حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری

عورتوں کا اللہ کے راستہ میں نکل کر لڑائی کرنا

حضرت سعید بن ابی زید اَنصاری ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت اُمِّ سعد بنتِ سعد بن ربیع ؓ فرمایا کرتی تھیں کہ میں حضرت اُمّ عمارہ ؓ کے پاس گئی اور میں نے اُن سے کہا: اے خالہ جان! مجھے اپنی بات بتائیں۔ انھوں نے کہا کہ میں دن کے شروع میں صبح صبح نکل کر دیکھنے لگی کہ مسلمان کیا کر رہے ہیں؟ میرے پاس پانی کا ایک مشکیزہ تھا، میں چلتے چلتے حضور ﷺ تک پہنچ گئی۔ آپ اپنے صحابہ کے بیچ میں تھے اس وقت مسلمان غالب آرہے تھے اور اُن کے قدم جمے ہوئے تھے۔ پھر جب مسلمانوں کو شکست ہونے لگی تو میں سمٹ کر حضور ﷺ کے پاس آگئی اور (آپ کے سامنے) کھڑے ہو کر لڑنے لگی اور تلوار کے ذریعے کافروں کو حضور ﷺ سے دور ہٹانے لگی اور کمان سے تیر بھی چلانے لگی، مجھے بھی بہت سے زخم لگے۔ حضرت اُمّ سعد فرماتی ہیں کہ میں نے اُن کے کندھے پر ایک زخم دیکھا جو اندر سے بہت گہرا تھا۔ میں نے حضرت اُمّ عمارہ سے پوچھا کہ یہ زخم آپ کو کس نے لگا یا تھا؟ انھوں نے کہا: ابنِ قَمِئہ کافر نے۔ اللہ اسے ذلیل کرے! اس کی صورت یہ ہوئی کہ جب مسلمان حضور ﷺ کو چھوڑ کر بھا گنے لگے تو ابنِ قَمِئہ یہ کہتا ہوا آگے بڑھا کہ مجھے بتائو کہ محمد (ﷺ) کہاں ہیں؟ اگر وہ بچ گئے تو پھر میں نہیں بچ سکتا ہوں ( یعنی وہ نہیں یا میں نہیں)۔ پھر میں اور حضرت مُصْعَب بن عمیر اور کچھ اور صحابہ جو آپ کے ساتھ جمے ہوئے تھے اس کے سامنے آگئے۔ اس وقت اس نے مجھ پر تلوار کا وار کیا تھا جس سے مجھے یہ زخم آگیا تھا۔ میں نے بھی اس پر تلوار کے کئی وار کیے تھے، لیکن اللہ کے دشمن نے دو زرہیں پہنی ہو ئی تھیں۔ 1 حضرت عُمارہ بنتِ غزیّہ ؓ سے روایت ہے کہ اُن کی والدہ حضرت اُم عمارہ نے غزوۂ اُحد کے دن ایک گھوڑے سوار مشرک کو قتل کیا تھا۔ اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جنگ ِاُحد کے دن دائیں بائیں جس طرف بھی میں منہ کرتا مجھے اُم عمارہ بچانے کے لیے اس طرف لڑتی ہوئی نظر آتی۔ 2 حضرت حمزہ بن سعید فرماتے ہیںکہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس چند اُونی چادریں لائی گئیں۔ ان میں ایک بہت عمدہ اور بڑی چادر تھی۔ کسی نے کہا کہ اس کی قیمت تو اتنی ہوگی یعنی بہت زیادہ قیمت بتائی۔ آپ اسے (اپنے بیٹے) حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی بیوی حضرت صفیہ بنتِ ابی عبید ؓ کے پاس بھیج دیں۔ ان دنوں حضرت صفیہ نکاح کے بعد حضرت ابنِ عمر کے گھر نئی نئی آئی تھیں (یعنی ابھی رخصتی ہوئی تھی وہ دلہن تھیں)۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں یہ چادر ایسی عورت کے پاس بھیجوں گا جو ابنِ عمر کی بیوی سے زیادہ حق دار ہے۔ اور وہ ہیں اُم عمارہ نُسَیبہ بنتِ کعب ؓ۔ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ (جنگ ِاُحد کے دن) میں دائیں بائیں جس طرف بھی منہ کرتا مجھے اُمّ عمارہ بچانے کے لیے اس طرف لڑتی ہوئی نظر آتی۔ 3 حضرت ہشام اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ جنگ ِاُحد کے دن جب مسلمانوں کو شکست ہوگئی تو حضرت صفیہ ؓ آئیں۔ ان کے ہاتھ میں نیزہ تھا جسے وہ مسلمانوں کے چہرے پر مار کر واپس کر رہی تھیں۔ اس پر حضور ﷺ نے (حضرت صفیہ کے صاحب زادے حضرت زُبیر ؓ سے) کہا: اے زُبیر ! اس عورت کی حفاظت کرو (یہ تمہاری والدہ ہیں)۔ 