضرت اُمّ خالد کہتی ہیں کہ ابھی کچھ وقت نہ گزرا تھا کہ حضرت ابو بکر میرے والد کے پاس آکر ان سے معذرت کرنے لگے اور وہ انھیں قسم دے کر کہہ رہے تھے کہ وہ کبھی حضرت عمرکا برائی سے تذکرہ نہ کریں۔ چناںچہ میرے والد مرتے دم تک حضرت عمرکے لیے دُعائے خیر کرتے رہے۔1
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میرے والد سواری پر سوار ہو کر تلوار سونتے ہوئے ذِی القَصَّہ مقام کی طرف نکلے۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے آکر اُن کی سواری کی لگام پکڑی اور کہا: اے رسول اللہ کے خلیفہ! آپ کہاں جا رہے ہیں؟ میں آج آپ سے وہی بات کہتا ہوں جو حضور ﷺ نے غزوۂ اُحُد کے دن آپ کو فرمائی تھی کہ آپ اپنی تلوار کو میان میں رکھ لیں اور آپ (زخمی یا شہید ہو کر) ہمیںاپنے بارے میں پریشان نہ کریں، کیوںکہ اللہ کی قسم! اگر ہمیں آپ (کی موت) کا صدمہ پہنچا تو پھر آپ کے بعد کبھی بھی اسلام کا نظام باقی نہیں رہ سکے گا۔ چناںچہ میرے والد خود واپس آگئے اور لشکر کو روانہ کر دیا۔2