1 حضرت عباد فرماتے ہیں کہ (غزوۂ خندق کے موقع پر) حضرت صفیہ بنتِ عبد المطّلب ؓ حضرت حسان بن ثابت ؓ کے فارغ نامی قلعہ میں تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت حسان بھی اس قلعے میں ہم عورتوں اور بچوں کے ساتھ تھے۔ ایک یہودی مرد ہمارے پاس سے گذرا اور وہ قلعہ کا چکر لگانے لگا۔ بنو قریظہ کے یہودیوں نے بھی (حضور ﷺ سے) جنگ کر رکھی تھی اور حضور ﷺ سے تعلقات توڑ رکھے تھے۔ ہمارے اور یہودیوں کے درمیان کوئی مسلمان مرد نہیں تھا جو ہمارا دفاع کرتا۔ حضور ﷺ اور مسلمان دشمن کے سامنے پڑے ہوئے تھے، انھیں چھوڑ کر ہمارے پاس نہیں آسکتے تھے۔ اتنے میں ایک یہودی ہماری طرف آیا۔ میں نے کہا: اے حسان! جیسے تم دیکھ رہے ہو یہ یہودی قلعہ کا چکر لگا رہا ہے۔ اور اللہ کی قسم! مجھے اس کا خطرہ ہے کہ کہیں یہ ہمارے اندر کے حالات معلوم کر کے ان دوسرے یہودیوں کو نہ بتا دے جو ہمارے پیچھے ہیں، جب کہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ (کفار سے جنگ میں) مشغول ہیں۔ آپ نیچے اُتر کر جائو اور اسے قتل کر دو۔ حضرت حسان نے کہا: اے بنتِ عبدالمطّلب! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے! اللہ کی قسم! آپ جانتی ہیں کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا ہوں۔ جب حضرت حسان نے مجھے یہ جواب دیا اور مجھے ان میں کچھ ہمت نظر نہ آئی تو میں نے اپنی کمر کسی، پھر میں نے خیمہ کا ایک بانس لیا، پھر میں قلعہ سے اُتر کر اس یہودی کی طرف گئی اور وہ بانس مار مار کر اسے قتل کر دیا۔ جب میں اس سے فارغ ہو گئی تو میں قلعہ میں واپس آگئی۔ پھر میں نے کہا: اے حسان! نیچے جائو اور اس کا سامان اور کپڑے اتار لائو۔ چوں کہ یہ نا محرم مرد تھا اس لیے میں نے اس کے کپڑے نہیں اُتارے۔ تو حضرت حسان نے کہا: اے بنتِ عبد المطّلب! مجھے اس کے کپڑے وغیرہ اُتارنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ 1 ہشام بن عروہ کی روایت میں یہ ہے: حضرت صفیہ ؓ وہ سب سے پہلی مسلمان عورت ہیں جنھوں نے کسی مشرک مرد کو قتل کیا ہے ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ ؓ غزوۂ حنین کے دن حضور ﷺ کو ہنسانے کے لیے آئے اور کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے اُمّ سلیم ؓ کو نہیں دیکھا؟ ان کے پاس ایک خنجر ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت اُمّ سلیم سے کہا: اے اُمّ سلیم! تم خنجر سے کیا کرنا چاہتی ہو؟ انھوں نے کہا: اگر ان کافروں میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اسے یہ خنجرمار دوں گی۔ 2 ’’مسلم ‘‘کی روایت میں حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت اُمّ سلیم ؓ نے ایک خنجر تیار کیا جو اُن کے پاس تھا۔ حضرت ابو طلحہ ؓ نے انھیں دیکھا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ اُمّ سلیم کے پاس ایک خنجر ہے۔ حضور ﷺ نے اُمّ سلیم سے پوچھا: یہ خنجر کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے اس لیے لیا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں یہ خنجر اس کے پیٹ میں گھونپ دوں گی۔ یہ سن کر حضور ﷺ ہنسنے لگے۔ حضرت مہاجر بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ کی چچا زاد بہن حضرت اسماء بنتِ یزید بن سکن ؓ نے خیمے کے بانس سے جنگِ یرموک کے دن نو رُومی کافر قتل کیے تھے۔3